logo logo
AI Search

نام عبدالصبور ہو تو اسے صرف "صبور" کہنا کیسا؟ شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جس کا نام عبد الصبور ہو اس کو صرف "صبور" کہنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جس کا نام ”عبد الصبور“ ہو، کیا اسے ”صبور“ کہہ سکتے ہیں؟

جواب

"الصبور"اللہ عزوجل کا صفاتی نام ہے،جس کا معنی ہے:”وہ جو گنہگاروں کو عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔“ اور ”عبد“ کا معنی ہے: بندہ۔ لہٰذا عبد الصبور نام رکھنا جائز ہے۔ جس کا نام عبدالصبور ہواسے عبد الصبور کہہ کر ہی پکاراجائے ،البتہ اگر اسے صرف صبور کہہ دیا تو بھی گناہ نہیں کیونکہ یہ وہ نام نہیں جو اللہ عزوجل کے لئے ہی خاص ہو، بلکہ اس کا اطلاق بندوں پر بھی ہوسکتا ہے ۔

مُفَسِّر شہیر،حکیم الامت مفتی احمد یارخان علیہ رحمۃ الحنان’’صبور‘‘کی وضاحت کرتے ہوئےفرماتے ہیں: ”صبُورصبرسے بنابمعنی روکنا، ٹھہرنا، اگر یہ بندے کی صفت ہو تو اس کے معنٰے ہوتے ہیں گھبراہٹ سے اپنے کو روکنا۔ اگر رب تعالیٰ کی صِفَت ہو تو معنٰے ہوتے ہیں مجرموں کے عذاب میں جلدی نہ فرمانا، وقت سے پہلے کوئی کام نہ کرنا۔ صبُور وہ جو جلدی نہیں مگر دیر سے سزا دے، حلیم وہ جو کبھی سزا نہ دے۔ رب تعالیٰ کفار کے لیے صبُور ہے اور گنہگار مومن کے لیے حلیم ہے، کریم ہے، رحیم ہے۔“(مراۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 332، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2605

تاریخ اجرا: 23جمادی الاولٰی1447ھ / 15 نومبر 2025ء