حیض کی حالت میں طواف کرنے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ماہواری کی حالت میں طواف کرلیا تو کیا حکم ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی نے عمرے کا مکمل طواف یا کچھ پھیرے حیض کی حالت میں کر لیے تو کیا کفارہ ہو گا ؟ یونہی اگر کسی نے مکمل نفلی طواف یا کچھ پھیرے حیض کی حالت میں کر لیے تو کیا کفارہ ہو گا ؟
جواب
(1) عمرے کا مکمل طواف، یا کچھ پھیرے اگرچہ ایک پھیرا ہی حیض کی حالت میں کیا تو دم لازم ہوگا۔ مکہ مکرمہ میں ہوتے ہوئے اس کا اِعادہ یعنی جتنے پھیرے ناپاکی کی حالت میں کیے، ان کا دوبارہ پاکی کی حالت میں کرنا واجب ہے۔ اگر اعادہ کرلیا تو دم ساقط (ختم) ہوجائے گا۔
(2) نفلی طواف مکمل، یا اس کے اکثر یعنی چار یا اس سے زائد پھیرے حیض کی حالت میں کئے تو دم لازم ہوگا۔ اور اگر اَقل یعنی تین یا اس سے کم پھیرے حیض کی حالت میں کیے تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ فطر، یا اس کی قیمت لازم ہوگی۔ مکہ مکرمہ میں ہوتے ہوئے اس کا اعادہ یعنی جتنے پھیرے ناپاکی کی حالت میں کیے، ان کا دوبارہ پاکی کی حالت میں کرنا واجب ہے۔ اگر اِعادہ کرلیا تو جس صورت میں دم لازم ہوا ہو، اس میں دم اور جس صورت میں صدقہ لازم ہوا ہو، اس میں صدقہ ساقط ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ مذکورہ احکام صرف حیض کی حالت کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اگر عورت نفاس کی حالت میں ہو، یا کوئی شخص جنبی ہو یعنی غسل فرض ہو، تب بھی اس حالت میں عمرے اور نفلی طواف کرنے کے یہی احکام ہوں گے۔ نیز چونکہ طواف کیلئے حیض و نفاس اور جنابت سے پاک ہو نا واجب ہے، اور ناپاکی کی حالت میں طواف کرنا اور مسجد الحرام میں داخل ہونا حرام ہے، لہذا اس حالت میں طواف کرنے کی وجہ سے گناہ بھی ہوگا، اس سے توبہ بھی کرنی ہوگی۔ نیز دم لازم ہونے کی صورت میں اس کی ادائیگی حدود ِحرم میں کرنا ضروری ہوگا ۔
عمرے کا مکمل طواف، یا ایک ہی پھیرا حیض کی حالت میں کیا تو دم لازم ہوگا، چنانچہ رد المحتار علی الدر المختار او ر لباب المناسک میں ہے: واللفظ للاول: ’’ولو طاف للعمرۃ کلہ أو أکثرہ أو أقلہ ولو شوطا جنبا أو حائضا أو نفساء أو محدثا، فعلیہ شاۃ ولا فرق فیہ أی فی طواف العمرۃبین القلیل و الکثیر والجنب والمحدث لأنه لا مدخل في طواف العمرة للبدنة ولا للصدقة‘‘ ترجمہ: اگر کسی نے عمرے کے طواف کے تمام یا اکثر یا اقل پھیرے، جنابت یا حیض و نفاس یا بے وضو ہونے کی حالت میں کیے، تو ان تمام صورتوں میں اس پر ایک بکری لازم ہوگی اور عمرے کے طواف میں تھوڑے اور زیادہ پھیروں کا، اور جنبی اور بے وضو ہونے کی حالت میں کرنے کا کوئی فرق نہیں، (بہر صورت دم کا لازم ہونا اس وجہ سے ہے) کیونکہ عمرے کے طواف میں بدنہ اور صدقہ کا کوئی دخل نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، باب الجنایات، صفحہ 663، مطبوعہ کوئٹہ)
عمرے کے طواف کا اگر پاکی کی حالت میں اعادہ کرلیا، تو دم ساقط ہوجائے گا، چنانچہ الاختيار لتعليل المختار میں ہے: ’’ولو طاف للعمرة جنبا أو محدثا فعليه شاة؛ لأنه ركن فيها، ۔۔۔والحائض كالجنب لاستوائهما في الحكم، ولو أعاد ۔۔۔ على طهارة سقط الدم لأنه أتى بها على وجه المشروع فصارت جنايته متداركة فسقط الدم‘‘ ملتقطاً۔ ترجمہ: اور اگر کسی نے طوافِ عمرہ جنابت یا بے وضو ہونے کی حالت میں کیا تو اس پر دم لازم ہوگا، کیونکہ عمرہ میں طواف رکن ہے، ۔۔۔اور حائضہ عورت کا حکم بھی جنبی ہی کی طرح ہے، کیونکہ اس مسئلے میں دونوں کا حکم یکساں ہے۔ اور اگر طہارت کی حالت میں طواف کو دوبارہ کر لے تو دم ساقط ہو جائے گا، کیونکہ اس نے طواف کو مشروع طریقے کے مطابق ادا کر لیا، تو سابقہ کوتاہی کی تلافی ہو گئی، لہٰذا دم بھی ساقط ہوجائے گا۔ (الاختيار لتعليل المختار ، جلد 1، باب الجنایات، صفحہ 162، دار الكتب العلمية، بيروت)
نفلی طواف مکمل، یا اس کے اکثر پھیرے جنبی یا حیض و نفاس کی حالت میں کیے تو اعادہ کرے ، اعادہ نہ کیا تو دم لازم ہے ، چنانچہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی حنفی رحمۃ اللہ علیہ ’’حاشیہ شرنبلالی‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’قدمنا أن كل طواف تطوع فهو كذلك حتى لو كان جنبا في القدوم أو التطوع أعاده ولزمه دم إن لم يعدہ‘‘ ترجمہ: ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ ہر نفلی طواف، تو وہ طواف قدوم کی طرح ہے، یہاں تک کہ اگر طواف قدوم، یا نفلی طواف میں جنبی ہو، تو اعادہ کرے گا، اور اگر اعادہ نہ کیاتو دم لازم ہوگا۔ (حاشیۃ الشرنبلالی علی درر الحکام شرح غرر الاحکام، جلد 1، صفحہ 245، مطبوعہ کراچی)
لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: ’’(ولو طاف للقدوم) أی کلہ أو اکثرہ (جنبا فعلیہ دم) ۔۔۔وحکم کل طواف تطوع کحکم طواف القدوم‘‘ ترجمہ: اور اگر طواف قدوم کے تمام یا اکثر پھیرے جنبی ہونے کی حالت میں کیے تو ا س پر دم لازم ہے۔۔۔اور ہر نفلی طواف کا حکم بھی طوافِ قدوم ہی کی طرح ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی الجنایۃ فی طواف القدوم، صفحہ 389، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ’’فرض کے سوا کوئی اور طواف کُل (مکمل) یا اکثر (چار یا اس سے زائد پھیرے) جنابت میں کیا تو دَم دے۔۔۔ اور تین پھیرے یا اس سے کم جنابت میں کیے تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ۔ پھر اگر مکہ معظمہ میں ہے تو سب صورتوں میں اعادہ کرلے، کفارہ ساقط ہو جائے گا۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1176، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
طواف میں نجاست حکمیہ سے پاک ہونا واجب ہے، اگر کوئی اسی حالت میں طواف کرلے تو طواف ادا ہوجائے گا لیکن گنہگار ہوگا، اور اعادہ نہ کرنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا، چنانچہ ’’المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط‘‘ میں ہے: ’’أن الطھارۃ عن النجاسۃ الحکمیۃ واجبۃ فلو طاف معھا یصح عندنا ولم یحل لہ ذلک ویکون عاصیا، ویجب علیہ الاعادۃ أو الجزاء ان لم یعد“ ترجمہ: نجاست حکمیہ سے پاک ہونا طواف میں واجب ہے تو اگر کسی نے اسی حالت میں طواف کرلیا تو ہمارے نزدیک طواف ادا ہو جائے گا، لیکن اس کیلئے اس حالت میں طواف کرنا، جائز نہیں ہوگا اور وہ گنہگار ہوگا، اور اس پر طواف کا اعادہ، اور اعادہ نہ کرنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔ ( المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب انواع الاطوفۃ، صفحہ 167، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1290
تاریخ اجراء: 26 صفر المظفر 1448ھ/10 اگست 2026ء