logo logo
AI Search

نومولود کے کان میں اذان کب دی جائے نیز اس میں تاخیر کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بچہ پیدا ہونے کے بعد اذان کب دی جائے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بچہ پیدا ہونے کےبعد اذان کب دینی چاہیے؟

جواب

بچے کی پیدائش کے بعد سب سے پہلے اسے نہلاکر اس کے سیدھے کان میں اذان اور اُلٹے کان اقامت کہہ دینی چاہیے۔ اذان دینے میں بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے کہ تاخیر کی صورت میں اس کے مرگی جیسے مرض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” بچہ پیداہونے کے بعد جو اذان میں دیر کی جاتی ہے اس سے اکثر یہ مرض (مرگی) ہو جاتا ہے، اگر بچہ ہونے کے بعد پہلا کام یہ کیا جائے کہ نہلا کر اذان و اقامت بچہ کے کان میں کہہ دی جائے ، تو ان شاء اللہ عمر بھر محفوظی ہے۔‘‘ (ملفوظات اعلی حضرت،صفحہ 417۔418، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حکیم الامت مفسّرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” بچّہ کے پیدا ہونے پریہ کام کرنے چاہئیں: (1)بچہ پیدا ہوتے ہی غسل دیا جائے ، (2)نال کاٹا جائے اور (3)جس قدر جلدی ہوسکے اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے خواہ گھر کا کوئی آدمی ہی اذان اور تکبیر کہہ دے یا مسجد کا مؤذن یا امام کہے اور اگر اذان کہنے پر خیرات و صدقہ کی نیت سے ان کی کوئی خدمت کردی جائے تو بہت اچھا ہے کیونکہ یہ حق تعالیٰ کا شکر یہ ہے۔ (5)پھر یہ کوشش کی جاوے کہ بچّے کو پہلی گھٹّی (گڑتی) کوئی نیک آدمی دے کیونکہ تفسیرِروح البیان میں ہے کہ ’’بچہ میں پہلی گھٹی دینے والے کا اثر آتا ہے اور اس کی سی عادات پیدا ہوتی ہیں“ بلکہ سنّت تو یہ ہے کہ بچہ کی تَحْنِیْک کردی جائے، تَحْنِیْک اسے کہتے ہیں کہ کوئی نیک آدمی اپنے منہ میں کھجور یا خرمہ چباکر بچے کے تالو سے لگا دے تاکہ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے جو غذا پہنچے وہ خرمہ ہو اور کسی بزرگ کے منہ کا لعاب۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اپنے بچوں کی تَحْنِیْک کرایا کرتے تھے۔ (6)دائی کی اُجرت مقرر ہونی چاہئے جو اس کام کے بعد دے دی جائے۔ (7)اگر فرزند کی خوشی میں میلاد شریف یا فاتحہ بزرگان کردی جاوے تو بہت اچھا ہے۔‘‘ (اسلامی زندگی،صفحہ20، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2591

تاریخ اجرا: 19جمادی الاولٰی1447ھ / 11 نومبر 2025ء