logo logo
AI Search

میمونہ نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام میمونہ رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ "میمونہ" نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"میمونہ" نام رکھنا شرعاً جائز، بلکہ یہ نام رکھنا مستحب اور ان شاء اللہ عزوجل باعث برکت ہے، کہ میمونہ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازاواجِ مطہرات میں سے ہیں، اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچی کے شامل حال ہوگی۔ نیز میمونہ کا معنی بھی بابرکت، سعادت والی، اور خوش قسمت ہے۔

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء و اولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

الرائد معجم میں ہے "المیمون۔ (ی م ن) ۔ ج میامین ۔۱۔ ذوالیمن والبرکۃ۔ وھو میمون الطائر ای مبارک الطلعۃ" ترجمہ: المیمون کا معنی ہے :بابرکت، سعادت مند، نیک شگون والا، اور جس کی آمد یا چہرہ خیر و برکت کا سبب ہو۔ (الرائد معجم، ص: 784، حرف م، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مراۃ المناجیح میں ہے ’’آپ میمونہ بنت حارث ہیں بلالیہ عامریہ ہیں بعض نے فرمایا کہ آپ کا نام برہ تھا، حضور انور (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) نے میمونہ نام رکھا، آپ پہلے مسعود ابن ثقفی کے نکاح میں تھیں اس نے آپ کو طلاق دے دی پھر آپ سے ابو رہم نے نکاح کیا ان کی وفات کے بعد حضور انور (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح سے مشرف ہوئیں حضور (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) نے آپ سے نکاح ذیقعدہ (سات ھ)  میں عمرہ قضاء کے موقع پر مقام سرف میں کیا جو مکہ معظمہ سے دس میل ہے، وہاں ہی آپ کی وفات ساٹھ (60) یا اکسٹھ (61) میں واقع ہوئی، وہاں ہی آپ دفن ہوئیں بلکہ عین نکاح کی جگہ ہی آپ کی قبر شریف ہے، حضرت عبد الله ابن عباس نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔‘‘ (مراۃ المناجیح ، حالاتِ صحابہ و تابعین، ج 08، ص 89، نعیمی قدیمی خانہ، گجرات)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5202
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ/22 جولائی 2026ء