خلفان نام رکھنا اور اس کا مطلب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام خلفان رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
خلفان نام رکھنا کیسا ؟
جواب
خلفان دو طریقوں سے پڑھا جا سکتا ہے، "خَلَفان" اور "خَلْفان"۔ "خَلَفان" (لام پر زبر کے ساتھ) کا اصلی مادہ "خَلَف" ہے، جس کے معنی ہیں: بعد میں آنے والا، نیک جانشین اور وارث۔ اور عربی گرائمر کے اعتبار سے اگرچہ "خَلَفان"، "خَلَف" (واحد) کی تثنیہ یعنی دو شخصوں کے لیے بولا جانے والا لفظ ہے، اور تثنیہ والے صیغے کے ساتھ ایک شخص کا نام رکھا جا سکتا ہے، کیونکہ اس صورت میں مبالغہ کے طور پر، اس کا معنیٰ مفرَد یعنی ایک شخص والا ہی ہوتا ہے، اور اس کا مقصد کسی کی تعریف و اچھائی یا مذمت و برائی بیان کرنا ہوتا ہے، مثلاً کسی کے نیک، صالح اور اچھا جانشین ہونے کو زیادہ مؤکَّد اور نمایاں کرنا وغیرہ۔ اس معنی کے لحاظ سے لڑکے کا نام "خَلَفان" رکھ سکتے ہیں۔ جبکہ "خَلْفان" (لام پر جزم کے ساتھ) کا اصلی مادہ "خَلْف" ہے اور "خَلْفان"، "خَلْف" کی تثنیہ ہے اور "خَلْف" کا معنی بُرا اور نالائق جانشین ہوتا ہے، لہٰذا اس معنی کے لحاظ سے "خَلْفان" نام رکھنا درست نہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اور ظاہر یہ ہے، کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامْ کے اسمائے مبارکہ، اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نیک لوگوں کے ناموں میں سے کسی کے نام پررکھ لیجیے، کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔
فیروز اللغات میں "خَلَف" کے یہ معنی لکھے ہیں "پیچھے آنے والا، جانشین، وارث، نیک لڑکا، سعادت مند بیٹا۔" (فیروز اللغات، صفحہ 629، فیروز سنز، کراچی)
النہایہ میں ہے ”الخلف بالتحريك والسكون: كل من يجيء بعد من مضى، إلا أنه بالتحريك في الخير، وبالتسكين في الشر. يقال خَلَفُ صِدْقٍ، وخَلْفُ سُوءٍ“ ترجمہ: الخَلَف (لام پر زبر کے ساتھ) اور الخَلْف (لام پر سکون کے ساتھ) دونوں کا معنی ہے: ہر وہ شخص جو اپنے سے پہلے گزر جانے والے کے بعد آئے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ زبر کے ساتھ اچھائی کے معنی میں آتا ہے۔ اور سکون کے ساتھ برائی کے معنی میں آتا ہے۔ (چنانچہ کہا جاتا ہے) خَلَفُ صِدْقٍ یعنی نیک اور اچھا جانشین۔ اور خَلْفُ سُوءٍ یعنی برا اور نالائق جانشین۔ (النھایۃ فی غریب الحدیث و الاثر، جلد 02، صفحہ 66، 65، المکتبۃ العلمیۃ، بیروت)
ایک شخص کا نام تثنیہ والے صیغے کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے، چنانچہ النحو الوافی میں ہے ”جرى الاستعمال قديماً وحديثًا على تسمية فرد من الناس وغيرهم باسم، لفظه مثنى ولكن معناه مفرد، بقصد بلاغي كالمدح، أو الذم، أو التلميح۔۔ مثل: حمدان تثنية حمْد“ ترجمہ: قدیم اور جدید زمانے میں یہ استعمال رائج رہا ہے کہ انسانوں وغیرہ کے لیے ایسے نام رکھے جاتے ہیں جو لفظ کے اعتبار سے تثنیہ (دو کا صیغہ) ہوتے ہیں، لیکن مبالغہ کے طور کر پر معنی کے اعتبار سے مفرد ہوتے ہیں، اور اس کا مقصد کسی کی تعریف کرنا، یا برائی بیان کرنا یا کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر "حَمدان"، جو "حمد" کی تثنیہ ہے۔ (النحو الوافي، ج 1، ص 152، 126، دار المعارف)
محمد نام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة“ ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے ”قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن“ ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 6، ص 417، دار الفکر، بیروت)
امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اورکوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہااِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے واردہوئے ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب:
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مراٰۃ المناجیح فرماتے ہیں: "بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا حضور علیہ السلام کے صحابہ عظام، اہلبیت اطہار کے ناموں پر نام رکھے جیسے ابراہیم و اسمعیل، عثمان، علی، حسین و حسن وغیرہ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے وہ انشاء ﷲ بخشا جائے گا۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 30، نعیمی کتب خانہ، لاہور)
نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور بچوں اور بچیوں کے اسلامی نام حاصل کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5040
تاریخ اجراء: 17 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/05 مئی 2026ء