احرام میں رانوں پر پلاسٹر لگانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حالتِ احرام میں عذر کی وجہ سے رانوں پر پلاسٹر لگانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کے بیٹے کے لیے حالت احرام میں رانوں کے اندرونی حصوں پر پلاسٹر لگانا جائز ہے اور اس سے دم وغیرہ بھی واجب نہ ہوگا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ:
چہرے اور سر کے علاوہ بدن کے کسی حصے پرپٹی، پلاسٹر لگانے کی صورت میں کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، کیونکہ چہرے اور سر کے علاوہ بدن کے کسی حصے کو ان سلی چیزکے ساتھ چھپاناممنوع نہیں ہے، اور پلاسٹر، ان سلاہی ہوتا ہے، ہاں! بغیر عذر کے بدن پرپٹی باندھنا مکروہ ہے، اور پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کے بیٹے کو عذر لاحق ہے؛ لہٰذا ان کا حالت احرام میں رانوں پر پلاسٹر لگانا بلا کراہت جائز ہے۔
علامہ علاء الدین کاسانی حنفی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: و لو عصب شيئا من جسده لعلة أو غير علة لا شيء عليه؛ لأنه غير ممنوع عن تغطية بدنه بغير المخيط، و يكره أن يفعل ذلك بغير عذر؛ لأن الشد عليه يشبه لبس المخيط‘‘ ترجمہ: اور اگر کسی محرم نے اپنے جسم کے کسی حصے پر عذر کی وجہ سے یا بغیر عذر کے پٹی باندھی تو اس پر کچھ لازم نہیں کیونکہ محرم کیلئے اپنے بدن کو بغیر سلی چیز سےڈھانپنا ممنوع نہیں لیکن بلاعذر ایسا کرنا مکروہ ہے کیونکہ جسم پر پٹی باندھنا، سلا ہوا لباس پہننے کے مشابہ ہے۔ (بدائع الصنائع، ج 02، ص 411، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے یہ باتیں احرام میں جائز ہیں: منہ اور سر کے سوا کسی اور جگہ زخم پر پٹی باندھنا۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 6، ص 1082، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5218
تاریخ اجراء: 12 صفر المظفر 1448ھ / 27 جولائی 2026ء