logo logo
AI Search

کیا حج فرض ہونے کے لئے نقد رقم ہونا شرط ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا حج صرف نقد رقم ہونے کی صورت میں فرض ہوتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حج صرف نقد رقم ہونے کی وجہ سے فرض ہوتا ہے یا سونا اور پلاٹ کی وجہ سے بھی فرض ہو جاتا ہے؟

جواب

اگر کسی کے پاس ضرورت سے زائد کرنسی، سونا، چاندی، یا رہائش کے علاوہ کوئی زائد پلاٹ موجود ہے، اور اس کی قیمت اتنی ہے کہ وہ حج کے لئے آنے جانے، نیز وہاں کھانے پینے اور رہائش کے ضروری اخراجات اور اتنی مدت کے لئے اس کے اہل و عیال کے نان نفقہ کے اخراجات کو کافی ہوں تو اس صورت میں حج فرض ہوگا۔

بہار شریعت میں حج کی شرائط کے بیان میں ہے: سفرِ خرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہو ۔۔۔ سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ چیزیں اُس کی حاجت سے فاضل ہوں یعنی مکان و لباس و خادم اور سواری کا جانور اور پیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان اور دَین سے اتنا زائد ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جائے اور وہاں سے سواری پر واپس آئے اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑجائے اور جانے آنے میں اپنے نفقہ اور گھر اہل و عیال کے نفقہ میں قدرِ متوسط کا اعتبار ہے نہ کمی ہو نہ اِسراف۔ عیال سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا نفقہ اُس پر واجب ہے، یہ ضروری نہیں کہ آنے کے بعد بھی وہاں اور یہاں کے خرچ کے بعد کچھ باقی بچے۔ (بہار شریعت ملتقطاً، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1039 / 1040، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

رہنے کا مکان اور خدمت کا غلام اور پہننے کے کپڑے اور برتنے کے اسباب ہیں تو حج فرض نہیں یعنی لازم نہیں کہ انہیں بیچ کر حج کرے اور اگر مکان ہے مگر اس میں رہتا نہیں ۔۔۔ تو بیچ کر حج کرے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1042، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-863
تاریخ اجراء: 07 رجب المرجب 1444ھ / 30 جنوری 2023ء