logo logo
AI Search

عرفہ فاطمہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرفہ فاطمہ نام رکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس کے بارے میں کہ عرفہ فاطمہ نام رکھنا کیسا؟

جواب

عرفہ عرف سے بنا ہے، جس کا معنی ہے پہچاننا۔ ذُو الحجۃِ الحرام کی نویں تاریخ کو بھی عرفہ کہتے ہیں، اور اسی سے عرفات (میدانِ عرفات) ہے۔ لہذا یہ نام بھی رکھ سکتے ہیں۔ اور فاطمہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی لخت جگر، خاتون جنت رضی اللہ تعالی عنہا کا بابرکت نام بھی ہے، لہذا عرفہ فاطمہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ صرف فاطمہ نام رکھ لیا جائے، کہ حدیث پاک میں نیکوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

جیسا کہ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخياركم" ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية ، بيروت)

مراٰۃ المناجیح میں ہے عرفہ عرف سے بنا ہے بمعنی پہچاننا۔ (ذُو الحجۃِ الحرام کی) نویں تاریخ کو بھی عرفہ کہتے ہیں اور عرفات میدان کو بھی، مگر لفظ عرفات صرف میدان کو کہا جاتا ہے نہ کہ اس دن کو۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 4، صفحہ 139، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5123
تاریخ اجراء: 01 محرم الحرام 1448ھ / 17 جون 2026ء