logo logo
AI Search

نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا ثبوت

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نماز کے بعد دعا مانگنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا، کہاں سے ثابت ہے؟

جواب

نماز کے بعددعا مانگنا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے بلکہ حدیث پاک میں ہے کہ فرض نمازوں کے بعددعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ نیز اس دعا میں ہاتھ اٹھانا بھی حدیث پاک سے ثابت ہے۔

 فرض نمازوں کے بعددعاکی زیادہ قبولیت کے حوالے سے سنن ترمذی میں ہے: ”عن أبي أمامة، قال:قيل يا رسول اللہ: أي الدعاء أسمع؟ قال: «جوف الليل الآخر، و دبر الصلوات المكتوبات»: هذا حديث حسن“ ترجمہ: حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا: عرض کی گئی: اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم! کونسی دعازیادہ قبول ہوتی ہے؟ فرمایا: رات کے آخری حصے میں مانگی جانے والی اور فرض نمازوں کے بعد مانگی جانے والی۔

امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ (سنن ترمذی، ابواب الدعوات، ص 1279، بیروت)

نماز کے بعد مانگی جانے والی دعا میں ہاتھ اٹھانے کا ثبوت:

المجم الکبیرمیں ہے: ”حدثنا سليمانُ بن الحسنِ العطّارُ، قال: دثنا أبو كاملٍ الجحدريُّ، قال: دثنا الفضَيلُ بن سليمانَ، قال: دثنا محمد بن أبي يحيى، قال: رأيت عبد اللہ بن الزبير و رأى رجلاً رافعاً يديه بدعوات قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها، قال: «إن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته»“ ترجمہ: محمدبن ابی یحی نے بیان کیاکہ میں نے حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگ رہاتھا، پس جب وہ نمازسے فارغ ہوا تو حضرت عبد اللہ ابن زبیررضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے فرمایا: "بے شک اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اپنے ہاتھوں کو نہ اٹھاتے جب تک اپنی نماز سے فارغ نہ ہوجاتے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، ج 13، ص 129، قاھرہ)

 مجمع الزوائدمیں اس روایت کوذکر کرنے کے بعدتحریر فرمایا کہ اس کے راوی ثقہ ہیں ۔چنانچہ عبارت یہ ہے ”رواه الطبراني، و ترجم له فقال: محمد بن أبي يحيى الأسلمي، عن عبد اللہ بن الزبير، و رجاله ثقات۔“ (مجمع الزوائدومنبع الفوائد، کتاب الادعیۃ، باب ماجاء فی الاشارۃ فی الدعاء و رفع الیدین، ج 10، ص 169، القاھرۃ)

اس روایت سے ثابت ہوا کہ نماز کے اندر مانگی جانے والی دعاؤں میں ہاتھ اٹھانا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے ثابت نہیں ہے لیکن نماز کے بعد مانگی جانے والی دعاؤں میں ہاتھ اٹھانا، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے ثابت ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11112
تاریخ اجراء: 13 جمادی الآخرۃ 1443ھ / 17 جنوری 2022ء