حیات النبی ﷺ کے منکر کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عقیدہ ٔحیات النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منکر کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدے کا انکار کرنے والے لوگ کافر ہوتے ہیں یا گمراہ؟ اور کیا ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
اللہ تعالیٰ کے تمام انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام اور خصوصاً ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات کے بعد بھی حقیقی دنیوی روحانی و جسمانی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، ان کی حیات شہدائے کرام کی حیات سے بڑھ کر اور کامل تر ہے، ان نفوس قدسیہ کو موت محض وعدۂ الہی کی تصدیق کے لیے لمحہ بھر آتی ہے اور اس کے بعد ان کی ارواح مقدسہ ان کے اجسام مبارکہ میں لوٹا دی جاتی ہیں۔ یہ اہل سنت و جماعت کا اجماعی اور متفقہ عقیدہ ہے، جو کہ قرآن و حدیث کے کثیر دلائل سے ثابت ہے، لہذا جو شخص اس عقیدے کا انکار کرے وہ بد مذہب، گمراہ اور اہل سنت سے خارج ہے۔
رہا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا، تو اگر اس شخص کی بد مذہبی اِس کے ساتھ ساتھ دیگر باطل عقائد و نظریات کی وجہ سے حد کفر تک پہنچ چکی ہو، تو اس کے پیچھے نماز اصلاً باطل ہے یعنی سِرے سے ادا ہی نہ ہوگی۔ تاہم اگر ایسا نہیں یعنی اس کی بد مذہبی حد کفر کو نہیں پہنچتی، تو اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی و گناہ ہے اور ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے، نیز ایسے شخص کو امام بنانا بھی ناجائز و گناہ ہے۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ- بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰـكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 154)
علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1241ھ / 1825ء) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: و هذه الحياة حقيقية و إنما خروج روحه انتقال من دار إلى أخرى و هي مزية من مزايا الأنبياء فلا يقال إنهم ساووهم“ ترجمہ: اور یہ (شہید کی بعدِ وفات) زندگی حقیقی ہے اور اس کی روح کا نکلنا صرف ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہونا ہے، اور یہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی خصوصیات میں سے صرف ایک خصوصیت ہے، پس یہ نہیں کہا جائے گا کہ شہدا ان کے برابر ہو گئے۔ (حاشية الصاوي علی تفسیر الجلالین ، جلد 1، صفحہ 268، دار تحقیق الکتاب، لبنان)
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی مظہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1225ھ / 1810ء) لکھتے ہیں: حياة الأنبياء أقوى منهم وأشد ظهورا اثارها في الخارج حتى لا يجوز النكاح بأزواج النبي صلى الله عليه وسلم بعد وفاته بخلاف الشهيد و الصديقون ايضا أعلى درجة من الشهداء و الصالحون يعنى الأولياء ملحقون بهم كما يدل عليه الترتيب في قوله تعالى ﴿مِنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ﴾ ترجمہ: انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات شہدا کی حیات سے زیادہ قوی ہے اور اس کے آثار خارج میں زیادہ ظاہر ہیں، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح جائز نہیں، بر خلاف شہید کے (کہ شہید کی بیوہ سے نکاح جائز ہے)۔ اور صدیقین بھی درجے میں شہدا سے بلند ہیں اور صالحین یعنی اولیاء اللہ ان کے ساتھ ملحق ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں موجود ترتیب اس پر دلالت کرتی ہے کہ (فرمایا:) یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ (تفسیر مظهری، جلد 1، صفحہ 152، مطبوعہ کوئٹہ)
صحیح مسلم، سنن نسائی، مسند امام احمد، مصنف عبد الرزاق، صحیح ابن حبان وغیرہ کی صحیح حدیث ہے: عن أنس بن مالك أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: مررت على موسى ليلة أسري بي عند الكثيب الأحمر و هو قائم يصلي في قبره“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرا گزر سرخ ٹیلے کے پاس حضرت موسی (علیہ الصلوٰۃ و السلام) کے قریب سے ہوا درحالیکہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ (صحيح المسلم، جلد 7، صفحہ 102، حدیث 2375، دار الطباعة العامرة، تركيا)
سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند امام احمد، صحیح ابن خزیمہ، مستدرک علی الصحیحین، مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی صحیح حدیث ہے: و اللفظ للاول عن أوس بن أوس قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض و فيه النفخة و فيه الصعقة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي، قال قالوا: يا رسول اللہ و كيف تعرض صلاتنا عليك و قد أرمت يقولون بليت؟ فقال: إن اللہ عز وجل حرم على الأرض أجساد الأنبياء“ ترجمہ: حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی میں حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) کی پیدائش ہوئی اور اسی میں ان کی وفات ہوئی اور اسی میں صور پھونکا جانا ہے اور اسی میں بے ہوشی طاری ہونی ہے، لہذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش ہو گا؟ آپ تو گزر چکے ہوں گے یعنی فنا طاری ہو چکی ہو گی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیا کے جسموں کو (کھانا) حرام فرما دیا ہے۔ (سنن أبي داود، جلد 1، صفحہ 275، حدیث 1047، المكتبة العصريہ، بيروت)
سنن ابن ماجہ، مشکوۃ المصابیح، جمع الجوامع وغیرہ میں ہے: عن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة فإنه مشهود تشهده الملائكة و إن أحدا لن يصلي علي إلا عرضت علي صلاته حتى يفرغ منها قال: قلت: و بعد الموت؟ قال: وبعد الموت، إن اللہ حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء فنبي اللہ حي يرزق“ ترجمہ: حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو، کیونکہ یہ یوم مشہود (حاضری کا دن) ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی بھی مجھ پر درود پڑھتا ہے، اس کا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہو جائے۔ حضرت ابو درداء فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اور وفات کے بعد بھی (کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یوں ہی پیش ہوگا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ہاں) اور وفات کے بعد بھی۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیا کے اجسام کو کھانا حرام کر دیا ہے، پس اللہ کے نبی زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجه، جلد 2، صفحہ 556، حدیث 1637، دار الرسالة العالميہ)
علامہ شمس الدین محمد بن عبد الرحمٰن سخاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 902ھ / 1497ء) لکھتے ہیں: و نحن نؤمن ونصدق بأنه صلى الله عليه و سلم حي يرزق في قبره و أن جسده الشريف لا تأكله الأرض و الإجماع على هذا“ ترجمہ: اور ہم ایمان رکھتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی قبر میں زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے اور آپ کے جسم مبارک کو زمین نہیں کھاتی اور اس عقیدے پر اجماع ہے۔ (القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع، صفحہ 172، دار الريان للتراث)
امام جلال الدین عبد الرحمٰن سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 911ھ / 1505ء) کثیر روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: فحصل من مجموع هذه النقول و الأحاديث أن النبي صلى اللہ عليه و سلم حي بجسده و روحه، و أنه يتصرف و يسير حيث شاء في أقطار الأرض و في الملكوت و هو بهيئته التي كان عليها قبل وفاته لم يتبدل منه شيء، و أنه مغيب عن الأبصار كما غيبت الملائكة مع كونهم أحياء بأجسادهم“ ترجمہ: پس ان تمام نقول اور احادیث کے مجموعے سے یہ حاصل ہوا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے جسم اور روح کے ساتھ زندہ ہیں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تصرف فرماتے ہیں اور زمین کے اطراف اور عالمِ ملکوت میں جہاں چاہتے ہیں سیر فرماتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسی ہیئت پر ہیں جس پر اپنے وصال سے پہلے تھے، اس سے کچھ تبدیلی نہیں ہوئی، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آنکھوں سے پوشیدہ ہیں، جیسے فرشتے اپنے جسموں کے ساتھ زندہ ہونے کے باوجود (انسانی نگاہوں سے) پوشیدہ ہیں۔ (الحاوي للفتاوي، تنوير الحلك في إمكان رؤية النبي و الملك، جلد 2، صفحہ 319، دار الفكر، بيروت)
شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1052ھ / 1642ء) لکھتے ہیں: بدرستے کہ خدائے تعالی حرام گردانیده است بر زمین خوردن وے تنہائے پیغمبراں را فنبي الله حي يرزق پس پیغمبر خدا زنده است بحقیقت حیات دنیاوی تا آنکه روزی داده می شود روزی حی“ ترجمہ: بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیائے کرام کے اجسام کو کھانا حرام فرما دیا ہے، پس اللہ کے نبی زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حقیقی دنیاوی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، یہاں تک کہ انہیں زندہ کے رزق کی طرح رزق دیا جاتا ہے۔ (اشعۃ اللمعات شرح مشكاة، باب الجمعۃ، جلد 1، صفحہ 284، مطبوعہ ہند)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: گفت آنحضرت بدرستے که خدا حرام گردانیده است بر زمین تنہائے پیغمبراں را کنایت است از حیات چناں که صریح در فصل ثالث از حدیث ابی در داء بیاید و حیات انبیا متفق علیه است ہیچ کس را در وے خلاف نیست، حیات جسمانی دنیاوی حقیقی نہ حیات معنوی روحانی چناں کہ شہدا را است ترجمہ: حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیائے کرام کے اجسام حرام فرما دئیے یہ (فرمان مبارک ان کی) حیات سے کنایہ ہے، جیسا کہ تیسری فصل میں حضرت ابو درداء کی حدیث میں صریح آئے گا، اور انبیائے کرام کی حیات متفق علیہ مسئلہ ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں، یہ جسمانی، دنیاوی، حقیقی حیات ہے، نہ کہ صرف معنوی روحانی حیات جیسی کہ شہدا کے لیے ہوتی ہے۔ (اشعۃ اللمعات شرح مشكاة، باب الجمعۃ، جلد 1، صفحہ 283، مطبوعہ ہند)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: فانھم صلوات اللہ تعالی و سلامہ علیھم طیبون طاھرون احیاء و امواتا بل لا موت لھم الا انیا تصدیقا للوعد ثم ھم احیاء ابدا بحیاۃ حقیقيۃ دنیاویۃ روحانیۃ جسمانیۃ کما ھو معتقد اھل السنۃ والجماعۃ و لذا لا یورثون و یمتنع تزوج نسائھم صلوات اللہ تعالی و سلامہ علیهم بخلاف الشھداء الذین نص الکتاب العزیز انھم احیاء و نھی ان یقال لھم اموات (حضراتِ انبیا صلوات اللہ تعالیٰ وسلامہٗ علیہم حیات و ممات ہر حالت میں طیب و طاہر ہیں، بلکہ ان کے لیے موت محض آنی تصدیق وعدۂ الٰہیہ کے لیے ہے، پھر وہ ہمیشہ حیات حقیقی دنیاوی روحانی و جسمانی کے ساتھ زندہ ہیں، جیسا کہ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے۔ اسی لیے کوئی ان کا وارث نہیں ہوتا اور ان کی عورتوں کا کسی سے نکاح کرنا ممتنع ہے صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہٗ علیہم، بخلاف شہدا کے جن کے بارے میں کتاب مجید نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ زندہ ہیں، اور اس سے نہی فرمائی ہے کہ انہیں مردہ کہا جائے (مگر ان کی میراث تقسیم ہوگی، ان کی ازواج کا دوسرا نکاح ہو سکتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 403 - 407، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: تمام انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات حقیقی حسی دنیوی ہے، صحیح حدیث میں ہے: إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء فنبي اللہ حي يرزق" بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے اجسام کھانا حرام فرما دیا ہے تو اللہ (عزوجل) کے نبی زندہ ہیں، روزی دئیے جاتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ) دوسری صحیح حدیث میں ہے: الانبياء احياء في قبورهم يصلون" انبیا (علیہم السلام) سب زندہ ہیں، اپنی قبروں میں نمازیں پڑھتے ہیں۔ (مسند ابی یعلی) . . . تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام کے لیے (موت) صرف آنی ہے، ایک آن کو موت طاری ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ قطعیہ، یقینیہ، ضروریات مذہب اہلسنت سے ہے، اس کا منکر نہ ہوگا مگر بد مذہب گمراہ۔ (ملفوظات اعلی حضرت، حصہ 4، صفحہ 504 - 505، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: یقین جانو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سچی حقیقی دنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے۔ ان کی اور تمام انبیا علیہم الصلوٰۃ و السلام کی موت صرف وعدۂ خدا کی تصدیق کو ایک آن کے لیے تھی، ان کا انتقال صرف نظر عوام سے چھپ جانا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 764، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: حیاتِ انبیا علیہم الصلوٰۃ و الثناء کا منکر گمراہ بد دین ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
سنن الکبری للبیہقی، سنن دار قطنی، جمع الجوامع اور کنز العمال وغیرہ میں ہے: عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: اجعلوا أئمتكم خياركم فإنهم وفدكم فيما بينكم و بين ربكم“ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اپنے بہترین لوگوں کو اپنے امام بناؤ؛ کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے مابین معاملے میں تمہارے سفیر ہیں۔ (السنن الكبرى للبيهقي، جلد 3، صفحہ 129، حدیث 5133، دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 956ھ / 1549ء) لکھتے ہیں: يكره تقديم المبتدع أيضا لأنه فاسق من حيث الاعتقاد و هو أشد من الفسق من حيث العمل لأن الفاسق من حيث العمل يعترف بأنه فاسق و يخاف و يستغفر، بخلاف المبتدع، و المراد بالمبتدع من يعتقد شيئا على خلاف ما يعتقده أهل السنة و الجماعة و إنما يجوز الاقتداء به مع الكراهة إذا لم يكن ما يعتقده يؤدي إلى الكفر عند أهل السنة أما لو كان مؤديا إلى الكفر فلا يجوز أصلا“ ترجمہ: اور بدعتی کو آگے کرنا (امام بنانا) بھی مکروہ ہے؛ کیونکہ وہ اعتقاد کے اعتبار سے فاسق ہے اور یہ عملی فسق سے زیادہ شدید ہے، اس لیے کہ عمل کے لحاظ سے فاسق شخص تو اعتراف کرتا ہے کہ وہ فاسق ہے اور وہ ڈرتا اور استغفار کرتا ہے، برخلاف بدعتی کے، اور بدعتی سے مراد وہ شخص ہے جو اہلِ سنت و جماعت کے عقائد کے خلاف کسی چیز کا عقیدہ رکھتا ہو۔ البتہ کراہت کے ساتھ بھی اس کی اقتدا اسی وقت جائز ہے، جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک اس کا عقیدہ کفر تک نہ پہنچا دے، پس اگر اس کا عقیدہ کفر تک پہنچانے والا ہو، تو اس کی اقتدا اصلاً جائز نہیں۔ (غنية المتملی شرح منية المصلي، جلد 2، صفحہ 371، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: بالجملہ بد مذہبی فی نفسہ ایسی ہی چیز ہے جسے امامت دینی سے مباینت یقینی ہے اور اس کے بعد منع پر دوسری دلیل کی چنداں حاجت نہیں۔ . . . رد المحتار میں ہے: المبتدع تکره امامته بكل حال (بدعتی کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے (ت)) علامہ ابراہیم حلبی نے تصریح فرمائی کہ فاسق و مبتدع دونوں کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 677، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: بد مذہب کو امام بنانا ناجائز و گناہ؛ کہ امام بنانا تعظیم ہے اور اہل بدعت کی تعظیم حرام، حدیث میں فرمایا: من وقر صاحب بدعة فقد اعان علی هدم الاسلام" جس نے بد مذہب کی توقیر کی اس نے اسلام ڈھانے پر مدد کی۔ . . . اور مبتدع کے پیچھے نماز کا مکروہ تحریمی ہونا اس صورت میں ہے جب اس کی بدعت مکفّرہ نہ ہو، ورنہ اس کے پیچھے نماز اصلا نہ ہوگی۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 119 - 120، مکتبہ رضویہ، کراچی)
شہزادۂ اعلی حضرت مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1402ھ / 1981ء) لکھتے ہیں: بد مذہب کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور اگر اس کی بد مذہبی حد کفر تک پہنچی ہوئی ہو جب تو اس کے پیچھے نماز باطل محض۔ اس سے سلام، کلام، ربط و ضبط، اس کے ساتھ کھانا پینا، راہ و رسم رکھنا سب حرام ہے۔ قال تعالی: ﴿وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴾ (ترجمہ:اور جو یہ کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔) (فتاوی مفتی اعظم، جلد 3، صفحہ 32-33 ملخصاً، شبیر برادرز، لاهور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1187
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 08 مئی 2026ء