logo logo
AI Search

نماز میں خلافِ ترتیب سورتیں پڑھنے کے ناجائز ہونے کا ثبوت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نماز میں خلافِ ترتیب سورتیں پڑھنے کے ناجائز ہونے کی شرعی دلیل

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قرآن کریم کو نماز میں ترتیب کے ساتھ پڑھنا واجب ہے اور ترتیب بدل کر پڑھنا ناجائز ہے، یہ کس دلیل سے ثابت ہے؟

جواب

نماز میں قرآن پاک ترتیب سے یعنی جو سورت یا آیت پہلے ہے، اسے پہلی رکعت میں پڑھنا اور جو بعد میں ہے، اس کو بعد والی رکعت میں پڑھنا واجب ہے۔ اگر بھول کر خلاف ترتیب پڑھا، تو کوئی حرج نہیں اور اگر جان بوجھ کر خلاف ترتیب قرآن پڑھا، تو مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، لیکن بہر صورت اس سے نماز میں خلل نہیں آتا، کیونکہ ترتیب سے قرآن پڑھنا، بنیادی طور پر تلاوت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات سے نہیں۔ نماز میں اس کا وجوب تلاوت کی جہت ہی سے ہے۔ اسی لئے چاہے تلاوت، نماز میں ہو یا نماز سے باہر دونوں صورتوں میں ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اس کی دلیل صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اثر ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو الٹا قرآن پڑھتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ الٹے دل والا ہے۔ اس وجہ سے فقہائے کرام نے فرمایا کہ تلاوتِ قرآن میں ترتیب واجب ہے، چاہے نماز میں ہو یا بیرون نماز۔ البتہ چھوٹے بچوں کو تعلیم قرآن اور حفظ قرآن میں آسانی کے پیش نظر قرآن کے آخر (چھوٹی سورتوں) سے خلاف ترتيب پڑھانا، جائز ہے۔

مصنف عبد الرزاق میں ہے: ”قال: فجاءه رجل، فقال: يا أبا عبد الرحمن: أرأيت رجلا ‌يقرأ ‌القرآن ‌منكوسا؟ قال: ذلك منكوس القلب“ ترجمہ: راوی کہتے ہیں: ایک شخص ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو الٹا قرآن پڑھتا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ الٹے دل والا ہے۔ (مصنف عبد الرزاق، رقم الحدیث 8195، دار التأصيل)

امام ہیثمی علیہ الرحمۃ مجمع الزوائد میں اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں: ”رواه الطبراني، ورجاله ثقات“ ترجمہ: امام طبرانی رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا اور اس کے رجال ثقات ہیں۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، جلد 7، صفحہ 168، مكتبة القدسي، القاهرة)

التبيان في آداب حملۃ القرآن میں امام نووی علیہ الرحمۃ اسی اثر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: ”وروی ابن ابی داؤد ۔۔۔باسناده الصحيح عن عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه أنه قيل له إن فلانا ‌یقرأ ‌القرآن‌ منکوسا فقال ذلك منكوس القلب“ ترجمہ: ابن ابی داؤد نے اپنی سند صحیح کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی کہ فلاں شخص الٹا قرآن پڑھتا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ وہ الٹے دل والا ہے۔ (ملتقطاً از التبيان في آداب حملة القرآن، صفحہ 99، دار ابن حزم للطباعة والنشر والتوزيع، بیروت)

حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق میں ہے: ”ويكره أن يقرأ سورة أو آية في ركعة، ثم يقرأ في الثانية ما فوقها وعليه جمهور الفقهاء وعن عبد الله أنه سئل عمن یقرأ ‌القرآن ‌منکوسا فقال ذلك منكوس القلب وهو بأن يقرأ سورة، ثم يقرأ بعدها سورة قبلها في النظم“ ترجمہ: یہ مکروہ ہے کہ نمازی ایک رکعت میں کسی سورت یا آیت کی قراءت کرے، پھر دوسری رکعت میں اس سے اوپر والی سورت یا آیت کی قراءت کرے اور یہی جمہور فقہائے کرام کا مؤقف ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو قرآن کو الٹا پڑھتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ وہ الٹے دل والا ہے، قرآن کو الٹا پڑھنا یہ ہے کہ کسی سورت کی قراءت کرے پھر اس کے بعد نظمِ قرآن کی ترتیب میں جو اس سے پہلے کی سورت ہے، اس کی قراءت کرے۔ (حاشية الشلبي علی تبيين الحقائق، جلد 1، صفحہ 131، المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)

ترتیب کے ساتھ قرآن پڑھنا تلاوت کے واجبات سے ہے، نہ کہ نماز کے واجبات سے اور خلاف ترتیب تلاوت ناجائز و گناہ ہے، چنانچہ رد المحتار میں ہے: ”یجب الترتیب فی سور القرآن، فلو قرأ منکوسا أثم لكن لا يلزمه سجود السهو لأن ذلک من واجبات القراءۃ لا من واجبات الصلاۃ“ ترجمہ: قرآن کی سورتوں میں ترتیب کا لحاظ رکھنا واجب ہے تو اگر کسی نے خلاف ترتیب قرآن پڑھا، تو گنہگار ہوگا، لیکن اس سے سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا، کیونکہ قرآن کو ترتیب سے پڑھنا قراءت کے واجبات میں سے ہے، نہ کہ نماز کے واجبات میں سے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 183، دار المعرفۃ، بیروت)

بچوں کو تعلیم ِقرآن کے لیے آسانی کے پیش نظر خلاف ترتیب قرآن پڑھانا، جائز ہے، رد المحتار میں ہے: ”وإنما جوز للصغار تسهيلا لضرورة التعليم“ ترجمہ: تعلیم قرآن کی ضرورت کی وجہ سے آسانی کے پیش نظر، چھوٹے بچوں کے لیے خلاف ترتیب قرآن پڑھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ (رد المحتار، جلد 1، صفحہ 547، دار الفكر، بيروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: OKR-0327

تاریخ اجراء: 02 ربیع الثانی 1448ھ/15 ستمبر 2026ء