کس کا نکاح کس سے ہوگا، کیا یہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا یہ لکھا جا چکا ہے کہ کس کا نکاح کس سے ہوگا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا یہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے کہ کس کا کس سے نکاح ہوگا؟
جواب
جی ہاں! ہر انسان کی ساری زندگی کی تقدیر لکھی جا چکی ہے اور اسی میں نکاح کرنا یا نہ کرنا بھی شامل ہے نیز یہ بھی لکھا جا چکا ہے کہ اگر نکاح کرے گا تو کس کے ساتھ کرے گا۔ تاہم! یاد رہے کہ تقدیر کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اسباب کے تحت اور کوشش سے متعلق ہوتی ہیں مثلاً روزی تو اللہ پاک عطا فرمائے گا جیسا کہ اس کا وعدہ ہے اور جتنا مقدر ہے اتنا رزق ملے گا لیکن اس کے لیے بندے کو اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے، پھر بندہ جائز اسباب اختیار کرے تو بھی روزی ملے گی اور ناجائز اسباب اختیار کرے تب بھی ملے گی لیکن ناجائز اسباب سے حاصل کرنے کے باعث گناہگار ہوگا۔ بہرحال کوشش کرنی ہوگی اور اپنی کوشش کا پھل پائے گا۔ اگر یہ سوچ کر بیٹھ جائے کہ جو مقدر میں ہے وہ خود ہی مل جائے گا تو نقصان اٹھائے گا کہ عموماً رزق کا ملنا اسباب اختیار کرنے کے ساتھ متعلق ہوتا ہے۔ یونہی نکاح مقدر میں ہے تو ہوکر ہی رہے گا لیکن اس کے لیے بھی کوشش کی ضروت ہے، کوشش کرے دعا کرے اور نتیجہ اللہ پاک پر چھوڑ دے۔ جب اس کی کوشش وہاں پہنچ جائے گی جہاں مقدر فرما دیا گیا ہے تو اللہ پاک کے حکم سے نکاح بھی ہو جائے گا بلکہ بعض تقدیریں دعا اور کوشش ہی سے متعلق ہوتی ہیں کہ یہ اس کام کی دعا یا کوشش کرے گا تو یہ ہوگا ورنہ یوں نہیں بلکہ یوں ہوگا، لہٰذا فرمایا گیا کہ دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے۔
سنن ابن ماجہ میں حضرت سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لا يزيد فی العمر الا البر ولا يرد القدر الا الدعاء“ ترجمہ: نیکی کے سوا کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی اور دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو رد نہیں کرتی۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 69، حدیث: 90)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2601
تاریخ اجراء:22 جمادی الاولٰی 1447ھ/14 نومبر 2025ء