logo logo
AI Search

کیا بیٹی کی شادی کئے بغیر حج قبول نہیں ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پہلے بیٹی کی شادی کرے یا فرض حج ادا کریں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جس شخص کے گھر میں جوان بیٹی غیر شادی شدہ ہے، اس کے متعلق سنا ہے کہ اس کا حج اس وقت تک قبول نہیں ہوگا جب تک اس کی شادی نہیں ہوجاتی کیا یہ درست ہے؟

جواب

جس شخص کے گھر میں جوان بیٹی غیر شادی شدہ ہے اس کا حج اس وقت تک قبول نہیں ہوگا جب تک اس کی شادی نہیں ہوجاتی، یہ بات درست نہیں کیونکہ جس شخص پر حج فرض ہوچکا اس پر فرض ہے کہ اسی سال حج کو جائے بلاعذر شرعی اس سال حج نہ کرنا گناہ ہے اور فقہاء نے جن اعذار کی وجہ سے حج کی ادائیگی فرض نہ ہونے کا حکم دیا ہے ان میں بیٹی کی شادی کو شمار نہیں کیا لہٰذا اس وجہ سے جو حج موخر کرے گا گناہ گار ہوگا چند سال تک نہ کیا تو فاسق ہے اور اس کی گواہی مردود، مگر جب کریگا ادا ہی ہے قضا نہیں۔ نیز یاد رہے کہ شادی کے لیے کثیر اخرجات کرنا نہ فرض ہے نہ لازم بلکہ بعض صورتوں میں گناہ جیسے گانے باجے اور ناجائز رسموں پر خرچ کرنا تو شریعت کے مطابق اور سادگی سے شادی کریں جس کے لے لیے کثیر مال ہونا کوئی ضروری نہیں دوسری بات یہ ہے کہ حج کرنا مُفْلسِی پیدا نہیں کرتا بلکہ حج تو غنی بناتا ہے لہٰذا حج کریں مقدّس مقامات پر جاکر دُعا کریں اللہ کریم بہتر اسباب پیدا فرمائے گا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1203
تاریخ اجراء: 29 ربیع الاول 1444ھ / 26 اکتوبر 2022ء