logo logo
AI Search

منسا فاطمہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

منسا فاطمہ نام رکھنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا بچی کا نام "منسا فاطمہ" رکھ سکتے ہیں؟

جواب

مِنسا (میم کے زیر اور نون کے سکون کے ساتھ)، اسم آلہ کا صیغہ ہے، جس کا معنیٰ ہے "بھول جانے کا آلہ" اس معنیٰ کے لحاظ سے یہ نام مناسب نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صرف فاطمہ رکھ لیں یادوسری صحابیات، صالحات رضی اللہ تعالی عنھن کے نام پر رکھیں کہ اس سے امیدہے کہ ان کی برکات بچی کے شامل حال ہوں گی، نیز اس سے حدیث پاک پر عمل بھی ہوگا، کہ حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے اچھے لوگوں کے نام پہ نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے۔

المنجد میں ہے "نَسِیَ یَنْسٰی: بھولنا۔" (المنجد، صفحہ 899، مطبوعہ: لاہور)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃمراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء اللہ بخشا جائے گا۔" ( مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام بھی لکھے ہوئے ہیں، وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔ نیچے دئے گئے لنک سے یہ کتاب ڈاؤن لوڈ بھی کی جا سکتی ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5430
تاریخ اجراء: 07 ربیع الآخر 1448ھ / 19 ستمبر 2026ء