حج تمتع کرنے والا حج کا احرام کہاں سے باندھے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج تمتع والا 8 ذو الحجہ کو حج کا احرام کہاں سے باندھے گا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حج تمتع کرنے والا، عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیتا ہے، تو کیا اب اسے 8 ذو الحجہ کو احرام باندھنے میقات سے باہر جانا ہوگا؟ کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ احرام میقات کے باہر سے باندھ کر آنا ہوتا ہے۔ اور یہ بھی بتادیں کہ ہم نیت کیا کریں گے؟ کیونکہ حج تمتع کی نیت تو ہم پہلے ہی کرچکے تھے (یعنی ہماری تو پہلے سے ہی نیت تھی کہ ہم حج تمتع کریں گے)۔
جواب
حج تمتع کرنے والا اگر عمرہ کرنے کے بعد مکہ میں ہی ہو، تو ایسی صورت میں اس کیلئے حج کے احرام کی جگہ حرم ہے یعنی حرم میں کسی بھی جگہ سے احرام باندھ سکتا ہے اور افضل یہ ہے کہ مسجد الحرام سے باندھے، کیونکہ ایسی صورت میں حج تمتع کرنے والا مکی کے حکم میں ہے یعنی مکہ کا رہائشی تو نہیں لیکن مکہ میں داخل ہونے کی وجہ سے مکہ والوں کے حکم میں ہوگیا ہے اور جو شخص مکی ہو یا مکی کے حکم میں ہو اس کیلئے حج کا احرام، حرم سے ہی باندھنا لازم ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ میقات سے احرام باندھنا، ہر صورت میں لازم نہیں ہوتا، بلکہ جب کوئی شخص میقات کے باہر سے مکہ میں داخل ہو، تو صرف اِس صورت میں اُسے حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کا احرام، میقات سے باندھنا لازم ہوتا ہے۔ نیز حج تمتع کرنے کا ارادہ ہونا اور بات ہے اور احرام باندھتے وقت حج کی نیت کرنا اور بات ہے، حج تمتع میں چونکہ پہلے صرف عمرہ کے احرام کی نیت کی جاتی ہے اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھل جاتا ہےاور پھر اس کے بعد 8 ذو الحجہ کو حج کا احرام باندھتے ہیں، لہذا 8 ذو الحجہ کو آپ احرام باندھتے وقت صرف حج کی نیت کریں گے۔
حج تمتع کرنے والا اگر عمرہ کی ادائیگی کے بعد مکہ میں ہو تو اس کیلئے حج کے احرام کی جگہ حرم ہے، جیسا کہ لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے: (من کان منزلہ فی الحرم) کسکان مکۃ و منی (فوقتہ الحرم للحج) و من المسجد افضل (و کذلک) أی مثل حکم اھل الحرم (کل من دخل الحرم من غیر اھلہ و ان لم ینو الاقامۃ بہ، کالمفرد بالعمرۃ و المتمتع) أی من اھل الافاق‘‘ ترجمہ: جس کا گھر حرم میں ہو جیسے مکہ اور منی کے رہائشی، تو ان کیلئے حج کے احرام کی جگہ حرم ہے اور مسجد الحرام سے احرام باندھنا افضل ہے، اسی طرح وہ لوگ جو مکہ میں رہتے نہیں اور وہ حرم میں داخل ہوجائیں، تو وہ بھی حج کے احرام میں مکہ والوں کے حکم میں ہے، اگرچہ انہوں نے مکہ میں اقامت کی نیت نہ کی ہو جیسے صرف عمرہ کرنے والے اور میقات کے باہر سے حج تمتع کیلئے آنے والے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب المواقیت، فصل فی الصنف الثانی، صفحہ 117، مکۃ المکرمۃ)
میقات سے حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے متعلق، لباب المناسک میں ہے: (و حکمھا وجوب الاحرام منھا لاحد النسکین … لمن اراد دخول مکۃ أو الحرم) ترجمہ: میقات کا حکم یہ ہے کہ جو شخص مکہ یا حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے، اس کیلئے عمرہ یا حج میں سے کسی ایک کا احرام میقات سے باندھنا واجب ہے۔ (لباب المناسک، فصل فی مواقیت- الصنف الاول، صفحہ 88، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
رفیق الحرمین میں ہے: (حج تمتع میں) عمرہ ادا کرنے کے بعد حلق یا قصر کروا کے احرام کھول دیا جاتا ہے اور پھر 8 ذو الحجہ یا اس سے قبل (پہلے) حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔ (رفیق الحرمین، صفحہ 70، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1741
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 15 جون 2023ء