logo logo
AI Search

کیا تمام مذاہب برابر ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا ہندو مسلمان بھائی بھائی ہیں؟ تمام مذاہب کا ادب کرنا چاہیے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ یہ جملہ کہنا کیسا کہ ہندو مسلمان اور دیگر مذہب کے لوگ سب برابر ہیں اور بھائی بھائی ہیں، سارے دھرم (مذہب) برابر ہیں کوئی مذہب برائی نہیں سکھاتا اور یہ کہنا کیسا ہے کہ ہم سب مذاہب کا ادب کرتے ہیں؟

جواب

سوال میں مذکور تمام جملے ہی باطل، گمراہ کُن، قرآنِ کریم کی آیات کے خلاف اور انتہا درجے کی جاہلانہ باتیں ہیں۔

اولاً یہ کہ مسلمان اوردیگر مذہب کے لوگ برابر ہیں اور بھائی بھائی ہیں تو ایسا ہرگز نہیں۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر کفار اور اہل اسلام کا ذکر کرکے اُن میں فرق بیان کیا کہ ہدایت والے اور راہِ حق سے بھٹکے ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کا بھائی ہونا ذکر ہے۔ لہذا دین، مذہب اور محبت و الفت میں مسلمان ہی ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں،غیر مسلم اور مسلمان ہرگز بھائی بھائی نہیں ہوسکتے۔

دوسرا یہ کہ سارے مذاہب برابر ہیں تو یہ دراصل وحدتِ ادیان کے باطل نظریے پر مشتمل ایک کفریہ جملہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف دینِ اسلام ہی حق اور مقبول دین ہے، جیسا کہ قرآن نے واضح فرمایا ہے۔ سابقہ آسمانی ادیان اپنی اصل صورت میں حق تھے اور وہ بھی اسلام ہی تھے، مگر تحریف کے بعد اپنی حقیقی صورت برقرار نہ رکھ سکے اور شریعتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد ان مذاہب کے صحیح حصے کے بہت سے احکام بھی منسوخ ہو چکے ہیں۔ اب قیامت تک قابلِ عمل اور کامل دین صرف محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا لایا ہوا دین، اسلام ہے اور یہی نجات کی راہ ہے۔ نیز یہ کہنا کہ کوئی مذہب برائی نہیں سکھاتا یہ نہ صرف تاریخی و عقلی طور پر غلط ہے، بلکہ اس میں انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کے مقصد کی بھی نفی ہے، کیونکہ انبیائے کرام علیہم السلام توحید کی دعوت، شرک و باطل کی تردید اور انسانیت کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے۔ اگر سب ہی مذاہب حق پر تھے، تو ان کی بعثت کس مقصد سے ہوئی؟ اس لیے تمام مذاہب کو یکساں حق سمجھنا اور ان میں حق و باطل کی تمیز ختم کردینا ایک باطل تصور ہے۔

تیسرا یہ کہ ہم سب مذاہب کا ادب کرتے ہیں تو اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہر مذہب والوں کے کفریہ عقائد و رسومات کو بُرا بھلا نہیں کہتے، انہیں قابل احترام سمجھتے ہیں، جیسا کہ عام طور پر سیکولر یا لبرل فکر کے لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، تو یہ نظریہ اسلام و شریعت کے سخت خلاف ہے۔ مسلمان کا دینی فرض ہے کہ وہ دین کے معاملے میں حق کو حق اور باطل کو باطل کہے ۔ کفرو شرک سے نفرت اور بیزاری ظاہر کرے۔ البتہ بغیر عذرِ شرعی کے اشتعال انگیزی اسلام میں بھی پسندیدہ نہیں۔

کافر اورمسلمان ہرگز برابر نہیں، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِؕ- اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ (20) ترجمہ کنز العرفان: دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں، جنت والے ہی کامیاب ہیں۔ (پارہ 28، سورۃ الحشر، 20)

ایک مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (34) اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَ (35) مَا لَكُمْٙ- كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ‘‘ ترجمہ کنز العرفان: بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں ۔ توکیا ہم مسلمانوں کو مجرموں جیسا کردیں۔ تمہیں کیا ہوا؟ کیسا حکم لگاتے ہو؟ (پارہ 29، القلم: 34 - 36)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: شانِ نزول: جب اوپر والی آیت (بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں) نازل ہوئی تو مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ جس طرح ہمیں دنیا میں آسائش حاصل ہے اسی طرح اگر ہم مرنے کے بعد پھر اُٹھائے بھی گئے تو آخرت میں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہمارا ہی درجہ بلند ہوگا، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کیا ہم نجات حاصل ہونے اور درجات ملنے کے معاملے میں مسلمانوں کو کافروں جیسا کردیں گے اور اُن مخلص فرمانبرداروں کو اِن سرکش باغیوں پر فضیلت نہ دیں گے! ہمارے بارے میں ایسا فاسد گمان رکھتے ہو، تمہیں کیا ہوا اور تم اپنی جہالت کی وجہ سے کیسا حکم لگا رہے ہو، تمہاری حالت سے تو ایسالگ رہا ہے جیسے جزا کا معاملہ تمہارے سپرد ہے اور تم اس میں جو چاہے فیصلہ کر لو۔ (مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۳۵ - ۳۶، ص ۱۲۶۹، روح البیان، ن، تحت الآیۃ: ۳۵ - ۳۶، ۱۰ / ۱۱۹، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ کافر اور مسلمان برابر نہیں بلکہ یہ دو الگ الگ قومیں ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 10، صفحہ 298، 297، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

مسلمان، مسلمان بھائی بھائی ہیں، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (10) ترجمہ کنز العرفان: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔ (پارہ 26، سورۃ الحجرات: 10)

صحيح بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث ہے: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: المسلم أخو المسلم‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ (صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 380، رقم الحدیث: 2455، دار التأصيل – القاهر)

اس حدیث کی شرح میں علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں: قوله: (المسلم أخو المسلم)، يعني أخوه في الإسلام، و كل شيئين يكون بينهما اتفاق تطلق عليهما اسم الأخوة‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے یعنی اس کا اسلام میں بھائی ہے۔ اور ہر دو چیزیں جن کے درمیان کسی چیز میں اتفاق ہو تو ان پر اُخوت (بھائی) کا لفظ بولا جا تا ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 12، صفحہ 289، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

ایک کافرہ عورت کو بہن کہنے سے متعلق سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا، اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: اگر وہ مسلمان نہ تھی توبُرا کیا کہ اسے مسلمان کی بہن ٹھہرایا، اور فقط اولادِ آدم علیہ السلام ہونا کافی نہیں کہ کافروں کا نسب خود حضرت سیدنا آدم علیہ الصلوۃ و السلام سے (شرفِ دینی اور نفعِ آخرت کے اعتبار سے) منقطع ہے۔ قال اللہ تعالٰی: انما المومنون اخوۃ، و قال تعالٰی: انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نوح! بیشک وہ (کافر بیٹا) تیرے گھر والوں میں ہرگز نہیں، بیشک اس کا عمل اچھا نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 647، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حق صرف دین اسلام ہے اور یہی خدا کی بارگاہ میں مقبول ہے، چنانچہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ‘‘ ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ (پارہ 3، سورۃ آل عمران: 19)

ایک مقام پر رب تعالی ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُۚ- وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (85) ترجمہ کنز العرفان: اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ ( پارہ 3، سورۃ آل عمران: 85)

تفسیر صراط الجنان میں ہے: ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا لہٰذا اسلام کے سوا کوئی اور دین بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مقبول نہیں لیکن اب اسلام سے مراد وہ دین ہے جو حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لائے، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کیلئے رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخری نبی بنایا، تو اب اگر کوئی کسی دوسرے آسمانی دین کی پیروی کرتا بھی ہو لیکن چونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس قطعی اور حَتمی دین اور نبی کو مکمل طور پر نہیں مان رہا لہٰذا اس کا آسمانی دین پر عمل بھی مردود ہے۔ یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعویٰ کو باطل فرمایا گیا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 514، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

کسی باطل مذہب کو صحیح قرار دینے والے پر حکمِ کفر ہے، چنانچہ علامہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ شفا شریف میں فرماتے ہیں: نكفر من لم يكفر من دان بغير ملة المسلمين من الملل أو وقف فيهم أو شك أو صحح مذهبهم‘‘ ترجمہ: ہم اُس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو مسلمانوں کے دین کے علاوہ کسی اور مذہب کو اختیار کرنے والوں کو کافر نہ سمجھے، یا ان کے بارے میں توقف کرے، یا شک میں پڑ جائے، یا ان کے مذہب کو صحیح قرار دے۔ (الشفا بتعریف حقوق المصطفی، جلد 2، صفحہ 286، دار الكتب العلمية، بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے: و من اعتقد أن الإيمان و الكفر واحد فهو كافر‘‘ ترجمہ: اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ ایمان اور کفر ایک ہی چیز ہیں، وہ کافر ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 2، صفحہ 257، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: جو شخص ایمان و کفر کو ایک سمجھے یعنی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے، خدا کو سب پسند ہے ۔ وہ کافر ہے۔ (بہارِ شريعت، جلد 2، حصّہ 9، صفحہ 179، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1228
تاریخ اجراء: 24 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء