logo logo
AI Search

نفل نماز شروع کرنے کے بعد اسے وتر سے بدلنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نفل شروع کرنے کے بعد انہیں وتر سے بدلنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی نفل نماز کی نیت کرکے نماز شروع کر دے، پھر پہلی نماز توڑے بغیر وتر پڑھ سکتا ہے؟ یعنی کیا ایسا ہو سکتا ہےکہ جو نفل شروع کیے تھے، اب بغیر سلام پھیرے، انہیں نوافل کو وتر میں تبدیل کر لے؟

جواب

یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ وتر اور نفل دو الگ الگ نمازیں ہیں، اور فقہاے کرام کی صراحت کے مطابق وتر پڑھتے ہوئے وتر کی نیت کرنا شرط ہے، اور نیت وہی معتبر ہوتی ہے، جو نماز شروع کرنے سے پہلے کی جائے؛ لہذا اگر دوران ِ نماز دل میں نیت تبدیل کرلی، زبان سے کچھ نہ کہا، نہ نئی نماز کی نیت سے تکبیر تحریمہ کہی، تو محض دل میں نیت تبدیل کر لینے سے پہلی نماز سے نہیں نکلے گا، بلکہ وہی نماز ادا ہوگی، جس کی نیت نماز شروع کرنے سے پہلے کی تھی۔

وتر کی نیت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ’’وتر کی نیت تو ضرور ہی ہے پھر چاہے اسی قدر پر قناعت کرے اور بہتر یہ ہے کہ وتر واجب کی نیت کرے کہ ہمارے مذہب میں وتر واجب ہی ہیں اور اگر سنت بمعنی مقابل واجب کے نیت کی تو ہمارے امام کے نزدیک وتر ادا نہ ہوں گے۔ في الدر المختار لابد من التعيين عند النية لفرض انه ظهر او عصر و واجب انه و تر او نذر اھ مختصرا وفى رد المحتار اى لايلزمه تعیین الوجوب وان كان حنفيا ينبغى ان ينويه ليطابق اعتقاده الخ ترجمہ: در مختار میں ہے نیت کے وقت اس بات کا تعین کہ یہ فرض ہے مثلا یہ ظہر و عصر کی نماز ہے یا واجب مثلاً وتر یا نذر کی نماز ہے ضروری ہے۔ اختصارا، اور رد المحتار میں ہے کہ تعین وجوب لازم نہیں، ہاں اگر وہ حنفی ہو تو مناسب یہی ہے کہ اس کی نیت کرے تاکہ وہ اس کے اعتقاد کے مطابق ہو جائے الخ۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 419، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

نماز میں نیت وہی معتبر ہے، جو شروع کرنے سے پہلے کی گئی۔ صدر الشريعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ’’نماز بہ نیت فرض شروع کی پھر درمیان نماز میں یہ گمان کیا کہ نفل ہے اور بنیت نفل نماز پوری کی تو فرض ادا ہوئے اور اگر بنیت نفل شروع کی اور درمیان میں فرض کا گمان کیا اور اسی گمان کے ساتھ پوری کی، تو نفل ہوئی۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ  498، مکتبۃ المدینہ کراچی)

درمیان نماز نیت تبدیل کرنے کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے ’’ولو افتتح الظهر ثم نوى التطوع أو العصر أو الفائتة أو الجنازة وكبر يخرج عن الأول ويشرع في الثاني والنية بدون التكبير ليس بمخرج كذا في التتارخانية ناقلا عن العتابية‘‘ ترجمہ: اگر کسی نے ظہر کی نماز شروع کی، پھر نفل یا عصر یا فوت شدہ نماز یا نمازِ جنازہ کی نیت کر لی اور تکبیر بھی کہہ لی، تو وہ پہلی نماز سے نکل جائے گا اور دوسری نماز میں داخل ہو جائے گا۔ البتہ! جب تک تکبیر نہ کہے، فقط نیت کر لینے سے، پہلی نماز سے نہیں نکلے گا۔ اسی طرح فتاوی تاتارخانیہ میں عتابیہ کے حوالے سے مذکور ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ  73، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے ’’ولا تبطل بنية القطع وكذا بنية الانتقال إلى غيرها ما لم يكبر بنية مغايرة بأن يكبر ناويا النفل بعد شروع الفرض وعكسه، أو الفائتة بعد الوقتية وعكسه، أو الاقتداء بعد الانفراد وعكسه‘‘ ترجمہ: نماز توڑنے کی محض نیت سے نماز باطل نہیں ہوتی، اسی طرح ایک نماز سے دوسری نماز کی طرف منتقل ہونے کی نیت سے بھی باطل نہیں ہوتی، جب تک اس نماز کی مخالف، دوسری نماز کی نیت کے ساتھ تکبیر نہ کہے۔ مثلاً فرض نماز شروع کرنے کے بعد نفل کی نیت سے تکبیر کہے، یا اس کے برعکس معاملہ ہو، یا وقتی نماز کے بعد فوت شدہ نماز کی نیت سے تکبیر کہے، یا اس کے برعکس کرے، یا اکیلے نماز پڑھنے کے بعد اقتدا کی نیت سے تکبیر کہے، یا اس کے برعکس صورت ہو۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ  156، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5119
تاریخ اجراء: 03 محرم الحرام 1448ھ/19 جون 2026ء