امام کا دو ستونوں کے درمیان جماعت کروانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
امام کا دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہوکر جماعت کروانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسجد میں امام ستونوں کے درمیان کھڑے ہوکر جماعت کرا سکتا ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی راہنمائی فرمائیں۔
جواب
امام کا دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھانا مکروہ تنزیہی (ناپسندیدہ عمل) ہے، جبکہ بلا ضرورت ہو۔ ہاں! اگر کوئی ضرورت ہو جیسے مقتدی زیادہ ہوں جگہ کم پڑ رہی ہو تو دو ستونوں کے درمیان الگ کھڑے ہونے میں حرج نہیں۔
معراج الدرایۃ میں ہے "الأصح: ما روي عن أبي حنيفة أنه قال: أكره للإمام أن يقوم بين الساريتين أو في زاوية المسجد، أو في ناحية المسجد أو إلى سارية؛ لأنه خلاف عمل الأمة" ترجمہ: صحیح قول وہی ہے، جو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: میں امام کے دو ستونوں کے درمیان یا مسجد کے کسی کونے یا ایک جانب میں یا کسی ستون کی طرف کھڑے ہونے کو مکروہ جانتا ہوں، اس لیے کہ یہ امت محمدیہ (علی صاحبھاالصلوۃ و السلام) کے عمل کے خلاف ہے۔ (معراج الدرایۃ، جلد 1، صفحہ 790، دار الکتب العلمیۃ، بیروت(
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”امام کا دو ستونوں کے بیچ میں کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ رد المحتار میں ہے: فی معراج الدرایۃ من باب الامامۃ، الاصح ما روی عن ابی حنیفۃ رضی اللہ عنہ قال: اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین او زاویۃ او ناحیۃ المسجد او الی ساریۃ، لانہ بخلاف عمل الامۃ۔ (یعنی معراج الدرایہ کے باب الامامت میں ہے کہ صحیح ترین قول وہ ہے جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں امام کے دو ستونوں کے بیچ میں کھڑے ہونے، یا مسجد کے کسی کونے میں کھڑے ہونے، یا ایک جانب کھڑے ہونے، یا کسی ستون کی طرف کھڑے ہونے کو مکروہ جانتا ہے، اس لیے کہ یہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف ہے۔) (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 291، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں مکروہات تنزیہی کے بیان میں فرماتے ہیں: ”امام کو دروں (ستونوں) میں کھڑا ہونا بھی مکروہ ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 635، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5436
تاریخ اجراء: 08 ربیع الاول 1448ھ / 22 اگست 2026ء