logo logo
AI Search

مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مسجد میں دنیاوی گفتگو کرنے کا حکم اور اس سےمتعلق حدیث پاک کی شرح

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے علمائے کرام سے یہ مسئلہ سنا ہے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا منع ہے، جبکہ ایک پوسٹ میں حدیث مبارک پڑھی، جس کا مفہوم یہ تھا کہ صحابہ کرام بھی مسجد میں دنیا کی باتیں کیا کرتے تھے، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا کوئی ایسی حدیث مبارک ہے۔ اگر ہے، تو ا س کا درست مفہوم بھی بیان کردیجئے؟ کیونکہ اس حدیث پاک سے یہی سمجھ آتا ہے کہ مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے کی اجازت ہے۔

جواب

اولاً مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے کے حوالے سے حکم ذہن نشین کر لیجئے کہ دنیاوی باتیں کرنے کے لئے مسجد میں جانا اور اسی مقصد کے لئے وہاں جا کر بیٹھنا حرام ہے، البتہ اگر کوئی نماز وغیرہ عبادت کے لئے مسجد میں جاتا ہے اور ضمناًکوئی جائز دنیاوی بات کر لیتا ہے، تو یہ عمل بھی اگرچہ حرام نہیں، مگر مکروہ یعنی نا پسند ضرورہے اور اگر اعتکاف کی نیت کرلیتا ہے اور اس کے بعد کوئی مناسب دنیاوی بات کرتا ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں اور جہاں تک صحابہ کرام علیھم الرضوان کے مسجد میں گفتگو کرنے کے متعلق سوال ہے، تو وہ گفتگو حقیقت میں صرف دنیا کی گفتگو نہیں تھی، بلکہ دنیا کے ایسے واقعات کا بیان تھا جس میں دینی نصیحت اور آخرت کا فائدہ تھا، جیسا کہ نیچے اس کی تفصیل آرہی ہے۔

مسجد میں دنیاوی کلام کرنے کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’دنیوی بات کے لئے مسجد میں بیٹھنا حرام اور نماز کے لئے جاکر دنیوی تذکرہ مسجد میں مکروہ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد8، صفحہ 112، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: اگر دنیاکی بات کرنے کے لئے بالقصد مسجد میں نہیں جاتانمازکے لئے بیٹھاہے اور کوئی آیادنیا کی باتیں بھی کرلیں جس میں فحش وغیرہ معاصی نہ ہوں، تو اگرچہ ایسابھی نہ چاہیے مگر اس سے امامت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 06، صفحہ 586، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

جہاں تک سوال میں بیان کردہ حدیث کا تعلق ہے، تو یہ حدیث صحیح مسلم سمیت دیگر کئی کتبِ احادیث میں موجود ہے، البتہ اس کا درست مفہوم شارحینِ حدیث کی بیان کردہ تشریح سے واضح ہوگا۔

سب سے پہلے اس حدیث کا مکمل متن اور ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

صحیح مسلم میں ہے: ’’عن سماک بن حرب قال : قلت لجاربن سمرۃ :أكنت تجالس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم؟ قال: نعم، كثيرا كان لا يقوم من مصلاه الذي يصلي فيه الصبح حتى تطلع الشمس، فإذا طلعت قام، و كانوا يتحدثون فيأخذون في امر الجاهلية فيضحكون، و يتبسم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم“ ترجمہ: حضرت سماک بن حرب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، بہت زیادہ بیٹھا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ فجر کی نماز پڑھتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک سورج طلوع نہ ہوجاتا۔ جب سورج طلوع ہوجاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں گفتگو کرتے رہتے، زمانۂ جاہلیت کے واقعات کا ذکر کرتے، ان باتوں پر ہنستےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسکراتے تھے۔ (صحیح المسلم، جلد 7، صفحہ 78، الحدیث 2322، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

مذکورہ حدیث کی درست مراد شارحینِ حدیث نے درج ذیل بیان فرمائی ہے:

(1) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم زمانۂ جاہلیت کے واقعات کا ذکر ان کی مذمت اور برائی ظاہر کرنے کے لیے کرتے تھے، یعنی یہ بیان کرنا مقصود ہوتا تھا کہ اسلام سے پہلے لوگ کس قدر جہالت اور گمراہی میں مبتلا تھے۔

(2) بعض اوقات ان واقعات کا ذکر محض حکایت اور عبرت حاصل کرنے کے لیے ہوتا تھا، کیونکہ ان میں دینی اور اصلاحی فوائد بھی موجود ہوتے تھے۔ اسی لیے اسے ہر قسم کی بے مقصد یا لغو گفتگو پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔

(3) ان واقعات میں بعض ایسے واقعات بھی بیان کیے جاتے تھے جن سے باطل مذاہب کی کمزوری اور قباحت ظاہر ہوتی تھی، لہٰذا ان کا بیان کرنا محض دنیاوی گفتگو نہیں تھا۔

(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اشعار بھی پڑھے جاتے تھے، لیکن ایسے اشعار جن میں توحید، ترغیب، ترہیب اور دیگر مفید مضامین ہوتے تھے، لہٰذا مسجد میں ہر قسم کے دنیاوی اور بے فائدہ اشعار یا کلام کی اجازت اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتی۔

لہٰذا سوال میں بیان کردہ حدیث سے مسجد میں ہر قسم کی دنیاوی گفتگو کے جواز پر استدلال کرنا درست نہیں، کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی گفتگو محض بے مقصداوردنیاوی باتوں پر مشتمل نہیں تھی، بلکہ اس میں جاہلیت کے واقعات کی مذمت، عبرت اور دینی و اصلاحی فوائد کا پہلو موجود تھا۔ اس لیے اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالنا کہ صحابۂ کرام مسجد میں دنیا کی باتیں کرتے تھے، لہٰذا مسجد میں ہر طرح کی دنیاوی گفتگو جائز ہے، درست نہیں۔

مذکورہ حدیث کی شرح میں متعدد شروحات حدیث مثلاً ”المفاتیح فی شرح المصابیح“، ”المفہم لما أشکل من تلخیص مسلم“، ”شرح النووی علی مسلم“، ”شرح المصابیح لابن الملک“، ”لمعات التنقیح“، ”إکمال المعلم بفوائد مسلم“، ”شرح المشکاۃ للطیبی“ اور ”مرآۃ المناجیح“ وغیرہ میں بہت مختصر کلام موجود ہے، تاہم ہمارے موضوع سے متعلق حدیث پر ہونے والے اشکال کے جواب میں نسبتاً جامع اور تفصیلی گفتگو مرقاة المفاتيح میں ہے۔ اس لیے تکرار اور طوالت سے بچتے ہوئے یہاں اسی کے کلام پر اکتفا کیا گیا ہے۔ مرقاة المفاتيح میں یہ حدیث دو مقامات پر مذکور ہے (1) کتاب الآداب، باب الضحک، اور (2) کتاب الصلاة، باب الدعاء في التشهد۔ دونوں مقامات کی متعلقہ شرح کو یہاں نقل کیا جائے گا۔

چنانچہ علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ حدیث کے الفاظ (فيأخذون في امر الجاهلية) کے تحت لکھتے ہیں: ’’(فيأخذون في امر الجاهلية) اي: على سبيل المذمة، او بطريق الحكاية لما فيها من فائدة و غيره، من جملته انه قال واحد: ما نفع احدا صنمه مثل ما نفعني. قالوا: كيف هذا؟ قال: صنعته من الحيس، فجاء القحط، فكنت آكله يوما فيوما، و قال آخر: رايت ثعلبين جاءا وصعدا فوق راس صنم لي و بالا عليه فقلت: ارب يبول الثعلبان براسه فجئتك يا رسول اللہ ! واسلمت. (فيضحكون، و يتبسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم . رواه مسلم. و في رواية للترمذي: يتناشدون الشعر) اي: يقرءونه، او يطلب بعضهم من بعض قراءته. في الشمائل: عن جابر بن سمرة، قال: جالست النبي صلی اللہ علیہ وسلم اكثر من مائة مرة، وكان اصحابه يتناشدون الشعر، ويتذاكرون اشياء من امر الجاهلية و هو ساكت، و ربما يتبسم معهم. و من المعلوم ان في مجلسه الشريف لا يتناشد إلا الشعر المنيف المشتمل على التوحيد و الترغيب و الترهيب“ یعنی صحابۂ کرام زمانۂ جاہلیت کے واقعات کا ذکر شروع کردیتے تھے۔ کبھی اس مقصد سے کہ ان کی مذمت بیان کی جائے اور کبھی محض واقعہ بیان کرنے کے طور پر، کیونکہ ان واقعات میں بعض فوائد اور عبرت کی باتیں بھی ہوتی تھیں۔ ان واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک شخص نے کہا: کسی شخص کے بت نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا میرے بت نے پہنچایا۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: میں نے اسے حَیس(کھجوریں اور مکھن سے بنا مخلوط کھانا) سے بنایا تھا، پھر قحط پڑگیا تو میں روز بروز اسے کھاتا رہا۔ ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے دیکھا کہ دو لومڑیاں آئیں، میرے ایک بت کے سر پر چڑھ گئیں اور اس پر پیشاب کردیا۔ تو میں نے کہا: کیا یہ بھی کوئی رب ہے جس کے سر پر دو لومڑیاں پیشاب کریں؟ پھر یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا۔‘‘ صحابۂ کرام ان باتوں پر ہنستے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے تھے۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام آپس میں اشعار پڑھتے اور ایک دوسرے سے اشعار سنانے کی فرمائش کرتے تھے۔ شمائل ترمذی میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سو مرتبہ سے بھی زیادہ بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اشعار پڑھتے اور ایک دوسرے کو سناتے تھے، نیز زمانۂ جاہلیت کے بعض امور کا ذکر کرتے تھے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش رہتے تھے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرا بھی دیتے تھے۔ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مبارک مجلس میں صرف ایسے عمدہ اور پاکیزہ اشعار پڑھے جاتے تھے جن میں توحید، نیکی کی ترغیب اور برائی سے ڈرانے جیسی مفید باتیں شامل ہوتی تھیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الآداب، باب الضحک، جلد 7، صفحہ 2993، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہی دوسرے مقام پر اسی حدیث کے تحت مذکور ہے: ’’قال ابن الملك: فيه دليل على جواز استماع كلام مباح يعني في المسجد، ولكن قد يقال: كلامهم لم يكن خاليا عن الفوائد الدينية، فلا ينبغي أن يحمل على المباح المجرد“ ترجمہ: ابن الملک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ مباح گفتگو مسجد میں سننا جائز ہے ۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ صحابۂ کرام کی گفتگو بالکل بے فائدہ نہیں تھی، بلکہ اس میں دینی فوائد بھی شامل تھے، اس لیے اسے محض ایسی مباح گفتگو پر محمول نہیں کرنا چاہیے جس میں کوئی دینی فائدہ نہ ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب الدعا فی التشھد جلد 2، صفحہ 756، مطبوعہ دار الفكر، بيروت، لبنان)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10181
تاریخ اجراء: 04 ربیع الثانی 1448ھ/  16 ستمبر 2026ء