پندرہ سال سے زائد عمر والے لڑکے کا تراویح پڑھانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بالغ بچے کا تراویح کی امامت کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
صورت مسئولہ میں جس بچے کا ذکر کیا گیا ہے کہ اسے احتلام بھی ہوتا ہے اور اس کی عمر 15 سال سے زائد ہے، ایسا بچہ اگر امامت کی دیگر شرائط صحت و جواز (صحیح العقیدہ، صحیح القراءۃ، صحیح الطہارۃ، فاسق معلن نہ ہونا وغیرہ) کا بھی جامع ہو تو تراویح میں بالغ مردوں کی امامت کر سکتا ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ بالغوں کی امامت میں، خواہ نوافل و سنن میں ہو یا فرائض میں بہر صورت، امام کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے، نابالغ کسی نمازمیں بالغوں کی امامت نہیں کر سکتا اور لڑکے کے بالغ ہونے کے لیے درج ذیل میں سے کوئی ایک چیز پائی جانا کافی ہے:
یا سوتے خواہ جاگتے میں انزال ہو، یا عورت کو حاملہ کرنا، یا اس کی عمر قمری اعتبار سے پندرہ سال مکمل ہو جانا۔
ان میں سے کوئی ایک چیز بھی پائی جائے تو لڑکا بالغ ہو جاتا ہے اور صورت مسئولہ میں تو لڑکے کو احتلام یعنی نیند میں انزال بھی ہوتا ہے اور اس کی عمربھی قمری اعتبارسے پندرہ سال مکمل بلکہ اس سے بھی زائد ہے تووہ یقینابالغ ہے لہذاوہ تراویح میں بالغوں کی امامت کر سکتا ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:”بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، و الجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار. و السن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف و محمد - رحمهما اللہ تعالى – و هو رواية عن أبي حنيفة - رحمه اللہ تعالى – و عليه الفتوى“ ترجمہ: لڑکے کابالغ ہونا، احتلام یعنی نیند میں انزال ہونے کے ساتھ یا عورت کو حاملہ کرنے کے ساتھ یا جاگتے میں انزال کے ساتھ ہے اور لڑکی کا بالغ ہونا، احتلام یعنی نیندمیں انزال ہونے کے ساتھ یا حیض کے ساتھ یا حاملہ ہونے کے ساتھ ہے اور وہ عمرکہ جس تک پہنچنے پر لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کا حکم لگایا جائے گاوہ پندرہ سال ہے امام ابویوسف اور امام محمدکے نزدیک اور یہی امام ابوحنیفہ سے ایک روایت ہے علیہم الرحمۃ اور اسی پر فتوی ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الحجر، الباب الثانی، الفصل الثانی، ج 05، ص 61، کوئٹہ)
درمختارمیں ہے: ”(و لا يصح اقتداء رجل بامرأة) و خنثى (و صبي مطلقا) و لو في جنازةو نفل على الأصح“ ترجمہ: اور بالغ مرد کا کسی عورت اور ہیجڑے اور بچے کی کسی صورت میں اقتدا کرنا درست نہیں اگرچہ جنازہ اور نفل میں ہی ہو اصح قول کے مطابق۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج 01، ص 577، 578، کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”لڑکا بارہ سال اور لڑکی نو برس سے کم عمرتک ہرگز بالغ وبالغہ نہ ہوں گے۔ اور لڑکا لڑکی دونوں پندرہ برس کامل کی عمرمیں ضرور شرعا بالغ وبالغہ ہیں، اگر چہ آثار بلوغ کچھ ظاہر نہ ہوں، ان عمروں کے اندر اگر آثار پائے جائیں، یعنی خواہ لڑکے خواہ لڑکی (کو) سوتے خواہ جاگتے میں انزال ہو یا لڑکی کو حیض آئے یا جماع سے لڑکا حاملہ کردے یا لڑکی کو حمل رہ جائے تو یقینا بالغ و بالغہ ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 630، رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11163
تاریخ اجراء: 07 رجب المرجب 1443ھ / 09 فروری 2022ء