قراءت نام رکھنا اور اس کا مطلب؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لڑکی کا نام قرات رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
لڑکی کا قرات نام رکھنا کیسا ؟
جواب
قراءت نام رکھنا فی نفسہ جائز ہے اس کا معنی ہے پڑھنا ، تلفظ کرنا۔ البتہ بہتر یہ ہےکہ بچی کا نام ازواجِ مطہرات یا دیگر صحابیات رضی اللہ عنہن وغیرہ نیک بیبیوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے تا کہ ان کی برکات حاصل ہوں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ان من حق الولد علی الوالد أن یحسن اسمہ و یحسن أدبہ‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اولاد کا والد پر حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے۔ (البحر الزخار، جلد 15، صفحہ: 176، حدیث: 8540، مطبوعہ، المدینۃ المنورۃ)
حضرت علامہ عبد الرؤف مناوى علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت نقل کرتے ہیں : ’’(حق الولد علی الوالد أن یحسن اسمہ) أی یسمیہ باسم حسن لا قبیح وقلما تری اسما قبیحا الا و ھو علی انسان قبیح واللہ سبحانہ بحکمتہ فی قضائہ یلھم النفوس أن تضع الأسماء علی حسب مسمیاتھا لتناسب حکمتہ بین اللفظ و معناہ کما یناسب بین الأسباب و مسبباتھا‘‘ ترجمہ: (بچے کا والد پر یہ حق ہے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے) یعنی اس کا اچھا نام رکھے، برا نام نہ رکھے، اور کم ہی کوئی برا نام ایسا ہوگا جس کا حامل انسان برا نہ ہو، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور فیصلے کے تحت دلوں میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ وہ ناموں کو ان کے معنیٰ اور حقیقت کے مطابق رکھیں، تاکہ لفظ اور معنیٰ کے درمیان مناسبت قائم رہے، جیسا کہ وہ اسباب اور نتائج کے درمیان مناسبت رکھتا ہے۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، جلد 3، صفحہ: 480، مطبوعہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری
فتوی نمبر: FatwaQA-041
تاریخ اجراء: 09 ربیع الثانی 1448ھ/23 ستمبر 2026ء