logo logo
AI Search

مقتدی کا قعدہ اولیٰ میں مکمل تشہد نہ پڑھنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کسی مقتدی نے قعدۂ اولیٰ میں تشہد مکمل نہیں پڑھی، تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر مقتدی قعدۂ اولیٰ میں تشہد مکمل نہ پڑھے، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر مقتدی نے بھولے سے تشہد میں سے کچھ حصہ چھوڑدیا یاتشہد پڑھا ہی نہیں اور امام کے ساتھ کھڑا ہوگیا، تو اس کی نماز ہوجائے گی کہ اگر مقتدی امام کے پیچھے کوئی واجب بھولے سے چھوڑتا ہے، تو اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہوتا اور اس کی نماز درست ہوجاتی ہے، البتہ اگر یہ کام مقتدی قصداً یعنی جان بوجھ کر کرےگا، تو اب جان بوجھ کر واجب چھوڑ دینے کی وجہ سےاس پر اس نماز کا لوٹا نا واجب ہوگا۔

مفتی وقار الدین رحمۃاللہ علیہ سے سوال ہوا: ”امام کے پیچھے اگر مقتدی سے سہواً یا قصداً کوئی واجب چھوٹ گیا مثلاً تعدیلِ ارکان (قومہ یا جلسہ) نہیں کیا یا تشہد نہیں پڑھا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟“

اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”کسی واجب کو قصداً (جان بوجھ کر) امام کے پیچھے چھوڑنے سے نماز دوبارہ پڑھنا ہوگی۔ اور اگر امام کے پیچھے سہواً (بھول سے) کوئی واجب چھوٹ گیا تو پھر سجدہ سہو واجب نہ ہوگااور نماز ہوجائے گی۔“ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 210، بزم وقار الدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2440
تاریخ اجراء: 17 صفر المظفر 1447ھ / 12 اگست 2025ء