حج اکبر کسے کہتے ہیں؟ حج اکبر کی تعریف و حقیقت؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جو حج جمعہ کو ہو، اسے حجِ اکبر کہنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جو حج جمعہ کو ہو، اسے حجِ اکبر کہنا کیسا؟
جواب
حجِ اکبر کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں، ان میں مشہور قول یہ ہے کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حج فرمایا تھا، اسے حجِ اکبر کہا جاتا ہے، چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حج فرمایا، وہ جمعہ کا دن واقع ہوا تھا، اسی لئے لوگ اس حج کی یاد میں جمعہ کے دن واقع ہونے والے حج کو حجِ اکبر کہہ دیتے ہیں، اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ”وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ“ ترجمۂ کنز الایمان: اورمُنادی پکار دینا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن۔ (پارہ 10، سورۂ توبہ، آیت 3)
اس آیت کے تحت صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حج کو حجِ اکبر فرمایا، اس لئے کہ اُس زمانے میں عمرے کو حجِ اصغر کہا جاتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ اس حج کو حجِ اکبر اس لئے کہا گیا کہ اس سال رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حج فرمایا تھا اور چونکہ یہ جمعہ کو واقِع ہوا تھا اس لئے مسلمان اس حج کو جو روزِجمعہ ہو حجِ وداع کا مذکر (یعنی یاد دلانے والا) جان کر حجِ اکبر کہتے ہیں۔ (تفسیرخَزائِنُ العِرفان، ص 354، تحت الآیۃ)
رد المحتار میں علامہ نوح رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے منقول ہے: ”قیل انہ الذی حج فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ھو المشھور“ یعنی حجِ اکبر کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ حج کا دن ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حج فرمایا اور یہی مشہور ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 622، مطبوعہ: بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-402
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1443ھ / 06 اگست 2022ء