کیا زندہ کی طرف سے عمرہ کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زندہ انسان کی طرف سے عمرہ کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بعض لوگوں کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ عمرہ مرحوم کی طرف سے کرسکتے ہیں زندہ کی طرف سے نہیں زندہ کی طرف سے طواف ہوتا ہے؟
جواب
اپنے کسی بھی نیک کام مثلا حج، عمرہ، طواف، روزہ، صدقہ و غیرہ کا ثوب اپنے والدین اور دوسرے مسلمانوں کو بخش سکتے ہیں خواہ وہ حیات ہوں یا وفات پاچکے ہوں۔ لہذا جس طرح عمرہ فوت شدہ شخص کو ثواب پہنچانے کی نیت سے کیا جا سکتا ہے اسی طرح زندہ کی طرف سے بھی عمرہ کیا جاسکتا ہے۔ سوال میں جو بات بیان کی گئی ہے کہ عمرہ زندہ کی طرف سے نہیں ہوسکتا، بے جا بات ہے اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔
حدیث پاک میں ہے: "عن ابی رزین العقيلي انه اتى النبي صلى اللہ تعالى عليه و آله و سلم فقال: يا رسول الله (صلى الله علیه و سلم) ان ابی شیخ كبير لا يستطيع الحج و لا العمرة و لا الظعن، قال: حج عن ابيك و اعتمر۔" حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم) میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج و عمرہ کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ سوار ہونے کی۔ ارشاد فرمایا: اپنے باپ کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔ (جامع الترمذي، ص 309، مطبوعہ: مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فتاوی امجد یہ میں فرماتے ہیں: ایصال ثواب مستحب ہے۔ اور جو کچھ نیک کام کیا ہو اور اس کا ثواب کسی کو پہنچانا چاہتا ہو تو یہ دعا کرے کہ الہی اسے قبول فرما اور اس کا ثواب فلاں فلاں کو پہنچا۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ جمیع مومنین و مومنات کو پہنچائے۔ امید کہ سب کو پورا پورا ثواب ملے اور اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو بلکہ سب کے مجموعے کے برابر ہے۔ رد المحتار میں ہے: "صرح علماونا في باب الحج عن الغير بان للانسان ان يجعل ثواب عمله لغيره صلوة او صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهدايه بل في زكاة التتارخانيه عن المحيط الافضل لمن يتصدق نقلا ان ينوى لجميع المومنين و المؤمنات لانها تصل اليهم و لا ينقص من أجره شي و هو مذهب أهل السنة و الجماعة" ہمارے علماء نے باب الحج عن الغیر میں اس کی تصریح کی ہے کہ انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو بخش دے یہ عمل نماز ہو روزہ ہو صدقہ ہو یا کچھ اور ہو ہدایہ میں بھی یہ ہی ہے۔ بلکہ تتارخانیہ کی کتاب الزکوۃ میں محیط سے یہ نقل کیا کہ ایصال ثواب کرنے والے کے لیے افضل یہ ہے کہ تمام مومنین و مومنات کی نیت کرے اس لیے کہ ثواب سب کو پہنچے گا اور اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی یہ ہی اہلسنت و الجماعت کا مذہب ہے۔ اس میں ہے: "و فی البحر من صام و صلی او تصدق و جعل ثوابه لغيره من الاموات و الاحياء جاز و يصل ثوابها اليهم عند أهل السنة و الجماعة كذا في البدائع ثم قال و بهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا و حيا و الظاهر انه لا فرق بين الفرض و النفل" بحر الرائق میں ہے کسی نماز پڑھی اور روزہ ر کھا خیرات کیا اور اس کا ثواب کسی مردے یا زندہ کو بخش دیا یہ جائز ہے اور ان کو ثواب ملے گا اہلسنت و الجماعت کے نزدیک بدائع میں بھی ایسے ہی ہے۔ پھر صاحب بحرنے فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ جسے ثواب بخشا گیا وہ زندہ ہو یا مردہ ہو کوئی فرق نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جس عمل کا ثواب بخشا گیا وہ نفل ہو یا فرض۔ (فتاوی امجدیہ، ج 1، حصہ 01، ص 336 / 337، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1149
تاریخ اجراء: 13 ربیع الاول 1444ھ / 10 اکتوبر 2022ء