طواف و سعی کے بعد حیض کے اسپاٹس دیکھنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عمرہ کے طواف و سعی کے بعد حیض کے اسپاٹس دیکھے تو حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت نے عمرے میں طواف اور سعی مکمل کرنے کے بعد تقصیر کروائی اور احرام سے فارغ ہوکر ہوٹل واپس آگئی۔ ہوٹل پہنچنے کے بعد اس نے اتفاقاً دیکھا، تو حیض کے چند اسپاٹس نظر آئیں۔ ویسے یہ ایام حیض کے شروع ہونے کے تو تھے، لیکن طواف اور سعی کے دوران، بلکہ ہوٹل پہنچ کر دیکھنے تک، اسے اسپاٹنگ کا بالکل بھی احساس نہیں ہوا۔ پوچھنا یہ تھا کہ ایسی صورت میں اس عورت کا عمرہ ادا ہوا یا نہیں؟ اور کیا اس پر کوئی دم لازم ہے؟
جواب
بيان كردہ صورت میں خاتون کا عمرہ ادا ہوگیا اور ان پر کوئی دم بھی لازم نہیں ہوا۔
جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اگرچہ طواف کے واجبات میں حیض سے پاک ہونا بھی شامل ہے اور اس کی خلاف ورزی پر جنایت یعنی کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، تاہم پوچھی گئی صورت میں حیض کا سلسلہ طواف یا سعی کے دوران شروع نہیں ہوا، بلکہ اس کا آغاز، جب خاتون نے خون دیکھا، اس وقت سے مانا جائے گا۔ کیونکہ اصول کے مطابق اگر حادث (یعنی ایسی چیز جو پہلے موجود نہیں تھی اور بعد میں شروع ہوئی) کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ یہ کب شروع ہوئی ہے، اور اس کی نسبت وقتِ بعید کی طرف ثابت بھی نہ ہوسکے، تو اس کی نسبت قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے۔ یہ فقہ کا ایک مسلمہ اصول ہے، اور اس کا انطباق ہماری صورت پر اس طرح ہوتا ہے کہ حیض کا سلسلہ ایک حادث امر ہے، جو پہلے موجود نہیں تھا اور بعد میں شروع ہوا، لیکن کب شروع ہوا یہ معلوم نہیں، اور دیکھنے سے پہلے کے اوقات میں سے کسی وقت کی طرف اس کی نسبت بھی نہیں کی جا سکتی کہ اس سلسلہ کو اس وقت سے شروع مانا جائے، کیونکہ خاتون کو پہلے اس کی کوئی علامت سرے سے محسوس ہی نہیں ہوئی، بلکہ اسے تو اس کا علم دیکھنے کے وقت ہوا ہے، لہذا اس کی نسبت اسی قریب ترین وقت کی طرف کی جائے گی، کہ پاکی اور ناپاکی میں اصل پاکی ہے، اور جب تک ناپاکی کا یقین یا ظن غالب حاصل نہ ہوجائے اس وقت تک پاکی کی حالت برقرار سمجھی جاتی ہے، اور ہماری صورت میں یہ یقین خون دیکھنے کے وقت حاصل ہو رہا ہے، جبکہ اس سے پہلے کے اوقات میں اس کا فقط احتمال ہے، اور محض احتمال ناپاکی کے ثبوت کے لئے ناکافی ہوتا ہے، لہذا یوں اس سلسلہ کی نسبت دیکھنے کے وقت کی طرف کی جائے گی اور اسی وقت سے اس کا آغاز مانا جائے گا۔
جیسا کہ فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بیان فرمایا کہ اگر کوئی خاتون پاکی کی حالت میں سوئے اور صبح بیدار ہوکر دیکھے کہ اسے حیض آچکا ہے، تو مذکورہ اصول کی بنیاد پر اس کے لیے یہی حکم ہوگا کہ جس وقت اس نے خون دیکھا، اسی وقت سے حیض کا آغاز شمار کرے، اور اس سے پہلے تک خود کو پاک سمجھے۔
حیض یعنی حدث سے پاک ہونا طواف کے واجبات میں سے ہے، جس کی خلاف ورزی پر جنایت لازم ہوتی ہے۔ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: ’’(واجبات الطواف الطھارۃ عن الحدث الاکبر والاصغر) ثم اذاثبت أن الطھارۃ عن النجاسۃ الحکمیۃ واجبۃ فلو طاف معھا یصح عندنا ویکون عاصیا، ویجب علیہ الاعادۃ أو الجزاء ان لم یعد“ طواف کے واجبات میں سے حدث اکبر (یعنی حیض و نفاس اور جنابت) اور حدثِ اصغر (یعنی بے وضو ہونے) سے پاک ہونا بھی ہے۔ پھر جب یہ ثابت ہوگیا کہ نجاست حکمیہ سے پاک ہونا طواف میں واجب ہے تو اگر کسی نے اسی حالت میں طواف کرلیا، تو ہمارے نزدیک طواف ادا ہو جائے گا، لیکن وہ گنہگار ہوگا، اور اس پر طواف کا اعادہ، اور اعادہ نہ کرنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔ (ملتقطا از لباب المناسک مع شرحہ، ص 213، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
جبکہ سعی کے لئے طہارت شرط نہیں۔ بہار شریعت میں ہے: ”سعی کے لیے طہارت شرط نہیں، حیض والی عورت اور جنب بھی سعی کر سکتا ہے۔“ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 6، ص 1109، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حادث چیز کے متعلق جو اصول بیان ہو ا، اس کے حوالے سے درر الحكام شرح مجلۃ الاحكام میں ہے: ”الأصل إضافة الحادث إلى أقرب أوقاته۔ الحادث: هو الشيء الذي كان غير موجود، ثم وجد فإذا اختلف في زمان وقوعه وسببه فما لم تثبت نسبته إلى الزمان القديم ينسب إلى الزمن الأقرب منه“ اصل یہ ہے کہ حادث چیز کی نسبت قریب ترین اوقات کی طرف کی جائے گی۔حادث سے مراد وہ چیز ہے جو پہلے موجود نہیں تھی اور بعد میں موجو د ہوئی، توجب اس کے ہونے کے وقت اور سبب میں اختلاف ہو، تو جب تک اس کی نسبت وقتِ بعید کی طرف ثابت نہ ہو، اس کی نسبت قریب ترین وقت کی طرف کی جائے گی۔ (درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام، ج 01، ص 28، دار الجيل)
پاکی کی حالت میں سونے اور حیض کی حالت میں اٹھنے والے مسئلے کے متعلق منهل الواردين میں ہے: ”(ولو) وضعته (الکرسف) ليلا وكانت (طاهرة فرأت عليه الدم) في الصباح (فحيض من حين رأت) على القياس في إسناد الحوادث إلى أقرب الاوقات وفى الفتح فتقضى العشاء أيضا ان لم تكن صلتها قبل الوضع“ رات میں کرسف (پیڈ) رکھا اور اس وقت وہ پاک تھی، لیکن صبح پیڈ پر خون دیکھا، تو حوادث کی نسبت اقرب ترین اوقات کی طرف ہوتی ہے، اس اصول پر بنا کرتے ہوئے اس خون کو، دیکھنے کے وقت سے حیض شمار کیا جائے گا۔ فتح میں فرمایا: لہذا اگر اس نے پیڈ رکھنے سے پہلے عشاء کی نماز نہیں پڑھی تھی تو اس کی قضا کرے گی۔ (منھل الواردین، ص 85، در سعادت، إسطنبول)
اسی مسئلے کے حوالے سے در مختار میں ہے: ”وفي الفيض: لو نامت طاهرة وقامت حائضة حكم بحيضها منذ قامت احتياط“ فیض میں فرمایا: اگر پاکی کی حالت میں سوئی اور حیض کی حالت میں اٹھی تو احتیاطا اسے اٹھنے (یعنی دیکھنے) کے وقت سے حیض شمار کیا جائے گا۔
اس کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمۃ بیان فرماتے ہیں: ”حتى لو نامت قبل انقضاء الوقت ثم انتبهت بعد خروجه حائضا يجب عليها قضاء تلك الصلاة؛ لأنا جعلناها طاهرة في آخر الوقت حيث لم نحكم بحيضها إلا بعد خروجه، ۔۔۔وحيث حكمنا بطهارتها في آخر الوقت وجب القضاء ولأن الدم حادث والأصل فيه أن يضاف إلى أقرب أوقاته فتجعل حائضا منذ قامت؛ والانقطاع عدم وهو الأصل فلا يحكم بخلافه إلا بدليل ولم يعلم درور الدم في نومها فجعلت طاهرة منذ نامت“
حتی کہ اگر عشاء کا وقت ختم ہونے سے پہلے سوگئی تھی اور وقت ختم ہو جانے کے بعد حیض کی حالت میں جاگی، تو اس پر اس نماز کی قضا لازم ہوگی، کیونکہ ہم نے اسے نماز کے آخری اوقات میں پاک مانا ہے کہ وقت کے ختم ہوجانے کے بعد جاگنے کے وقت سے حیض کا حکم دیا ہے۔ اور جب ہم نے نماز کے آخری وقت میں اسے پاک قرار دیا ہے تو نماز کے آخری وقت کا اعتبار کرتے ہوئے اس پر نماز کی قضا لازم ہوگی، کیونکہ خون کا نکلنا حادث ہے اور حادث کے بارے میں اصل یہی ہے کہ اس کی اضافت قریب ترین اوقات کی طرف کی جائے، لہذا اسے اٹھنے کے وقت سے حائضہ مانا جائے گا کہ اصل خون کا نہ ہونا ہے، لہذا اس کے خلاف کا حکم اس وقت تک نہیں دیا جائے گا جب تک کوئی دلیل موجود نہ ہو، اور نیند کی حالت میں خون کا جاری ہونا معلوم نہیں ہو پاتا (تو یوں اس پر کوئی دلیل نہیں پائی گئی)، لہذا اسے سونے کے وقت سے (جاگنے تک) پاک سمجھا جائے گا۔ (در مختار مع الشامی، ج 01، ص 533، دار الفكر – بيروت)
بہار شریعت میں ہے: ”سوتے وقت پاک تھی اور صبح سو کر اٹھی تو اثر حَیض کا دیکھا تو اسی وقت سے حَیض کا حکم دیا جائے گا، عشاء کی نماز نہیں پڑھی تھی تو پاک ہونے پر اس کی قضا فرض ہے۔“ (بہار شریعت، ج 01، ص 382، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: HAB-0794
تاریخ اجراء: 28 ربیع الاول 1448ھ/11 ستمبر 2026ء