اپنی رہائش گاہ پر آکر حلق یا تقصیر کروانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام سے باہر ہونے کے لئے حلق و تقصیر کس مقام پر کی جائے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم نے سنا ہے کہ عمرہ مکمل ہونے کے بعد مرد اور عورت جب تقصیر کریں گے، تو اپنی رہائش گاہ پر آکر نہیں کرنی بلکہ باہر ہی کرنی ہے، جبکہ اس صورت میں اگر عورت وہاں تقصیر کرتی ہے، تو اس کے بال ننگے ہونے کے بھی مسائل ہیں۔ اس حوالے سے کیا حکمِ شرع ہے؟
جواب
حلق و تقصیر حدود حرم میں کرنا ضروری ہے، عموماً حج و عمرہ کی ادائیگی کے وقت رہائش گاہ حدود حرم میں ہوتی ہے، اگر رہائش گاہ حدودِ حرم میں ہی ہو تو وہاں حلق و تقصیر کرسکتے ہیں، شرعاً کوئی ممانعت نہیں۔
مناسک ملا علی قاری میں حلق و تقصیر کا مکان بیان کرتے ہوئے فرمایا: (و المکان الحرم) ای للحج و العمرۃ یعنی عمرہ اور حج میں حلق و تقصیر کی جگہ حرم مخصوص ہے۔ (مناسک ملا علی قاری، صفحہ 325، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
رد المحتارمیں ہے: ”(حلق فی حل بحج او بعمرۃ) ای یجب دم لو حلق للحج او العمرۃ فی الحل لتوقتہ بالمکان“ یعنی کسی شخص نے حج یا عمرہ میں مقام حل میں حلق کروایا تو دم واجب ہوجائے گا کیونکہ حلق کے لیے شرعی اعتبارسے جگہ (حدود حرم) مخصوص ہے۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 666، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ بھی ضرور ہے کہ حرم سے باہر مونڈانا یا کتروانا نہ ہو بلکہ حرم کے اندر ہو کہ اس کے لیے یہ جگہ مخصوص ہے، حرم سے باہر کرے گا تودم لازم آئے گا۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1142، مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-469
تاریخ اجراء: 04 صفر المظفر 1444ھ / 01 ستمبر 2022ء