عین مسجد میں سیڑھی اور راستہ بنانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عین مسجد میں راستہ بنانا۔
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
عین مسجدکی صفوں کو توڑ کر وہاں سیڑھی بنانا اور راستہ نکالنا، سخت ناجائزو حرام ہے کہ اس میں تغییروقف اور مسجدکو ویران کرنا ہے مطلب یہ کہ جو جگہ پہلے عین مسجد یعنی نماز پڑھنے کے لیے تھی اسے اب سیڑھی اور راستہ بنادیا تو اس سے پہلی ہئیت و حالت تبدیل ہوگئی اور وقف میں اس طرح کرنا، جائز نہیں اور نیز پہلے اس مقام پر نماز ہوتی تھی، اب اس پر نماز نہیں پڑھی جا سکے گی تو یہ اس جگہ پر اللہ تعالی کا ذکر کرنے، نماز پڑھنے سے روکنا ہے، اور یہی مسجد کو ویران کرنا ہے اور مسجد ویران کرنے والوں کی سخت مذمت اور ان کے حق میں سخت وعید قرآن پاک میں بیان فرمائی گئی ہے۔ نیز اس میں وقف کے مال کو ضائع کرنا بھی ہے لہذا جن لوگوں نے ایسا کیا ہے، ان پر توبہ فرض ہے اور فرض ہے کہ یہ سیڑھی وغیرہ ختم کر کے، عین مسجدکی صفیں جس طرح پہلے بنی ہوئی تھیں، ویسی ہی اپنے پلے سے بنائیں اور اس سارے معاملے میں وقف کا جتنا نقصان ہوا ہے، اس کا تاوان بھی اپنے پلے سے ادا کریں۔ یعنی اس جگہ راستہ بنانے یا سیڑھی بنانے میں جو بلااجازت شرعی وقف کا خرچ ہوا، رقم ضائع ہوئی، اس کا تاوان وقف کو ادا کرنا، ان پر لازم ہے۔
قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے: ﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ- اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ- لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (۱۱۴)﴾ترجمۂ کنزالایمان:” اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب۔“ (سورۃ البقرۃ، پ 01، آیت 114)
فتاوی ہندیہ میں ہے: و لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته" ترجمہ: اور وقف کی ہیئت کو بدل دینا، جائز نہیں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الوقف، الباب الرابع عشرفی المتفرقات، ج 02، ص 490، کوئٹہ)
دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے ”لو هدم أحد عقارا لوقف و كانت إعادته إلى حاله السابقة ممكنة فيعاد بناؤه كما لو هدم أحد منارة مسجد في قرية أو حائطا أو جميع المسجد و استهلك الأنقاض فللمتولي أن يلزم ذلك الشخص بإنشاء المنارة أو الحائط أو المسجد كالأول (البهجة، و جامع الإجارتين، و الواقعات) . ۔ ۔ ۔ ۔ و حكم الإعادة في الوقف و عدم الإعادة في غيره ثابت. و الفرق - كما تقرر عند الفقهاء - أن الإفتاء يكون بما هو أنفع للوقف و لا شبهة أن إعادته إلى حاله الأولى أنفع للوقف من البدل“
ترجمہ: اگر وقف کی جائیداد گرادی اور اسے اس کی پہلی حالت پر لوٹانا، ممکن ہو تو اس کی عمارت کو لوٹا یا جائے گا، جیسے اگر کوئی کسی بستی میں موجود مسجد کا منارہ یا دیوار گرادے یاپوری مسجد ہی گرادے اور ملبہ ہلاک کردے تو متولی کو اختیار ہے کہ اس شخص پر لازم کرے کہ وہ پہلے کی طرح منارہ یادیواریامسجدبنائے۔ اور وقف کے متعلق حکم ہے کہ اعادہ کیاجائے گااورغیروقف میں اعادہ کاحکم نہیں دیا جائے گا اور ان دونوں میں فرق یہ ہے جیساکہ فقہاء کے نزدیک ثابت ہے کہ وقف کے لیے اس صورت کافتوی دیا جائے گاجس میں وقف کازیادہ نفع ہو اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلی حالت کی طرف لوٹانے میں، بدل لینے کی نسبت وقف کا زیادہ نفع ہے۔ (درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام، ج 02، ص 608،دار الجیل)
فتاوی رضویہ میں سوال ہوا: ”ایک مسجد کےصحن کا ایک جز مصلے کاٹ کر موڑ پر سے محدود کردیا گیا بدیں غرض کہ نمازی اس جگہ جو تا اتارا کریں، یہ تصرف اور اس جگہ جوتے اتارنا، جائز ہیں یا نہیں؟
اس کے جواب میں فرمایا:” مسجد کے ایک حصہ کو مسجد سے خارج کردیا گیا اور اسے جوتا اتارنے کی جگہ بنایایہ بھی تصرف باطل ومردود و حرام ہے، اوقاف میں تبدیل وتغیر کی اجازت نہیں۔ ۔ ۔ ۔ یہاں بھی وہی حکم ہے کہ فوراً فوراً اس ظلم کی منڈیر کو دور کرکے زمین مسجد شامل مسجد کریں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 417، رضا فاونڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ایک دوسرے مقام پر مسجدمیں درخت لگانے سے ممانعت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے، ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس میں نماز کی جگہ کومشغول کرنا پایا جائے گا۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ”اور ہم بیان کرچکے بلا ضرورت مذکورہ مسجد میں پیڑبونا، جائز نہیں لشغلہ موضع الصلٰوۃ و لشبہ البیع و الکنائس (کیونکہ اسطرح نماز کی جگہ بھی مشغول ہوگی اور گرجا اور کلیسا سے مشابہت بھی ہوگی۔) اور یہ کہ اس کا باقی رکھنا جائز نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 340، رضافاونڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”اور اگر اس کے بنانے میں اس نے وقف کی کوئی دیوار منہدم کی تھی تو اس پر لازم ہوگا کہ اپنے صرف سے وہ دیوار ویسی ہی بنادے اور اگر ویسی نہ بن سکتی ہو، بنی ہوئی دیوار کی قیمت ادا کرے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 455، رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11156
تاریخ اجراء: 28 جمادی الآخرۃ 1443ھ / 01 فروری 2022ء