logo logo
AI Search

بنت حوا نام رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچی کا نام بنت حوا رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا بنت حوا نام رکھ سکتے ہیں ؟

جواب

اصل میں یہ کنیت ہے اور اسے بطور نام بھی رکھا جا سکتا ہے، حوا، حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی زوجہ مطہرہ اور تمام نوع بنی آدم کی والدہ مطہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام ہے، اور بنت بیٹی کو کہتے ہیں، لہذا یہ نام رکھ سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ احادیث میں اچھے ناموں کی ترغیب دی گئی ہے۔

نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کے متعلق کنز العمال میں ہے: ”تسموا بخياركم “ ترجمہ: نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھو۔ (کنز العمال، جلد 16، صفحہ: 423، مطبوعہ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے، ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں جن کے کچھ معنی نہیں یا ان کے برے معنی ہیں ایسے ناموں سے احتراز کریں، انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ ان کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔“ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ: 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری

فتوی نمبر: FatwaQA-039

تاریخ اجراء: 09 ربیع الثانی 1448ھ/22 ستمبر 2026ء