عورت کا بہو کے بھائی کے ساتھ عمرہ پر جانا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خاتون کا اپنی بہو اور اس کے بھائی کے ساتھ عمرہ پر جانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک خاتون 60 سال کی ہیں اور عمرے پر جانے کی خواہش مند ہیں، لیکن کسی محرم کی ترکیب نہیں بن پا رہی، ان کی بہو اپنے بھائی کے ساتھ عمرہ کے لئے جا رہی ہے، تو کیا یہ خاتون بھی ان کے ساتھ جا سکتی ہیں جبکہ بہو کا بھائی شریف، دین دار انسان ہے؟
جواب
عورت کے لئے شرعی مسافت یعنی تین دن کی راہ (تقریباً 92 کلومیٹر) کا سفر بغیر محرم/ شوہر کے کرنا، ناجائز و گناہ ہے چاہے وہ بوڑھی ہی کیوں نہ ہو۔ اپنی بہو کا بھائی محرم نہیں، لہٰذا مذکورہ خاتون کا اپنی بہو اور اس کے بھائی کے ساتھ عمرہ پر جانا جائز نہیں۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو، تو اُس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھیا۔“(بہارِ شریعت، ج 1، ص 1044، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2472
تاریخ اجراء:11 ربیع الاول1447ھ/05 ستمبر 2025ء