logo logo
AI Search

عمرہ میں احرام کی حالت میں ٹوپی پہننا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عمرہ میں حلق سے پہلے تھوڑی دیر کے لئے ٹوپی پہن لی تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے ایک دوست عمرہ پر گئے اور انہوں نے عمرہ میں طواف و سعی مکمل کی، وہاں سے نکل کر حلق کروانے کے لئے جارہے تھے کہ راستے میں ایک ٹوپی پسند آئی، اس کا سائز چیک کرنے کے لیے سر پر رکھی اور پھر وہ ٹوپی خرید لی، دو چار منٹ بعد یاد آیا کہ ابھی تو وہ حالتِ احرام میں ہے اور اس حالت میں وہ سر نہیں ڈھانپ سکتے، تو انہوں نے وہ ٹوپی اتارلی اور پھر جا کر حلق کروالیا، اب اس صورت میں ان کے لئے کیا حکم ہے ہوگا؟ دم دیں گے یا صدقہ اور وہ پاکستان بھی واپس آچکے ہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت کے مطابق اس شخص پر ایک صدقہ فطر دینا لازم ہے، نیز یہ صدقہ فطر حرم میں دینا ضروری نہیں بلکہ اپنے ملک میں شرعی فقیر کو بھی دیا جاسکتا ہے۔

مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حلق یا تقصیر سے قبل مُحرم پر احرام کی پابندیاں برقرار رہتی ہیں، ان پابندیوں میں سے ایک پابندی سر نہ ڈھکنا بھی ہے، حتٰی کہ اگر مُحرم نے سر کا چوتھائی حصہ ڈھکا تو جان بوجھ کر ہو یا بھولے سے، بہر صورت اس پر کفارہ لازم ہوجاتا ہے اگرچہ یہ ڈھکنا ایک لمحہ کیلئے ہو، پھر اگر چار کامل پہر (یعنی بارہ گھنٹے تک) یہ ڈھکا رہا تو کفارے میں ایک دم اور اس سے کم ڈھکا رہا، تو صدقہ دینا لازم ہے۔

بہار شریعت میں ہے: مرد یا عورت نے مونھ کی ٹکلی ساری یا چہارم چھپائی یا مرد نے پورا یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یا زیادہ لگاتار چھپانے میں دَم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے۔ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 1169، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدقے سے مراد صدقۂ فطر ہے، اس کی مقدار آدھا صاع یعنی دو کلو میں 80 گرام کم (تقریباً 1920 گرام) گندم، یا ایک صاع یعنی چار کلو میں 160 گرام کم (تقریباً 3840 گرام) کھجور یا جَو ہے۔ صدقے میں ان چیزوں کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے اور گندم یا جَو کا آٹا یا ستو بھی دے سکتے ہیں۔ نیز صدقہ اپنے شہر کے شرعی فقیر (یعنی جسے زکوٰۃ دینا، جائز ہے، ایسے شخص) کو بھی دے سکتے ہیں، لیکن حرم شریف میں موجود شرعی فقیر کو دینا افضل ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1116
تاریخ اجراء: 01 ربیع الثانی 1445ھ / 17 اکتوبر 2023ء