logo logo
AI Search

عین مسجد میں وضو خانہ اور واش روم بنانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عین مسجد کے کچھ حصے کو ختم کر کے وضو خانہ اور استنجا خانے بنانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد میں جو جگہ پہلے عین مسجد تھی، وہاں باقاعدہ نماز بھی ہوتی رہی، اب ضرورت کی وجہ سے وہاں مسجد کا وضو خانہ اور واش رومز بنادیے گئے تو شرعی رہنمائی فرمائیں کہ یہ بنانا کیسا ہے اور بنانے والوں پر کیا حکم لگتا ہے اور اگر جانتے بوجھتے ان کو استعمال کیا جائے تو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟  

جواب

جو جگہ ایک دفعہ مسجد بن جائے، وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے، اور مسجد نماز کے لیے بنائی جاتی ہے، اب وہاں وضو خانہ اور واش رومز بنانے میں ایک تو اس جگہ نماز پڑھنے سے روکنا پایا جائے گا اور دوسرا وقف میں تغیر و تبدل کرنا پایا جائے گا اور یہ دونوں کام ناجائز و گناہ ہیں۔ نیز مسجد میں وضو خانے اور واش رومز بنانے کی صورت میں مسجد کے اندر وضو کرنا اور پاخانہ کرنا پایا جائے گا، اور مسجد کے اندر یہ دونوں کام ناجائز و حرام ہیں۔ کرنے والے بھی گنہگار اور کروانے والے بھی گنہگار، لہذا عین مسجد کی جگہ پر وضو خانہ اور واش رومز بنانے والے حرام کے مرتکب اور سخت گنہگار ہوئے، ان پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور ان کو ختم کرکے دوبارہ اس جگہ کو ویسی بنادیں جیسی پہلے تھی، اور اس میں چندے کی رقم لگانا جائز نہیں بلکہ اپنی ذاتی رقم سے یہ اصلاح کریں اور پہلے اگر چندے کی رقم لگائی تو اس کا تاوان بھی ادا کریں کہ اس کام میں چندہ لگانے کی شرعا اجازت نہیں تھی تو یہ تعدی ہوئی اور تعدی سے تاوان لازم آتا ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ البقرۃ، پ 01، آیت 114)

در مختار میں ہے "(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي)" ترجمہ: اور اگر مسجد کا ارد گرد ویران ہو جائے تو وہ شیخین کے نزدیک ہمیشہ تا قیام قیامت مسجد ہی رہے گی اور اسی پر فتوی ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الوقف، ج 06، ص 550، کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے "ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته" ترجمہ: وقف کی ہیئت کو بدلنا جائز نہیں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، ج 02، ص 490، کوئٹہ)

در مختار میں ہے "(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء۔۔۔(وإدخال نجاسة فيه) وعليه (فلا يجوز الاستصباح بدهن نجس فيه) ولا تطيينه بنجس (ولا البول) والفصد (فيه ولو في إناء)" ترجمہ: اور مسجد کے اوپر وطی کرنا، پیشاب اور پاخانہ کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ آسمان کے کنارے تک مسجد ہے اور مسجد میں اور مسجد کے اوپر نجاست داخل کرنا مکروہ تحریمی ہے پس اس میں ناپاک تیل جلانا جائز نہیں ہے اور نہ ناپاکی کے ساتھ لیپ کرنا جائز ہے اور نہ اس میں پیشاب کرنا اور فصد کھلوانا جائز ہے اگرچہ کسی برتن میں ہی ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 2، ص 516، کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے "وتكره المضمضة والوضوء في المسجد" ترجمہ: اور مسجد میں کلی اور وضو کرنا مکروہ ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، ج 01، ص 110، کوئٹہ)

فتح القدیر میں ہے "الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ" ترجمہ: وقف کو اس کی پہلی صورت پر رکھنا واجب ہے۔ (فتح القدیر، کتاب الوقف، ج 06، ص 228، دار الفکر، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے "اقول: مگر یہ بنا و غرس جائز میں ہے، ناجائز کے لئے حکم ہدم و قلع ہے، رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لیس لعرق ظالم حق" (ظالم رگ کا کوئی حق نہیں ہے۔) در مختار میں ہے: "لوبنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لو تمت المسجدیۃ ثم اراد البناء منع، ولو قال عنیت ذٰلک لم یصدق تاتارخانیۃ، فاذا کان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ، فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد"( اگر واقف نے مسجد کے اوپر امام کا حجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو اسے روکا جائے گا اگرچہ وہ کہے کہ میرا شروع سے یہ ارادہ تھا، تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، تاتارخانیہ۔ جب خود واقف کا یہ حکم ہے تو غیر واقف کو کیسے اجازت ہو سکتی ہے لہذا ایسی عمارت کو گرادینا واجب ہے اگرچہ وہ مسجد کی دیوار پر ہو۔)۔۔۔۔اور ہم بیان کرچکے بلا ضرورت مذکورہ مسجد میں پیڑ بونا جائز نہیں" لشغلہ موضع الصلٰوۃ ولشبہ البیع والکنائس" (کیونکہ اس طرح نماز کی جگہ بھی مشغول ہوگی اور گرجا اور کلیسا سے مشابہت بھی ہوگی۔) اور یہ کہ اس کا باقی رکھنا جائز نہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 339۔340، رضا فاونڈیشن، لاہور)

 فتاوی رضویہ میں ہے "معصیت میں مال وقف کا صرف دوہرا حرام ہے بلکہ تین حراموں کا مجموعہ، ایک وہ معصیت دوسرے مال وقف پر تعدی تیسرے مستحق کی محرومی مگر ان امور حادثہ سے نفس وقف پر کوئی ضرر نہیں، جو متولی ان میں صرف کرے گا اس قدر کا تاوان اس پر لازم ہوگا" لانہ امین وکل امین بالتعدی ضمین" (کیونکہ وہ امین ہے اور ہر امین ناجائز تصرف پر ضامن بنتا ہے۔)" (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 155، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-10622
تاریخ اجراء: 20 رمضان المبارک 1442ھ / 03 مئی 2021ء