بے وضو طواف کرنے اور طواف کا اعادہ کرنے کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بے وضو طواف کا اِعادہ کرنے سے دَم ساقِط ہوگا یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے حالتِ حدث میں (یعنی بے وضو) طواف زیارت کر لیا تھا۔ پھر اس طواف کا اعادہ (یعنی اسے دوبارہ) بھی کر لیا لیکن اس مسئلہ کا علم مجھے بارہ ذی الحج کے بعد ہوا اور اعادہ بھی میں نے بارہ ذی الحج کے بعد کیا۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ بارہ ذی الحج کے بعد اعادہ کرنے سے میرا دَم ساقط ہوا یا نہیں؟
جواب
حالتِ حدث میں طواف کرنے سے آپ پر دَم واجب ہو گیا لیکن اس طواف کا جب آپ نے اعادہ کر لیا، اعادہ چاہے بارہ ذی الحج کے بعد کیا، بہرحال دَم ساقط ہو گیا کیونکہ حدث کی حالت میں کیے گئے طواف کا مطلقاً یعنی بارہ ذی الحج سے پہلے یا بعد جب بھی اعادہ کر لیا جائے، دَم ساقط ہو جاتا ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ذو القعدۃ الحرام 1440ء