احرام میں آئی ڈراپ ڈالنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حالت احرام میں آنکھوں میں قطرے ڈالنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جی ہاں!حالت احرام میں آئی ڈراپ ڈال سکتے ہیں جبکہ وہ ڈراپ ایسی خوشبو والے نہ ہوں کہ جن میں آگ کا عمل نہ کیا ہو۔عمومی طورپر آئی ڈراپ میں خوشبو نہیں ہوتی اورحدیث پاک میں احرام کی حالت میں بیماری کی وجہ سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کوآنکھ میں ایک خاص قسم کی دوا ڈالنے کی اجازت عطا فرمائی گئی ہے تاہم اگر ان ڈراپس میں کچی خوشبو شامل کی گئی ہو جسے حرارت دے کر پکایانہ گیا ہو تو ایسے آئی ڈراپ احرام کی حالت میں استعمال کرنا، جائزنہیں ہوگا جیسا کہ خوشبودار سرمہ ڈالنا جائز نہیں ہے۔
جامع ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے: ''أن عمر بن عبيد اللہ بن معمر اشتكى عينيه و هو محرم، فسأل أبان بن عثمان، فقال: اضمدهما بالصبر، فإني سمعت عثمان بن عفان، يذكرها عن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول: «اضمدهما بالصبر»: هذا حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم: لا يرون بأسا أن يتداوى المحرم بدواء ما لم يكن فيه طيب'' ترجمہ: عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کر لو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ان پر ایلوے کا لیپ کر لو“ (امام ترمذی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں): یہ حدیث حسن صحیح ہے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔ (سنن ترمذی شریف، جلد 3، صفحہ 278، مصطفى البابي الحلبي، مصر)
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے: "فلا جزاء فیما یطبخ کالقھوۃ المذکورۃ وکدواء طبخ بھیل ونحوہ لانہ صار مستھلکاً" ترجمہ:جس چیز کو پکالیا گیا ہو، اس میں کوئی کفارہ نہیں، جیسا کہ مذکورہ قہوہ اور وہ دوا جس میں ھیل اور اس کی مثل کو پکالیا گیا ہو، کیونکہ وہ فنا ہوگئی۔ (ارشاد الساری، صفحہ 351، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے ”خوشبودار سُرمہ ایک یا دو بار لگایا تو صدقہ دے، اس سے زیادہ میں دَم اور جس سُرمہ میں خوشبو نہ ہو اُس کے استعمال میں حرج نہیں، جب کہ بضرورت ہو اور بلا ضرورت مکروہ۔“( بہار شریعت حصہ 6، صفحہ 1164،مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-025
تاریخ اجراء: 14 ربیع الاول 1448ھ / 27 اگست 2026ء