logo logo
AI Search

غصب شدہ زمین پر نماز پڑھنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غصب شدہ زمین پر نماز پڑھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

غصب شدہ زمین پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

غصب شدہ زمین پر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ناجائز و گناہ ہے اور ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا اعادہ واجب ہے لہذا اگر کسی نے غصب شدہ زمین پر نماز پڑھی تو اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہے۔

فتح القدیرمیں ہے: ”كل صلاة أديت مع كراهة التحريم وجب إعادتها“ ترجمہ: ہر وہ نماز کہ جو کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو، تو اس کا اعادہ واجب ہے۔ (فتح القدیر، جلد 3، صفحہ :58، مطبوعہ، مصر)

نیز زمین غصب کرنا حرام ہے اور اس کے بارے سخت وعیدات آئی ہیں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے کسی کی ایک بالشت زمین ناحق دبائی اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔

حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم قال من اقتطع شبرا من الارض ظلما طوقہ اللہ ایاہ یوم القیامۃ من سبع ارضین‘‘ ترجمہ: جس نے (کسی کی) زمین ایک بالشت (بھی) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی، قیامت کے دن اللہ عزوجل اسے سات زمینوں سے اس کا طوق پہنائے گا۔ (صحیح مسلم، جلد 02، حدیث: 7563، مطبوعہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-037

تاریخ اجراء: 08 ربیع الثانی 1448ھ/21 ستمبر 2026ء