شافعی شخص حنفی ہو جائے تو قضا نمازیں کس طرح ادا کرے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شافعی شخص حنفی ہو گیا، تو قضا نمازیں کس طرح پڑھے گا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص شافعی تھا، پھر حنفی ہو گیا۔ اس کے ذمے اس وقت کی کچھ قضا نمازیں باقی ہیں، جب وہ شافعی تھا، اب ان نمازوں کی قضا شافعی طریقے کے مطابق لازم ہو گی یا حنفی طریقہ نماز کے مطابق لازم ہو گی؟
جواب
اگر کوئی شافعی یا کسی اور فقہی مذہب کا پیروکار تھا، بعد میں حنفی ہو گیا، تو حنفیت اپنانے سے پہلے اس کی جو نمازیں قضا ہوئیں، وہ انہیں حنفی طریقہ کار کے مطابق قضا کرے گا۔
علامہ ابن نجیم حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”قد فاتته صلوات في وقت كان شفعويا ثم أراد أن يقضيها في الوقت الذي صار حنفيا يقضي على مذهب أبي حنيفة“ ترجمہ: کسی شخص کی ایسے وقت میں نمازیں فوت ہوئیں کہ وہ شافعی تھا، پھر وہ انہیں اس وقت میں قضا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ جب وہ حنفی ہو گیا، تو وہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے مطابق قضا کرے گا۔ (البحر الرائق، ج 2، ص 91، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”شافعي المذهب إذا صار حنفي المذهب وقد فاتته صلوات في وقت كان شافعيا أراد أن يقضيها في الوقت الذي صار حنفيا يقضي على مذهب أبي حنيفة كذا في الخلاصة“ ترجمہ: شافعی مذہب والا حنفی ہو گیا اور شافعی ہونے کی حالت میں اس کی کچھ نمازیں فوت ہوئی تھیں، جنہیں وہ حنفی ہونے کی حالت میں قضا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تو وہ انہیں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے مطابق قضا کرے گا، اسی طرح خلاصہ میں مذکور ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 1، ص 124، دار الفکر، بیروت)
صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”شافعی المذہب کی نماز قضا ہوئی، اس کے بعد حنفی ہو گیا، تو حنفیوں کے طور پر قضا پڑھے۔“ (بہارِ شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 708، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Pin-7818
تاریخ اجراء: 15 ربیع الاول 1448ھ/29 اگست 2026ء