کیا میدان عرفات میں جمعہ ادا کیا جا سکتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عرفات میں جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس سال 1443 بمطابق 8 جولائی سن 2022 بروز جمعہ حج کا رکن اعظم یعنی وقوف عرفات ہورہا ہے، سوال یہ ہے کہ عرفات میں جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر جمعہ قائم نہیں کیا جاسکتا تو کیا جمعہ کے دن ظہر اور عصر جماعت کے ساتھ قائم ہوسکتی ہیں؟
جواب
جمعہ کی شرائط میں سے ایک شرط شہر ہونا بھی ہے جبکہ عرفات غیر آباد علاقہ ہے، فقہائے کرام کی صراحت کے مطابق عرفات شہر کے حکم میں نہیں ہے، اس لیے عرفات میں جمعہ قائم نہیں ہوسکتا۔
فقہائے کرام نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ جہاں جمعہ قائم نہیں ہوتا جیسے گاؤں وغیرہ، وہاں ظہر کی جماعت قائم کرنا درست ہے اس لیے کہ اس مقام پر ظہر کی جماعت، جمعہ کی تقلیل جماعت کا سبب نہیں ہے چونکہ عرفات میں جمعہ نہیں ہوتا اس لیے عرفات میں جمعہ والے دن بھی ظہر و عصر کی جماعت دیگر شرائط کی موجودگی میں ہوسکتی ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن حجۃ الوداع کے موقع پر ظہر و عصر پڑھائی تھی۔
معرفۃ السنن و الآثارمیں ہے: ”عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم انہ یوم عرفۃ جمع بین الظھر و العصر ثم راح الموقف و کان ذلک یوم الجمعۃ“ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن ظہر و عصرکو جمع فرمایا پھر موقف کی طرف تشریف لے گئے، وہ دن جمعہ کا دن تھا۔ (معرفۃ السنن و الآثار، جلد 4، صفحہ 324، مطبوعہ بیروت)
ہدایہ شریف میں ہے: ”و لا جمعۃ بعرفات فی قولھم جمیعا لانھا فضاء“ یعنی تمام ائمہ کے قول کے مطابق عرفات میں جمعہ نہیں ہوگا اس لیے کہ یہ غیر آباد میدان ہے۔ (ھدایہ مع فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 25، مطبوعہ کوئٹہ)
مجمع الانھرمیں ہے: ”(و لا) تصح الجمعۃ (بعرفات) لانھا لا تتمصر باجتماع الناس و حضرۃ السلطان لانھا من البراری القفار“ یعنی عرفات میں جمعہ صحیح نہیں اس لیے لوگوں کے اجتماع اور سلطان کی موجودگی میں یہ شہرنہیں بنے گا اس لیے کہ یہ غیر آباد علاقہ ہے۔ (مجمع الانھر، جلد 1، صفحہ 249، مطبوعہ کوئٹہ)
مبسوط للسرخسی میں ہے: ”(و لا جمعۃ بعرفۃ) یعنی اذا کان الناس یوم الجمعۃ بعرفات لا یصلون الجمعۃ بھا لان المصر من شرائط الجمعۃ و عرفات لیس فی حکم المصر اذ لیس لھا ابنیۃ انما ھی فضاء و لیست من فناء مکۃ“ یعنی عرفات میں جمعہ نہیں ہوگا یعنی اگر لوگ جمعہ کے دن عرفات میں جمع ہوجائیں تو وہاں جمعہ نہیں پڑھیں گے اس لیے کہ شہر ہونا جمعہ کی شرائط میں سے ہے اور عرفات شہر کے حکم میں نہیں ہے اس لیے کہ عرفات میں عمارتیں نہیں ہیں، یہ تومحض چٹیل میدان ہے اور یہ فنائے مکہ میں سے نہیں ہے۔ (مسبوط للسرخسی، جلد 4، صفحہ 63، مطبوعہ کوئٹہ )
المحیط الرضوی میں ہے: ”یصلی الظھر بجماعۃ فی موضع لا جمعۃ فیہ لانہ لا یودی الی تقلیل الجماعۃ فی الجمعۃ“ یعنی جس جگہ جمعہ نہیں ہوتا وہاں ظہر جماعت کے ساتھ پڑھی جائے گی اس لیے اس جگہ ظہر کی جماعت جمعہ کی تقلیل جماعت کا سبب نہیں ہے۔ (المحیط الرضوی، جلد 1، صفحہ 402، دار الکتب العلمیہ بیروت)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: عرفات میں (جمعہ) مطلقا نہیں ہوسکتا، نہ حج کے زمانے میں، نہ اور دنوں میں۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 763 - 764، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
مزید فرماتے ہیں فرماتے ہیں: گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 774، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
مصدق: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-12287
تاریخ اجراء: 07 ذو الحجۃ 1443ھ / 07 جولائی 2022ء