خزیمہ نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچے کا نام خزیمہ رکھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
خزیمہ نام رکھنا کیسا ؟
جواب
بیٹےکا نام خزیمہ رکھ سکتے ہیں، کیونکہ مشہور صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کہ جن کی گواہی دو شخصوں کے برابر تھی، ان کا نام بھی خزیمہ تھا۔ اور حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ہی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔
سنن ابی داؤد میں ہے "أن النبي صلى اللہ عليه وسلم ابتاع فرسا من أعرابي فاستتبعه النبي صلى اللہ عليه وسلم ليقضيه ثمن فرسه، فأسرع رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم المشي، وأبطأ الأعرابي، فطفق رجال يعترضون الأعرابي فيساومونه بالفرس، ولا يشعرون أن النبي صلى اللہ عليه وسلم ابتاعه، فنادى الأعرابي رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم، فقال: إن كنت مبتاعا هذا الفرس، وإلا بعته. فقام النبي صلى اللہ عليه وسلم حين سمع نداء الأعرابي، فقال: أوليس قد ابتعته منك؟ فقال الأعرابي: لا واللہ ما بعتكه، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: بلى قد ابتعته منك فطفق الأعرابي يقول: هلم شهيدا، فقال خزيمة بن ثابت: أنا أشهد أنك قد بايعته، فأقبل النبي صلى اللہ عليه وسلم على خزيمة فقال: بم تشهد؟ فقال: بتصديقك يا رسول اللہ، فجعل رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم شهادة خزيمة بشهادة رجلين"
ترجمہ: حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایک دیہاتی سے ایک گھوڑا خریدا، پھر اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے اسے اپنے ساتھ چلنے کو فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تیزی سے چلنے لگے، جبکہ وہ دیہاتی پیچھے رہ گیا، راستے میں کچھ لوگ اس دیہاتی کے پاس آنے لگے، اور اس گھوڑے کی قیمت لگانے لگے، انہیں معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یہ گھوڑا (پہلے ہی) خرید چکے ہیں۔ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو آواز دے کر کہا کہ اگر آپ یہ گھوڑا خریدنا چاہتے ہیں، تو خرید لیجیے، ورنہ میں اسے کسی اور کو بیچ دیتا ہوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آواز سنی، تو واپس تشریف لائے، اور فرمایا کہ کیا میں یہ گھوڑا تم سے خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ گھوڑا آپ کو نہیں بیچا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، میں یہ گھوڑا تم سے خرید چکا ہوں، اس پر دیہاتی کہنے لگا کہ پھر کوئی گواہ پیش کیجیے۔ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس سے یہ گھوڑا خریدا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، حضرت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا کہ تم کس بنیاد پر گواہی دے رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! (صلی اللہ تعالی علیک وآلک وسلم) آپ کی کی تصدیق کی بنیاد پر۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب القضاء، باب إذا علم الحاكم صدق الشاهد۔۔۔، صفحہ 572، رقم الحدیث 3607 دار لکتب العلمیۃ، بیروت)
الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم میں ہے "خزيمة بن ثابت الأنصاري له صحبة" ترجمہ: خزيمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں۔ (الجرح والتعديل، جلد 3، صفحہ 381، مطبوعہ: ہند)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "حدیث سے ثابت کہ محبوبانِ خدا، انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 685، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5120
تاریخ اجراء: 03 محرم الحرام 1448ھ/19 جون 2026ء