احرام کی حالت میں بال ٹوٹنا اور ہونٹ کی کھال اتارنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
احرام کی حالت میں بال ٹوٹنے اور ہونٹ کی خشک کھال اتارنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں عمرہ کرنے مکہ پہنچی تو حائضہ تھی، احرام کی نیت میقات سے کر لی تھی، عمرہ کی ادائیگی سے پہلے دو دن ناپاکی کے جو گزرے، ان میں کچھ معاملات ہوئے: (1) سوتے وقت یا دوپٹہ اوڑھتے، اتارتے کچھ بال ٹوٹے ہیں۔ (2) ہونٹوں سے خشک جلد چھیلی۔ ان صورتوں میں کیا حکم ہے؟
جواب
احرام کی حالت میں اگر دوپٹہ کھولتے یا اوڑھتے وقت بال ٹوٹے تو اس صورت میں ایک دو یا تین بال تک ہر بال کے بدلے ایک مٹھی اناج مثلاً گندم وغیرہ یا اس کی قیمت صدقہ کرنی ہوگی اور تین سے زیادہ بال پر صدقہ فطر ادا کرنا ہوگا جبکہ چوتھائی سر کی حد تک نہ پہنچیں۔ اسی طرح سوتے وقت جو بال ٹوٹے اگر وہ اپنے فعل سے ٹوٹے مثلاً ہاتھ لگا اور بال ٹوٹا تو اب بھی یہی حکم ہے۔ ہاں جو بال ہاتھ لگائے بغیر خود ہی ٹوٹ گئے ان پر کوئی کفارہ نہیں۔
ہونٹ چھیلنے کی صورت میں جو کھال اتری اس پر کوئی کفارہ نہیں۔
اگر احرام کی حالت میں بال ٹوٹ جائیں، تو اس کے کفارے کے متعلق مناسک ملا علی قاری میں ہے: ’’ولو سقط من راسہ او لحیتہ ثلاث شعرات عند الوضوء او غیرہ ای حین مسہ وحکہ۔۔ فعلیہ کف من طعام۔۔۔ او کسرۃ ای من خبز او تمرۃ لکل شعرۃ‘‘ اگر سر، یا داڑھی کے تین بال وضو کرنے یا اس کے علاوہ یعنی چھونے یا کھجانے سے گریں، تو اس پر ایک مٹھی اناج یا ایک ٹکڑا روٹی یا ایک چھوہارا صدقہ کرنا لازم ہوگا۔ (مناسک ملا علی قاری، ص 327، مطبوعہ کراچی، ملتقطاً)
تنویر الابصار اور درِ مختار میں ہے: ’’(الواجب دم علی محرمٍ اِن حلق) ای: ازال (ربع راسہ) او ربع لحیتہ (و ان حلق اقل من ربع راسہ) او لحیتہ (تصدق)‘‘ یعنی محرم پر دَم واجب ہے اگر اس نے اپنے چوتھائی سر یا اپنی چوتھائی داڑھی کے بال منڈائے یعنی دور کیے اور اگر اپنے سر یا داڑھی کے چوتھائی سے کم بال منڈائے، تو صدقہ دے۔ (درالمختار مع ردالمحتار، جلد 3، صفحہ 651۔671، مطبوعہ کوئٹہ، ملخصاً)
فتاوی قاضی خان میں ہے: ’’ان نتف من راسہ او من انفہ او لحیتہ شعرات فبکل شعرۃ کف من طعام‘‘ اگر اپنے سر یا ناک یا داڑھی سے چند بال نوچے، تو ہر بال کے بدلے میں ایک مٹھی اناج ہے۔ (فتاویٰ قاضی خان، ج 1، ص 256، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ”اپنے آپ بے ہاتھ لگائے بال گر جائے یا بیماری سے تمام بال گر پڑیں تو کچھ نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 1172، 1171، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حالت احرام میں اگر کسی مقام کی کھال اکھڑ گئی یا اکھیڑ دی تو اس صورت میں کچھ لازم نہیں۔ جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: ”احرام میں یہ باتیں جائز ہیں: ۔۔۔۔ ٹوٹے ہوئے ناخن کو جدا کر دینا۔ دنبل یا پُھنسی توڑ دینا۔ ختنہ کرنا۔۔۔۔ الخ“(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1081، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2467
تاریخ اجراء:29 محرم الحرام 1447ھ/25 جولائی 2025ء