logo logo
AI Search

بچی کا نام قصواء رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام قصواء رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ ہم آقا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی مبارک اونٹنی کی نسبت سے، اپنی شہزادی کا نام قصواء رکھ سکتے ہیں؟ برائے کرم شرعی رہنمائی ارشاد فرمادیں۔

جواب

یہ حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مبارک اونٹنی کا نام تھا، اس کی نسبت سے آپ اپنی شہزادی کا نام قصواء رکھ سکتے ہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام ازواج مطہرات، نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادیوں، اور دیگر نیک خواتین میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچی کے شامل حال رہے گی۔

مختار الصحاح للرازی میں ہے ”قصا البعير و الشَّاة: قطع من طرف أذنه . . . و يقال شَاةٌ قَصْوَاء، وَ ناقة قصْوَاء ۔ ۔ ۔ و كان لرسول اللہ صلى اللہ عليه و آلہ و سلَّم نَاقَة تسمى قصواء وَ لَمْ تَكُن مقطوعة الأذن“ یعنی قصا البعير و الشاة کا معنی ہے: اونٹ یا بکری کے کان کے کنارے میں سے کچھ حصہ کاٹ دینا۔ اور کہا جاتا ہے: شاة قصواء یعنی ایسی بکری جس کے کان کا کنارہ کٹا ہوا ہو، اور ناقۃ قصواء یعنی ایسی اونٹنی جس کے کان کا کنارہ کٹا ہوا ہو۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اونٹنی کا نام قصواء تھا، حالانکہ اس کا کان کٹا ہوا نہیں تھا۔ (مختار الصحاح للرازی، صفحہ: 294، مطبوعہ: قاہرہ)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: تسموا بخياركم“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: اچھے نام کا اثر، نام والے پر پڑتا ہے۔ ۔ ۔ بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہل بیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے۔ جیسے ابراہیم و اسماعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ۔ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ ان شاء اللہ بخشا جائے گا اور دنیا میں اس کی برکات دیکھے گا۔ (مراۃ المناجیح، ج 5، ص 30، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5136
تاریخ اجراء: 27 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 24 جون 2025ء