اللہ کے سائے میں ہیں کہنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غلطی سے ”اللہ کے سائے میں ہیں“ کہنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بولنا یہ تھا کہ اللہ کی رحمت کے سائے میں ہیں اور زبان پھسل گئی اور یہ لفظ نکل گیا اللہ کے سائے میں ہیں، تو کیا یہ کفر ہوگا ؟ اللہ کیلئے سایہ کا لفظ بول سکتے ہیں؟
جواب
لغت میں "سایہ" صرف حقیقی سایہ (یعنی پرچھائیں، پرتو) ہی کے معنیٰ میں نہیں آتا، بلکہ پناہ، حفاظت، حمایت اور سرپرستی کے معنی میں بھی آتا ہے۔ عرفِ عام میں بھی "سایہ" کا لفظ انہی مختلف معانی کے لیے بولا جاتا ہے۔ کس مقام پر اس سے کون سا معنی مراد ہوگا، اس کا تعین قرائن، سیاق و سباق اور متکلم کی مراد سے ہوتا ہے، مثلاً جب کہا جاتا ہے: "فلاں کے سر پر اس کے ماں باپ کا سایہ قائم رہے" یا "وہ فلاں کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے"، تو ان جملوں میں "سایہ" سے حقیقی پرچھائیں مراد نہیں ہوتی، بلکہ حفاظت، شفقت، سرپرستی اور حمایت مراد ہوتی ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کی نسبت سے "سایہ" کا لفظ بولا جائے تو اس سے حقیقی سایہ مراد نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی پناہ، حفاظت، حمایت یا اس کے عرش کا سایہ مراد ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن احادیثِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے لیے "ظِل" (سایہ) کا لفظ آیا ہے، تو وہاں بھی یہی معانی مراد لیے گئے ہیں، کیونکہ حقیقی سایہ جسم کا ہوتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ جسم اور تمام جسمانی لوازمات سے منزہ و پاک ہے۔
اس تمہید کی روشنی میں سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے "سایہ" کا لفظ استعمال کرنا مطلقاً کفر نہیں، کیونکہ اس لفظ کا ایک صحیح، معتبر اور شرعاً درست محمل موجود ہے۔ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ جب کسی کلام میں صحیح اور فاسد، دونوں احتمالات موجود ہوں تو مسلمان کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے اس کے کلام کو صحیح معنی پر محمول کیا جائے گا، اور محض غلط معنی کے احتمال کی بنا پر اس پر حکمِ کفر نہیں لگایا جائے گا۔ البتہ اگر کوئی شخص خود صراحت کے ساتھ اس لفظ سے ایسا معنی مراد لے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف اور کفر ہو، مثلاً حقیقی جسمانی سایہ مراد لے، تو پھر کفر کا حکم ہوگا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص "اللہ کا سایہ" کہہ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت، پناہ، حفاظت یا حمایت ہی مراد لیتا ہے تو اس پر کفر کا حکم نہیں۔ پھر جس شخص کا اصل مقصود "اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ" کہنا ہو، لیکن محض زبان پھسل جانے کی وجہ سے "اللہ کا سایہ" کے الفاظ نکل جائیں، اس پر تو بدرجۂ اولیٰ کفر کا حکم نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ ’’اللہ کا سایہ‘‘ کہنا اگرچہ کفر نہیں، لیکن بعض جگہ کسی خاص وجہ یا قرینے سے ممکن ہے کہ ذہن اس معنی کی طرف جائے جو اللہ عزوجل کی شان کے لائق نہیں، یعنی حقیقی سایہ جسے پرچھائیں کہتے ہیں تو ایسے مقام پر اس کی جگہ "اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ "، "اللہ تعالیٰ کی پناہ" یا "اللہ تعالیٰ کی حفاظت وحمایت" جیسے واضح الفاظ ہی استعمال کیے جائیں۔
سایہ کے معانی سے متعلق فیروز اللغات میں ہے: ’’سایہ: (۱) پرچھائیں۔ چھاؤں۔ پرتو (۲) جن بوت کا اثر۔ آسیب (۳) پناہ۔ حفاظت۔ سرپرستی (۴) حمایت۔“ (فیروز اللغات، صفحہ 816، فیروز سنز)
لسان العرب میں ہے: ’’والظل: الفيء الحاصل من الحاجز بينك وبين الشمس أي شيء كان، وقيل: هو مخصوص بما كان منه إلى الزوال، وما كان بعده فهو الفيء. وفي الحديث: سبعة يظلهم اللہ في ظل العرش أي في ظل رحمته. وفي الحديث الآخر: السلطان ظل اللہ في الأرض لأنه يدفع الأذى عن الناس كما يدفع الظل أذى حر الشمس،‘‘ ترجمہ: "ظِل" وہ سایہ ہے جو تیرے اور سورج کے درمیان کسی بھی رکاوٹ کی وجہ سے پیدا ہو، وہ رکاوٹ کوئی بھی چیز ہو۔ کہا گیا ہے کہ وہ مخصوص ہے اس سائے سے جو زوالِ آفتاب تک ہو، اور زوال کے بعد جو سایہ ہوتا ہے وہ فَیء ہے۔ حدیث میں ہے: "سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا"، یعنی اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا۔ اور دوسری حدیث میں ہے: "(عادل) بادشاہ زمین میں اللہ کا سایہ ہے"، یعنی وہ لوگوں سے ظلم و اذیت کو دور کرتا ہے جیسے سایہ سورج کی گرمی کو دور کرتا ہے۔ (لسان العرب، جلد 11، صفحہ 419، دار صادر، بیروت)
مختلف احادیث مبارکہ میں "سایہ" کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی گئی ہے، ان احادیث میں سے ایک حدیث پاک کے الفاظ ملاحظہ ہوں: چنانچہ صحیح مسلم، مسند دارمی، المعجم الاوسط و الکبیر للطبرانی اور شعب الایمان کی حدیث پاک ہے: واللفظ للاخر: ’’قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم:من أنظر معسرا أو وضع عنه أظله اللہ في ظله يوم لا ظل إلا ظله‘‘ ترجمہ: جو شخص کسی قرض دار تنگ دست کو ادائیگی کے لیے مہلت دے، یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اسے اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ (شعب الایمان، جلد 7، فصل فی انظار المعسر، صفحہ 535، رقم الحدیث: 11248، دار الكتب العلمية، بيروت )
اللہ عزوجل کے سایہ سے مراد عرشِ الہی کا سایہ ہے، یا قیامت کی گرمی و سختی سے حفاظت مراد ہے، چنانچہ اس حدیث کی شرح میں علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’(أظله اللہ في ظله): أي: وقاه اللہ من حر يوم القيامة على سبيل الكناية أو أوقفه اللہ في ظل عرشه على الحقيقة، ذكره الطيبي رحمه اللہ، وقال ابن الملك: المراد منه الكرامة والحماية عن مكاره الموقف كما يقال: فلان في ظل فلان أي كنفه ورعايته‘‘ ترجمہ: یعنی: اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سخت گرمی سے محفوظ رکھے گا۔ یہ تعبیر بطورِ کنایہ ہے۔ یا اس کا حقیقی معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ یہ بات علامہ طیبی رحمہ اللہ نے ذکر فرمائی ہے۔ اور امام ابنِ ملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت و اکرام عطا کرنا اور قیامت کے میدان کی سختیوں اور ہولناکیوں سے حفاظت فرمانا ہے، جیسے عربی میں کہا جاتا ہے ’’فلاں شخص فلاں کے سائے میں ہے ‘‘یعنی وہ اس کی پناہ اور حفاظت میں ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 5، صفحہ 1954، دارالفکر، بیروت)
ایک دوسری حدیث کی شرح میں علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ ’’فیض القدیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’(يظلهم اللہ في ظله) أي يدخلهم في ظل رحمته وإضافة الظل إليه تعالى إضافة تشريف كناية عن رحمة اللہ وهو سبحانه منزه عن الظل إذ هو من خواص الأجسام‘‘ ترجمہ: اللہ عزوجل انہیں اپنے سائے میں جگہ دے گا، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے سائے میں داخل فرمائے گا۔ یہاں ’’ظل‘‘ (سایہ) کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت تعظیم و تشریف کے لیے ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کنایہ ہے، کیونکہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سائے سے منزہ ہے، اس لیے کہ سایہ جسمانی اشیاء کی خصوصیات میں سے ہے (اور اللہ تعالیٰ جسم و جسمانیت اور اس کی صفات سے پاک ہے)۔ (فیض القدیر، جلد 4، صفحہ 88، مطبوعہ مصر)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ ’’مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’ظل کے معنی ہیں سایہ مگر کبھی اس سے مراد ہوتی ہے پناہ، امان جیسے کہا جاتا ہے کہ عادل بادشاہ ’’ظل اللہ‘‘ہے، یا بزرگوں کو لکھتے ہیں دام ظلھم۔“ (مراٰۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 587، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
ایک دوسرے مقام پر ایک حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’ﷲ کے سایہ سے مراد یا تو ﷲ کے عرش اعظم کا سایہ ہے، یا ﷲ تعالٰی کی رحمت و کرم مراد ہے، ورنہ ﷲ تعالٰی کی ذات سایہ سے پاک ہے کہ سایہ کثیف جسم کا ہوتا ہے وہ جسم اور کثافت دونوں سے پاک ہے ‘‘۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 365، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
مسلمان کے کلام کو جب اچھے معنیٰ پر محمول کیا جاسکتا ہو تو کفر کا حکم نہیں ہوگا، چنانچہ تنویر الابصار میں ہے: ’’(لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن) ‘‘ ترجمہ: کسی مسلمان کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا، جب اس کے کلام کو کسی اچھے (اور درست) معنیٰ پر محمول کرنا ممکن ہو۔ (تنویر الابصار، جلد 6، باب المرتد صفحہ 353، دار المعرفۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1267
تاریخ اجراء: 02 صفر المظفر 1448ھ/17 جولائی 2026ء