logo logo
AI Search

صحابہ کرام کے قول و فعل کو حجت نہ ماننا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قول و فعل کو حجت نہ ماننے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص صحابہ کرام علیہم الرضوان کے قول و فعل کو شرعی دلیل نہ مانے بلکہ یہ کہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں یہودی بھی مسلمان بن کر شامل ہوگئے تھے، اس طرح ان میں یہودیوں والے کام شامل ہوگئے تھے، اس لیے ان کا قول، فعل دلیل شرعی نہیں رہا، ایسے شخص کے لیے حکم شرعی کیا ہے؟

جواب

شخص مذکور کا قول و فعل صحابی کو مطلقا حجت نہ ماننا سراسر غلط اور باطل ہے۔ اور اس پر جو دلیل دی وہ عذر گناہ بدتر از گناہ کے قبیل سے ہے۔ جو یہودی سے مسلمان ہوئے، ان کی وجہ سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے افعال میں یہودیوں والے افعال داخل ہوگئے، یہ سائل کا بہتان ہے۔ سائل کو چاہیے کہ اس سے سچی توبہ کرے اور آئندہ اس طرح کی باتیں کرنے سے گریز کرے۔

ہاں ایسا ضرور ہوا کہ بعض لوگ یہودیت سے تائب ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی سابقہ عادت کے مطابق اونٹ کا گوشت اور دودھ کھانے سے اجتناب کیا، اور وہ بھی اس تاویل سے کہ اسلام میں بھی ان کو اپنانا کوئی لازم نہیں ہے، لیکن اس پر قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے اس سے منع فرمادیا۔ وبس۔ پس نہ اس میں یہ ہے کہ سب صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ایسا کیا تھا اور نہ اس میں یہ ہے کہ جنہوں نے ایسا کیا تھا تو وہ اس پر برقرار رہے۔

قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (سورۃ البقرۃ، پ 02، آیت 208)

تفسیر بغوی میں ہے "نزلت هذه الآية في مؤمني أهل الكتاب عبد اللہ بن سلام النضيري وأصحابه، وذلك أنهم كانوا يعظمون السبت ويكرهون لحمان الإبل وألبانها بعد ما أسلموا وقالوا: يا رسول اللہ إن التوراة كتاب اللہ فدعنا فلنقم بها في صلاتنا بالليل فأنزل اللہ تعالى ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪ ﴾" ترجمہ: یہ آیت اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے حضرت عبداللہ بن سلام نضیری اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی اور یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اونٹ کا گوشت اور اونٹنیوں کے دودھ کو اسلام لانے کے بعد ناپسند کرتے تھے اور انہوں نے عرض کی: اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم!بے شک توریت اللہ تعالی کی کتاب ہے تو آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں کہ ہم اپنی رات کی نماز میں اس کی تلاوت کریں۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ حکم نازل فرمایا: "اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو ۔" (تفسیر البغوی، ج 01، ص 240، مطبوعہ، بیروت)

خزائن العرفان میں اسی آیت مبارکہ کے تحت ہے "شان نزول: اہل کتاب میں سے عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد شریعت موسوی کے بعض احکام پر قائم رہے شنبہ کی تعظیم کرتے اس روز شکار سے اجتناب لازم جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں تو مباح ہیں ان کا کرنا ضروری نہیں اور توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت موسوی پر عمل بھی ہوتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہوگئے اب ان سے تمسک نہ کرو (خازن) " (خزائن العرفان، زیر آیت سورۃ البقرۃ، 208)

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اقوال و افعال حجت ہونے کے حوالے سے دلائل درج ذیل ہیں:

(الف) قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْاۚ-وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍۚ-﴾ ترجمۂ کنز الایمان: ”پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں۔ “ (سورۃ البقرۃ، پ 01، آیت 137)

اس کے تحت تفسیرصراط الجنان میں ہے "یہودیوں کو صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی طرح ایمان لانے کا فرمایا:، اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا ایمان بارگاہِ الٰہی میں معتبر اور دوسروں کیلئے مثال ہے۔" (صراط الجنان، زیر آیت سورۃ البقرہ، 137 مکتبۃ المدینہ، کراچی)

(ب) سنن ترمذی شریف میں ہے "تفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة، كلهم في النار إلا ملة واحدة»، قالوا: ومن هي يا رسول اللہ؟ قال: «ما أنا عليه وأصحابي»" ترجمہ: میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے، سب کے سب جہنمی ہوں گے، سوائے ایک کے، لوگوں نے عرض کی: "اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ ایک کون ہے ؟ "ارشاد فرمایا: "جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (سنن ترمذی، ابواب الایمان، ج 05، ص 26، مطبوعہ مصر)

(ج) سنن ابی داؤد شریف وغیرہ میں ہے "من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين، تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ" ترجمہ: جو تم میں سے میرے بعد زندگی گزارے گا تو وہ بہت سارا اختلاف دیکھے گا تو تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت اختیار کرنا لازم ہے، تم ان کو تھام لو اور مضبوطی سے پکڑ لو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ، ج 04، ص 200، مطبوعہ بیروت)

(د) مسلم شریف میں ہے "فقال: يا عبد اللہ بن جعفر قم فاجلد ه، فجلد ه وعلي يعد حتى بلغ أربعين، فقال: أمسك، ثم قال: «جلد النبي صلى اللہ عليه وسلم أربعين» وجلد أبو بكر أربعين وعمر ثمانين" وكل سنة، وهذا أحب إلي." ترجمہ: پس حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اے عبد اللہ بن جعفر اٹھو اور اس شرابی کو کوڑے لگاؤ، پس آپ نے اسے کوڑے لگائے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اسے شمار فرمانے لگے یہاں تک کہ وہ چالیس تک پہنچے تو فرمایا: رک جاؤ۔ پھر فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے چالیس کوڑے لگائے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی کوڑے لگائے اور یہ سب سنت ہیں اور یہ (چالیس والا طریقہ) مجھے زیادہ محبوب ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب حد الخمر، ج 03، ص 1331، مطبوعہ بیروت)

اس کے تحت شرح النووی علی مسلم، میں ہے "وفيه أن فعل الصحابي سنة يعمل بها وهو موافق لقوله صلى اللہ عليه وسلم فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ" ترجمہ: اور اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ صحابی کا فعل قابل عمل سنت ہے اور یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق ہے: "پس تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کا اختیار کرنا لازم ہے، ان کو مضبوطی سے تھام لو۔ (شرح النووی علی مسلم، ج 11، ص 216، مطبوعہ بیروت)

(ہ) حدیث پاک میں ہے "قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: «أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم»." ترجمہ: اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے کسی کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔" (مشکاۃ المصابیح، کتاب المناقب، باب مناقب الصحابۃ، الفصل الثالث، ج 03، ص 1696، المکتب الاسلامی، بیروت)

شرح المشکاۃ للطیبی میں ہے "وقد شبهوا بالنجوم في قوله عليه الصلاة والسلام: ((أصحابي كالنجوم)) الحديث حسنه الإمام الصنعانی" ترجمہ: صحابہ کرام علیہم الرضوان کو ستاروں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان میں: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ (آخر تک حدیث پاک) اس حدیث پاک کو امام صنعانی نے حسن قرار دیا ہے۔ (شرح المشکاۃ للطیبی، کتا ب العلم، ج 02، ص 674۔75، مطبوعہ الریاض)

(و) ملا علی قاری علیہ الرحمۃ اپنی شرح مسند ابی حنیفہ میں ایک روایت کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں: "وفيه دليل على أن قول الصحابي حجة كما أشار إليه قوله صلى اللہ عليه وسلم: "أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم" ترجمہ: اور اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ صحابی کا قول حجت ہے جیسا کہ اس کی طرف حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان میں اشارہ ہے: "میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے کسی کی پیروی کروگے ہدایت پا جاؤ گے۔ (شرح مسندابی حنیفہ، ص328، مطبوعہ بیروت)

(ز) المبسوط للسرخسی میں ہے "والحاصل أنه إذا صح له قول عن واحد من المعروفين من الصحابة - رضي اللہ عنهم - قضى به وقدمه على القياس لقوله - صلى اللہ عليه وسلم - «أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم»" ترجمہ: اور حاصل یہ ہے کہ جب قاضی کے کسی معروف صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ثابت ہو جائے تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے اور اسے قیاس پر مقدم کرے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے "میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے کسی کی پیروی کروگے ہدایت پا جاؤ گے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب ادب القاضی، ج 16، ص 83، دار المعرفۃ، بیروت)

(ح) مختصر الطحاوی میں ہے "القاعدۃ فی القضاء بم یقضی: وینبغی لہ ان یقضی بما فی کتاب اللہ فان اتاہ شیء لیس فی کتاب اللہ قضی فیہ بما اتی عن رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، فان لم یجد فیہ نظر فیما اتاہ عن اصحاب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فقضی بہ فان کانوا قد اختلفوا فیہ تخیر من اقاویلھم احسنھا فی نفسہ ولم یکن لہ ان یخالفھم جمیعا ویبتدع شيئًا من رأيه " ترجمہ: قاضی کس کے مطابق فیصلہ کرے اس کے بارے میں قاعدہ:

اور قاضی کو چاہیے کہ جو کچھ کتاب اللہ میں ہے، اس کے مطابق فیصلہ کرے، پس اگر اس کے پاس ایسا معاملہ آئے کہ جس کے متعلق کتاب اللہ میں کچھ نہ ہو تو پھر رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق فیصلہ کرے اور اگر اس میں بھی کچھ نہ پائے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اقوال و افعال کو دیکھے پس اس کے مطابق فیصلہ کرے اور اگر اس معاملے میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کا آپس میں اختلاف ہو تو جس کو سب سے اچھا سمجھے اس کو اختیار کرے، اور اس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مخالفت کرے اور اس معاملے میں کوئی اپنی طرف سے نیا حکم جاری کرے۔ (مختصر الطحاوی مع شرحہ، کتاب ادب القاضی، جلد 8، ص 18، دار السراج، مدینۃ المنورہ)

اس کے تحت شرح مختصر الطحاوی میں ہے "وذلك أنه لما صح أنهم لا يجتمعون على ضلال، فقد ثبت أن الحق لا يخرج من أقاويلهم، وأن ما خرج من أقاويلهم فهو خطأ، ۔۔وله أن يختار من أقاويلهم ما غلب على ظنه أنه الحق، وذلك لأنهم لما اختلفوا فيه على وجوه مختلفة، ولم يعنف بعضهم بعضًا فيما ذهب إليه، ولم يظهر النكير عليه، فقد سوغوا فيه الاجتهاد، وأجازوا اعتقاد أحد الأقاويل على حسب ما غلب في ظن المجتهد. ويدل عليه قول النبي عليه الصلاة والسلام: "أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم". ترجمہ: صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خلاف فیصلہ اس لیے نہیں کر سکتا کہ جب یہ بات ثابت ہوچکی کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان گمراہی پر جمع نہیں ہوں گے تو یہ ثابت ہوگیا کہ حق ان کے فرامین سے جدا نہیں ہوگا اور یہ کہ ان کے فرامین سے جو کچھ جدا ہوا تو وہ خطا ہے۔ اور قاضی کو اختیار ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے جن کے قول کے متعلق اسے ظن غالب ہوتا ہے کہ یہ حق ہے وہ اسے اختیار کرلے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس معاملے میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مختلف اقوال ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو ان کے نظریہ کے سبب برا بھلا نہیں کہا تو اس معاملے میں اجتہاد کی انہوں نے اجازت عطا فرمادی اور مجتہد کو جس قول کے متعلق غالب گمان ہو اس کو اختیار کرنے کی بھی اجازت عطا فرمادی۔ اور اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے: "میرے صحابہ ستاروں کی مانندہیں، ان میں سے کسی کی پیروی کروگے ہدایت پا جاؤ گے۔" (شرح مختصر الطحاوی، کتاب ادب القاضی، ج 08، ص 22، دار السراج، مدینۃ المنورہ)

(ط) فتح القدیر اور رد المحتار میں ہے "والحاصل أن قول الصحابي حجة فيجب تقليده عندنا إذا لم ينفه شيء آخر من السنة" ترجمہ: اور حاصل یہ ہے کہ صحابی کا قول حجت ہے پس ہمارے نزدیک قول صحابی کی تقلید واجب ہے جبکہ کوئی دوسری حدیث اس کے خلاف نہ ہو۔ (فتح القدیر، باب صلاۃ الجمعۃ، ج 02، ص 64، مطبوعہ کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: Lar-10776

تاریخ اجراء: 23 ذو الحجۃ 1442 ھ/03 اگست 2021ء