logo logo
AI Search

جدہ کا رہائشی حج کے مہینوں میں عمرہ کر لے تو حج کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جدہ کا رہائشی عمرہ کرلے تو وہ اسی سال حج کرسکتا ہے یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں جدہ کا رہائشی ہوں، میرا حج کا ارادہ تھا اور میں نے حج کے مہینوں میں عمرہ کر لیا ہے تو کیا اب میں اس سال حج کر سکتا ہوں؟

جواب

آپ جدہ کے رہنے والے ہیں تو اگر آپ کا اس سال حج کا ارادہ تھا تو آپ کے لیے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا منع تھا، بہرحال اب آپ نے عمرہ کرلیا ہے، تو اب آپ اس سال حج نہیں کرسکتے، آئندہ سال حج کریں، اگر اس سال حج کیا تو گناہ بھی ہوگا اور اس جرم کے کفارے میں دم دینا بھی لازم ہوگا۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ:

جدہ میقات کے اندر ہے اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں (چاہے مکہ میں رہتے ہوں یا کسی اور مقام پر) اگر وہ اس سال حج کا اردہ رکھتے ہوں، تو ان کے لیے حج کے مہینوں (یکم شوال سے لے کر 10 ذو الحجہ تک) میں عمرہ کرنا منع ہوتا ہے اور اگر وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرلیں تو پھر ان کو اس سال حج کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، اگر اس سال حج کرلیں گے تو گناہ بھی ہوگا اور اس جرم کے کفارے میں دم بھی لازم ہوگا۔

بحرالرائق میں ہے "فالحاصل أن المكي إذا أحرم بعمرة في أشهر الحج فإن كان من نيته الحج من عامه فإنه يكون آثما؛ لأنه عين التمتع المنهي عنه لهم فإن حج من عامه لزمه دم جناية لا دم شكر، و إن لم يكن من نيته الحج من عامه و لم يحج فإنه لا يكون آثما بالاعتمار في أشهر الحج؛ لأنهم و غيرهم سواء في رخصة الاعتمار في أشهر الحج، و ما في البدائع من أن الاعتمار في أشهر الحج للمكي معصية محمول على ما إذا حج من عامه" ترجمہ: پس حاصل یہ ہے کہ مکی جب حج کے مہینوں میں عمرے کا احرام باندھے تو اگر اسی سال اس کی حج کرنے کی نیت بھی ہو تو وہ گنہگار ہوگا کیونکہ یہ وہی عین تمتع ہے، جس سے ان کو منع کیا گیا ہے، پھر اگر وہ اسی سال حج کر لیتا ہے تو اس پر جنایت کا دم لازم ہوگا، دمِ شکر لازم نہیں ہوگا، اور اگر اس کی اسی سال حج کرنے کی نیت نہ ہو اور نہ وہ حج کرے، تو حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار نہیں ہوگا کیونکہ مکی اور غیر مکی، دونوں کے لیے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی یکساں رخصت ہے اور وہ جو بدائع میں ہے کہ حج کے مہینوں میں مکی کا عمرہ کرنا گناہ ہے تو وہ اس صورت پر محمول ہے جب وہ اسی سال حج بھی کرے۔ (بحر الرائق، کتاب الحج، باب التمتع، ج 2، ص 393، دار الكتاب الإسلامي)

لباب و شرح لباب میں ہے ”(و يكره فعلها في أشهر الحج لأهل مكة و من بمعناهم) أي من المُقيمين و مَنْ في داخل الميقات لأن الغالب عليهم أن يحجوا في سنتهم فيكونوا متمتعين، و هم عن التمتع ممنوعون، و إلا فلا مَنْعَ للمكي عن العمرة المفردة في أشهر الحج إذا لم يحج في تلك السنة، و مَنْ خالف فعليه البيان و إتيان البرهان“ ترجمہ: اہل مکہ اور جو ان کے معنی میں ہیں یعنی مکہ میں رہنے والے اور میقات کے اندر رہنے والے، ان سب کے لئے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ غالب یہی ہے کہ یہ اسی سال حج بھی کریں گے، تو پھر وہ تمتع کرنے والے ہوجائیں گے حالانکہ تمتمع سے ان کو منع کیا گیا ہے، وگرنہ تو مکی اگر اسی سال حج نہ کرے تو حج کے مہینوں میں صرف عمرہ کرنا اس کے لئے ممنوع نہیں اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو تو اس پر دلیل سے بیان کرنا لازم ہے۔ (لباب و شرح لباب، باب العمرۃ، 656، المکتبۃ الامدادیۃ، السعودیۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1688
تاریخ اجراء: 12 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 01 جون 2023ء