logo logo
AI Search

اللّٰہ کی رحمت ہر جگہ ہے تو مزار پر کیوں جائیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اللہ تعالی کی رحمت ہر جگہ ہے تو مزار پر جانے کی کیا ضرورت ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و قدرت ہر جگہ عام ہے، وہ ہر مقام سے اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا بھی ہے اور قبول فرمانے پر بھی قادر ہے، اس لیے گھر، مسجد یا کسی بھی مقام پر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا بلا شبہ جائز اور باعثِ خیر و برکت ہے۔ لیکن اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ تمام مقامات فضیلت، برکت، تجلیاتِ رحمت اور قبولیتِ دعا کے اعتبار سے یکساں ہیں، بلکہ قرآن و حدیث سے یہ امر واضح طور پر ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت و حکمت سے بعض اوقات، بعض اشخاص اور بعض مقامات کو خصوصی فضائل و برکات سے ممتاز فرمایا ہے، اسی بنا ءپر جمعۃ المبارک کی مخصوص گھڑیوں، خاص راتوں، یونہی مسجد حرام، مسجد نبوی، مستجاب، ملتزم، مقامِ ابراہیم، عرفات، منیٰ، مزدلفہ اور دیگر متبرک مقامات پر حاضر ہو کر عبادت و دعا کرنا زیادہ فضیلت و برکت کا باعث اور جلد قبولیتِ دعا کا ذریعہ ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ سے دعاؤں کو سنتا ہے، اسی طرح انبیاء و مرسلین، صحابہ و تابعین اور اولیاء و صالحین (علیہم الصلاۃ و السلام و رحمۃ اللہ علیہم) کی عبادت گاہیں اور مزارات اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں اور انوار و تجلیات کے خصوصی مظاہر اور خیر و برکت اور روحانی فیوض کے حصول کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں، کیونکہ صالحین کے مزارات بھی عموماً وہیں پر ہوتے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان مقدس مقامات پر حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا، درودِ پاک پڑھنا، ایصالِ ثواب کرنا اور ان مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنا، شرعی لحاظ سے نہ صرف جائز، بلکہ مستحسن، باعثِ برکت اور اسلاف کا معمول رہا ہے۔

جہاں تک اس اعتراض کا معاملہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی رحمت و قدرت ہر جگہ موجود ہے تو پھر مزارات پر جانے کی کیا ضرورت ہے؟، تو جواب یہ ہے کہ یہ بات اصلاً ہی بے محل اور غلط ہے، کیونکہ مزارات پر حاضری کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہو تاکہ اللہ تعالیٰ صرف وہیں دعا سنتا ہے یا گھر میں دعا قبول نہیں ہوتی، بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول بندوں کے مزارات اور ان سے منسوب مقامات پر خصوصی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برستی ہیں وہاں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں، اس لیے ان مقامات پر حاضر ہو کر ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کی جاتی ہیں، تاکہ ان مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کے صدقے اللہ کریم ہمارے احوال پر بھی رحمت فرمائے اور ہمیں بھی اپنی خصوصی رحمت اور روحانی فیوض سے مستفید فرمائے۔

مزید یہ کہ صالحین کی عبادت گاہوں اور ان کے مزارات پر جانا اور وہاں دعا کرنا، محض بعد کے لوگوں کا عمل نہیں، بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ، بلکہ دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلامْ کے مبارک عمل سے بھی ثابت ہے اور ہمیشہ سے صحابہ و تابعین، ائمۂ دین، محدثین اور سلف صالحین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا یہی معمول رہا ہے کہ وہ صالحین کے مزارات پر حاضری دیتے، وہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور ان کے وسیلے سے اپنی حاجات کے لیے دعا کرتے تھے اور پھر ان اہل اللہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی جناب سے اپنی حاجات پانے میں کامیاب بھی ہوتے تھے (تفصیل ذیل میں بیان کی جائے گی)۔ لہٰذا شرعی آداب کی رعایت کرتے ہوئے مزاراتِ اولیاء پر حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعائیں کرنی چاہییں کہ یہ روحانی وقلبی سکون کا بہتر ین ذریعہ اور حاجات پوری ہونے کا مجرب عمل ہے۔

دلائل ملاحظہ کیجیے:

صالحین کی عبادت گاہوں اور ان کے قرب میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، حضرت زکریا علیہ السلام نے اس جگہ میں اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی دعا کی جہاں حضرت مریم رضی اللہ عنہا پر اللہ کا خصوصی فضل ہوتا تھا، غیبی رزق ملتا تھا اور جہاں آپ اللہ کی عبادت کیا کرتی تھیں، تو اللہ کریم نے آپ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں بیٹا عطا فرمایا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ- قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ- اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ﴾ ترجمہ: ”اسی جگہ زکریا نے اپنے رب سے دعا مانگی، عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنی بارگاہ سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو ہی دعا سننے والا ہے۔“ (سورۃ آل عمران، آیت 38)

آیتِ مبارکہ کے اسلوب پر غور کریں، تو واضح ہوتا ہے کہ اللہ کریم نے فقط حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کا ذکر نہیں کیا، بلکہ اس حجرے اور مقام کا بھی ذکر فرمایا جہاں حضرت زکریا علیہ السلام نے دعا کی تھی، معلوم ہوا کہ جہاں اللہ والے رہتے ہوں، وہ مقام بھی عظمت و برکت والا ہو جاتا ہے۔

چنانچہ مذکورہ آیتِ مبارکہ کے تحت ”صراط الجنان فی تفسیر القرآن“ میں کئی مستند عربی تفاسیر کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا: حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے جب اس جگہ پر اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی دیکھی تو وہیں یعنی بیت المقدس کی محراب میں دروازے بند کرکے پاکیزہ اولاد کی دعا مانگی . . . اس آیت سے چند چیزیں معلوم ہوئیں: (1) … جس جگہ رحمت  الٰہی کا نزول ہوا ہو وہاں دعا مانگنی چاہیے، جیسے جس مقام پر حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو غیب سے رزق ملتا تھا وہیں حضرت زکریا علیہ السلام نے دعا مانگی۔ اسی وجہ سے خانہ کعبہ اور تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے روضہ اقدس اور مزاراتِ اولیاء پر دعا مانگنے میں زیادہ فائدہ ہے کہ یہ مقامات رحمت  الٰہی کی بارش برسنے کے ہیں۔

 … (2)علمائےکرام نے اس جگہ کو مقبولیت کے مقامات سے شمار کیا جہاں کسی کی دعا قبول ہوئی ہو۔ لہٰذا جہاں اولیائےکرام علیہم الرحمۃ کا وجود ہو یا جہاں وہ رہے ہوں،وہاں دعا کرنی چاہیے کیونکہ اولیاء بکثرت دعا کرتے ہیں اور ان کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں تو جہاں وہ رہے ہوں گے وہاں دعائیں ضرور قبول ہوئی ہوں گی۔ ( صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 470، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جس پتھر پر اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مبارک قدم لگے، وہ پتھراللہ کی بارگاہ میں اتنا عزت والا ہو گیا کہ لوگوں کو اس کے پاس عبادت کرنے کا حکم دیا گیا، جیساکہ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى﴾ ترجمہ: ”اور (اے مسلمانو!) تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔“ (سورۃ البقرۃ، آیت 125)

معلوا ہواکہ جب ایک پتھر کی نسبت اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے کے ساتھ ہو جائے، تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ سے مقامِ ابراہیم کے پاس نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور وہاں اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر دین و دنیا کی بھلائیاں بھی پاتے ہیں۔

جہاں اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اصحابِ کہف آرام فرما رہے ہیں، وہ مقام بھی برکت والا ہو گیا، اسی وجہ سے وہاں مسجدبنا دی گئی اورلوگ وہاں جا کر عبادت بھی کرتے اور دعا بھی مانگتے ہیں، حالانکہ اللہ کریم تو ہر جگہ سے سنتا ہے، چنانچہ ارشادِ رب العباد ہے: ﴿ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًاؕ- رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْؕ- قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو کہنے لگے: ان کے غار پر کوئی عمارت بنادو، ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، جو لوگ اپنے اس کام میں غالب رہے تھے انہوں نے کہا: ہم ضرور ان کے قریب ایک مسجد بنائیں گے۔ (سورۃ الکہف ، آیت 21)

مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر نسفی میں ہے: ”﴿لَنَتَّخِذَنَّ﴾ باب الكهف ﴿مَّسْجِدًا﴾ يصلي فيه المسلمون و يتبركون بمكانهم“ یعنی: ایمان والوں نے کہا کہ ہم ضرور غار کے دروازے پر ایک مسجد بنائیں گے جس میں مسلمان نماز بھی پڑھیں اور ان کے قرب والی جگہ سے برکتیں بھی حاصل کریں۔ (تفسیر نسفی، جلد 2، صفحہ 292، مطبوعہ دار الکلم، بیروت)

تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے مزارات کے قریب مسجدیں بنانا اہلِ ایمان کا قدیم طریقہ ہے اور قرآنِ کریم میں اس کا ذکر فرمانا اور اس کو منع نہ کرنا اس فعل کے درست ہونے کی قوی ترین دلیل ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کے قرب میں برکت حاصل ہوتی ہے اسی لئے اہل اللہ کے مزارات پر لوگ حصولِ برکت کے لئے جایا کرتے ہیں۔ قبروں کی زیارت سنت اور موجبِ ثواب ہے۔ (صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 553، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم بنفسِ نفیس شہدائے احد کے مزارات پر تشریف لے جا کر دعا کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی اتباع میں خلفائے راشدین کا بھی یہی معمول تھا، چنانچہ مصنف عبد الرزاق میں ہے: ’’كان النبي صلى اللہ عليه و سلم يأتي قبور الشهداء  عند  رأس  الحول، فيقول: ’’السلام عليكم بما صبرتم، فنعم عقبى الدار‘‘، قال: و كان أبو بكر، و عمر، و عثمان، يفعلون ذلك‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سال کے شروع میں شہدائےاُحد کے مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے اور فرماتے: ’’السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار“ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان علیہم الرضوان بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (المصنف لعبد الرزاق، جلد 04، صفحہ 289، مطبوعہ دار التاصیل)

اسی حدیث کو ائمہ تفسیر و حدیث، جیسے امام ابن جریر طبری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ”جامع البیان فی تفسیر القرآن“ میں، امام سیوطی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ”الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور“ میں اور علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ نے ”عمدۃ القاری“ میں بھی بیان کیا ہے۔

زیارتِ قبور کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے خود ارشاد فرمائی، چنانچہ فرمایا: ”كنت  نهيتكم عن زيارة القبور، فزوروها؛ فإنها تزهد في الدنيا، و تذكر الآخرة‘‘ یعنی: میں پہلے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے اور وہاں جانے سے منع کرتا تھا، لیکن اب تم زیارتِ قبور کے لیے جایا کرو، کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا کرتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 501، مطبوعه دار احياء الکتب العربیہ)

معلوم ہوا کہ اولیاء و صالحین کے مزارات پر جانا اور وہاں دعا مانگنا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اور خلفائے راشدین کی سنت ہے۔

صالحین کے مزارت پر حاضری کے متعلق اقوالِ ائمہ:

فقہائے احناف میں سے مفتی شام علامہ عبد الرحمٰن عمادی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 1051ھ) نے صالحین کی زیارت اور ان کی قیام گاہوں کی حاضری کو قبولیتِ دعا کے لیے مجرب جگہیں قرار دیا، چنانچہ لکھتے ہیں: ”إن زيارة الصالحين من أقرب القربات و هي لاستمطار سحائب البرکات ومن الأمور المجرّبات وقد أمرنا بالتّعرّض للنفحات ولا شک أن مواطنهم من أکبر مظنات إجابة الدعوات“ یعنی: بے شک صالحین کی زیارت باعثِ ثواب اعمال میں سے بہت بلند درجہ عمل ہے، یہ ان اعمال میں سے ہے جن کے ذریعہ برکات کی بارش ہوتی ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جن کا تجربہ بارہا ہو چکا ہے۔ ہمیں (ان کی برکات کے) عطیات کو حاصل کرنے کا حکم ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی قیام گاہیں قبولیتِ دُعا کے سب سے بڑے مقامات میں سے تصور کی جاتی ہیں۔ (الروضة الريا فيمن دفن بداريا، مقدمه، صفحه 55، 56، مطبوعہ دارالمامون، دمشق)

یاد رہے! علامہ عمادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مذکورہ کتاب دمشق کی ایک بستی ’’داریا‘‘ میں مدفون صالحین کے بارے میں لکھی ہے اور بیان کیا ہے کہ کن کن مقبولانِ بارگاہ ہستیوں کے یہاں مزارات ہیں۔ اسی بستی ’’داریا‘‘ کی نسبت سے علماء اپنے ناموں کے ساتھ دارانی لکھتے ہیں۔

علامہ ابن الحاج الفاسی مالکی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 737ھ) نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’المدخل‘‘ میں بڑی حسنِ ترتیب اور تفصیل کے ساتھ زیارتِ قبور کے احکام بیان کیے، اس میں امام ابو عبدا بن نعمان رَحِمَہُ اللہ کی کتاب’’سفینۃ النجاء لاھل الالتجاء‘‘ جو انہوں نے شیخ ابو النجار رَحِمَہُ اللہ کی کرامات کے بیان میں لکھی ہے ، اس کے حوالے سے اولیاء و صالحین کے مزارات کی حاضری کے متعلق لکھتے ہیں:”أن زيارة قبور الصّالحين محبوبة لأجل التّبرّک مع الاعتبار فإن برکة الصّالحين جارية بعد مماتهم کما کانت في حياتهم و الدّعاء عند قبور الصّالحين والتشفع بهم معمول به عند علمائنا المحققين من أئمة الدين“ یعنی: حصولِ برکت کے لیے قبورِ صالحین کی زیارت محبوب عمل ہے، کیونکہ صالحین کی برکات جس طرح ان کی زندگی میں فیض رساں ہوتی ہیں اسی طرح ان کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہیں ہے اور صالحین کی قبروں کے پاس دعا کرنا اور ان سے شفاعت طلب کرنا ائمۂ دین اور علمائے محققین کا معمول رہا ہے۔ (المدخل، جلد 2، صفحہ 255، مطبوعہ دار التراث)

مذکورہ عبارت نقل کرنے کے بعد صالحین کے مزارات کے لیے سفر کو مشروع قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”من کانت له حاجة فليذهب إليهم و ليتوسّل بهم بقوله عليه الصلاة و السلام (لا يشد الرحال إلا لثلاثة مساجد المسجد الحرام و مسجدي و المسجد الأقصي) انتهي. و قد قال الامام الجليل أبو حامد الغزالي في کتاب آداب السفر من کتاب الاحياء له ماهذا نصه. القسم الثاني و هو أن يسافر لأجل العبادة، إما لجهاد أو حج إلي أن قال: و يدخل في جملته زيارة قبور الأنبياء و قبور الصّحابة و التّابعين و سائر العلماء و الأولياء و کل من يتبرّک بمشاهدته في حياته يتبرّک بزيارته بعد وفاته. ويجوز شدّ الرحال لهذا الغرض ولا يمنع من هذا، قوله صلي الله عليه و آله و سلم: (لاتشدّ الرِحال إلا لثلاثة مساجد المسجد الحرام و مسجدي و المسجد الأقصي) لأن ذلک في المساجد لأنها متماثلة بعد هذه المساجد والا فلا فرق بين زيارة الأنبياء، و الأولياء، و العلماء في أصل الفضل، وإن کان يتفاوت في الدرجات تفاوتاً عظيماً بحسب اختلاف درجاتهم عند اللہ عزوجل“ یعنی: جس شخص کو کوئی حاجت درپیش ہو اسے چاہیے کہ وہ صالحین کی قبروں اور ان کے مقابر پر جائے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کا وسیلہ پیش کرے۔ یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین مسجدوں کے سوا کسی طرف جانے کے لئے سامانِ سفر نہ باندھا جائے، مسجدِ حرام، میری مسجد اور مسجدِ اقصیٰ۔ امام غزالی رَحِمَہُ اللہ نے احیاء العلوم کے آدابِ سفر میں بیان کیا ہے کہ عبادات کے لیے سفر کیا جائے مثلاً جہاد اور حج کے لیے اور اس کے بعد فرمایا کہ انبیاء عَلَیْہِم السَّلام، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور تمام علماء اور اولیاء اللہ رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلاَمْ کی قبروں کے لیے سفر کرنا بھی اس عملِ خیر میں شامل ہے اور ہر وہ شخص جس کی زیارت اور اس سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس کی زندگی میں سفر کرنا، جائز ہے، اس کی موت کے بعد اس کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا بھی جائز ہے حدیث مبارکہ کہ ’’ان تین مساجد کے سوا کسی اور مسجد کی زیارت کے لیے سامان سفرنہ باندھا جائے‘‘ میں اس مقصد کے لیے سفر کی ممانعت نہیں، کیونکہ یہ حکم زیادہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے مساجد کی طرف سفر کرنے سے متعلق ہے ان تینوں مساجد کے علاوہ دیگر تمام مسجدیں ثواب میں برابر ہیں۔ ورنہ (اگر ہر سفر کو ناجائز کہا جائے) تو انبیاء عَلَیْہِم السَّلام، اولیاء اللہ اور علماء کی زیارت میں اصلاً کوئی فضلیت باقی نہیں رہے گی، اگرچہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے مقام و مرتبہ میں ان کے درجات کے مطابق بہت بڑا فرق ہے۔ (المدخل، جلد، صفحہ 255، 256، مطبوعہ دار التراث)

اور علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1252ھ / 1836ء) اِس موضوع پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’هل  تندب  الرحلة لها كما اعتيد من الرحلة إلى زيارة خليل الرحمن و أهله و أولاده، و زيارة السيد البدوي و غيره من الأكابر الكرام؟ لم أر من صرح به من أئمتنا، و منع منه بعض أئمة الشافعية إلا لزيارته صلى اللہ عليه و سلم قياسا على منع الرحلة لغير المساجد الثلاثة. و رده الغزالي بوضوح الفرق، ۔ ۔ ۔ و أما الأولياء فإنهم متفاوتون في القرب من اللہ تعالى، و نفع الزائرين بحسب معارفهم و أسرارهم. قال ابن حجر في فتاويه: و لا تترك لما يحصل عندها من منكرات و مفاسد كاختلاط الرجال بالنساء و غير ذلك لأن القربات لا تترك لمثل ذلك، بل على الإنسان فعلها و إنكار البدع، بل و إزالتها إن أمكن‘‘ ترجمہ: کیا زیارتِ قبور کے لیے سفر مستحب ہے، جیسا کہ خلیل الرحمن، اُن کے اہل وعیال ، سید بدوی اور دیگر اکابر اولیائے کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْهم کے مزارات پر حاضری کا رواج ہے؟ میں نے اپنے ائمہ میں سے کسی کی تصریح نہیں دیکھی، البتہ بعض شافعی ائمہ نے زیارتِ درِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کےعلاوہ دیگر قبور پر حاضری سے منع کیا ہے اور اِس کی بنیاد مساجدِ ثلاثہ کے علاوہ دیگر مساجد کی طرف سفر سے ممانعت والی روایت کو بنایا ہے، لیکن امام غزالی رَحِمَہُ اللہ نے دونوں کے درمیان واضح فرق بیان کرتے ہوئے شوافع کی اِس دلیل کا رد کیا ہے۔ بہر حال اولیائے کرام قربِ خداوندی کے مختلف درجات پر فائز ہوتے ہیں، نیز اپنی درگاہوں پر حاضر ہونے والے زائرین کو حسبِ معرفتِ الہی اور کشفِ اسرار  خداوندی نفع بھی پہنچاتے ہیں۔ امام ابنِ حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنے فتاویٰ (الفتاویٰ الکبریٰ الفقھیۃ) میں فرمایا:مزارات پر ہونے والے غیر شرعی اُمور یا دیگر مفاسد مثلاً: عورتوں مردوں کے اختلاط کے سبب حاضری  مزاراتِ اولیاء کو ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا، کیونکہ نیکی کے کاموں کو اِس نوعیت کے غیر شرعی امور کے سبب اصلاً ترک نہیں کیا جاتا، بلکہ بندے کو چاہیے کہ نیکی کا کام جاری رکھے اور نت نئی خرابیوں کا سدِ باب کرے، بلکہ جس حد تک ممکن ہو، قلع قمع کرے۔ (ردالمحتار، جلد 05، مطلب فی زیارۃ القبور، صفحہ 366، مطبوعہ دمشق)

مزاراتِ صالحین کے متعلق اسلاف کا عمل:

ہمیشہ سے جمہور امتِ مسلمہ کایہی معمول رہا ہے کہ وہ صالحین کی زیارت کو جاتے ہیں اور اگر وہ وصال فرما گئے ہوں تو پھر ان کے مزارات پر فیوضات و برکات کے حصول کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ آج تک کسی نے اس عملِ صالح کو ناجائز و حرام قرار نہیں دیا، کیونکہ یہ عمل شروع سے ہی مشروع، نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے عمل شریف سے ثابت اور صحابہ و تابعین اور اکابر ائمۂ دین کا معمول ہے۔

چنانچہ (1) حضرت بلال بن حارث رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خلافتِ فاروقی کے زمانے میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی قبرِ انور پر حاضر ہوئے اور براہِ راست نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بارش طلب کریں، چنانچہ مصنف ابنِ ابی شیبہ میں ہے: ’’عن مالك الدار، قال: و كان خازن عمر على الطعام، قال: أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلى قبر النبي صلى اللہ عليه و سلم فقال: يارسول اللہ، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا،فاتاہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی المنام فقال: ائت عمر فاقرأہ السلام و اخبر ھم انھم سیسقون‘‘ ترجمہ: حضرت مالک دار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے، آپ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی جانب سے غلے پر خازِن مقرر تھے، آپ بتاتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق کے مبارک زمانے میں قحط پڑ گیا، تو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک پر حاضر ہو کر آپ سے عرض گزار ہوا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم! اپنی امت کے لیے بارش طلب کیجیے، بے شک وہ سب قحط کے سبب ہلاک ہوئے جارہے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ان کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ عمر کے پاس جا کر اسے میرا سلام پہنچاؤ اور لوگوں کو خبر دو کہ بارش آنے والی ہے۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ، جلد 6، صفحہ 356، مطبوعہ ریاض)

(2) حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبرِ انور پر مزار و قبہ بنایا گیا تھا، مسلمان وہاں آ کر زیارت بھی کیا کرتے اور وہا ں سے برکتیں بھی پاتے تھے، چنانچہ امام شمس الدین سخاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 902ھ) لکھتے ہیں: ”و جعل  على  قبره قبة فهو يزار ويتبرك به“ یعنی: مفہوم واضح ہے۔ (التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة، جلد 1، صفحہ 307، مطبوعہ بیروت)

(3) امام شافعی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ جب بغداد میں ہوتے تھے، تو حصولِ برکت کی غرض سے امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر مبارک کی زیارت کرتے اور وہاں ان کے وسیلے سے دعا کیا کرتے تھے، چنانچہ خطیب بغد ادی، علامہ ابن حجر ہتیمی اور علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم، وغیرہ ائمہ بیان کرتے ہیں، و اللفظ للثانی: ’’لم یزل العلماء وذو الحاجات یزورون قبرہ و یتوسلون عندہ فی قضاء حوائجھم و یرون نجح ذالک منھم الامام الشافعی رحمہ اللہ لما کان ببغداد فانہ جاء عنہ انہ قال انی لا تبرک بابی حنیفۃ واجی الی قبرہ فاذا عرضت لی حاجۃ صلیت رکعتین و جئت الی قبرہ و سالت اللہ عندہ فتقضی سریعا‘‘ ترجمہ: ہمیشہ سے علماء اور حاجت مند لوگ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کےمزار کی زیارت کرتےاوراپنی حاجتیں پوری کرنے کے لیے آپ کا وسیلہ پیش کرتے رہے ہیں اور اسے اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہیں، انہی علماء میں سے امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ بھی ہیں، جن کے متعلق یہ بات مروی ہےکہ آپ فرماتے ہیں: جب میں بغدادمیں قیام پذیر تھا، تو امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے برکات کا حصول کرتا تھا۔ جب مجھےکوئی حاجت و ضرورت درپیش ہوتی، تو میں امام اعظم کے مزار پر آتا اور دو رکعتیں پڑھتا، پھر ان کی قبر مبارک پر حاضری دیتا اور وہاں اللہ پاک سے دعا کرتا، تو فوراً میری حاجت پوری ہو جاتی۔ (الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان، صفحہ 94، مطبوعہ بیروت)

غور کیا جائے تو یہ بڑا ہی ایمان افروز واقعہ ہے کہ

اوّلاً: تو اس میں ایک جلیل القدر امام کی دوسرے امام کی قبر پر حاضری اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کا ثبوت ہے۔

ثانیاً: یہ کہ ایسے متبرک مقامات پر اتعالیٰ کی رحمت برستی ہے، لہٰذا یہاں دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں۔

ثالثاً: یہ کہ مزارات کی حاضری اور وہاں سے حصولِ برکات کا نظریہ کوئی جدید نہیں، بلکہ قرونِ اولیٰ سے چلتا آ رہا ہے۔

(4): مشہور محدّث امام ابنِ حبان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 354ھ) حضرت امام علی رضا بن موسیٰ کاظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے مزار مبارک پر حاضر ہو کر وہاں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے، چنانچہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”قد زرته مراراً کثيرة، و ما حلّت بي شدّة في وقت مقامي بطوس، و زرت قبر علي بن موسي الرضا صلوات ﷲ علي جده و عليه، و دعوت ﷲ تعالي إزالتها عنّي إلا استجيب لي، و زالت عنّي تلک الشدّة وهذا شئ جرّبته مراراً فوجدته کذلک، أماتنا ﷲ علي محبة المصطفي وأهل بيته صلي ﷲ و سلم عليه وعليهم أجمعين“ یعنی : میں نے اُن کے مزار کی کئی مرتبہ زیارت کی ہے، شہر طوس قیام کے دوران جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آئی تو حضرت امام موسیٰ رضا رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک پر حاضری دے کر اللہ تعالیٰ سے وہ مشکل دور کرنے کی دعا کی، تو وہ دعا ضرور قبول ہوئی اور مشکل دور ہوگئی۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے میں نے بارہا آزمایا، تو اسی طرح پایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور نبی اکرمصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اہلِ بیت کی محبت پر موت نصیب فرمائے۔) کتاب الثقات، جلد 8، صفحۃ 457، مطبوعہ دائرۃ المعارف، ھند)

(5) امام ابو الفرج ہندبائی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی قبر پر حاضری دیاکرتے تھے، پھر کچھ عرصہ ترک کی، تو خواب میں دوبارہ حاضری کی ترغیب دی گئی، چنانچہ امام ابن عساكر رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 571ھ) لکھتے ہیں:”عن أبي الفرج الهندبائي يقول: کنت أزور قبر أحمد بن حنبل فترکته مدة، فرأيت في المنام قائلاً يقول لي: لم ترکت زيارة قبر إمام السنة“ یعنی: حضرت ابوالفرج ہندبائی فرماتے ہیں کہ میں اکثر امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی قبر کی زیارت کیا کرتا تھا، پھر ایک عرصہ تک میں نے زیارت کرنا چھوڑ دیا، تو میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے: تو نے امام السنۃ (امام احمد بن حنبل) کی قبر کی زیارت کو کیوں ترک کیا؟ (تاريخ مدينة دمشق، جلد 5، صفحہ 333، مطبوعہ دار الفکر)

معلوم ہوا کہ صالحین کی قبور کی حاضری مستحسن و محبوب عمل ہے، اسی وجہ سے اسے چھوڑنے پر بذریعہ خواب دوبارہ ترغیب دی گئی۔

(6) امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وِصال کے تقریبا 200 سال بعدسمر قند میں خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑ گیا، لوگوں نے بارہا نماز استسقاء پڑھی اور دعائیں مانگیں لیکن بارش نہ ہوئی، پھر ایک نیک شخص شہر کے قاضی کے پاس گیا اور اُسے مشورہ دیا کہ تم شہر کے لوگوں کو لے کر امام بُخاری کی قبر پر جاؤ اور وہاں جا کر اللہ پاک سے بارش کی دعا مانگو، قاضی نے یہ مشورہ قبول کیا اور لوگوں کے ساتھ امام بُخاری کی قبر پر آیا اور امام بُخاری کے وسیلےسے دعائیں کیں، اُسی وقت بارش شروع ہو گئی اور سات دن تک مسلسل اِتنی بارش ہوئی کہ لوگوں کے لیے مقام ”خرتنک“ سے ”سمرقند“ تک پہنچنا بھی مشکل ہوگیا، چنانچہ امام ذہبی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں:”أري أن تخرج و يخرج الناس معک إلي قبر الإمام محمد بن إسماعيل البخاري، و قبره بخرتنک، و نستسقي عنده فعسي اللہ أن يسقينا. قال: فقال القاضي: نعم، ما رأيت. فخرج القاضي و الناس معه، و استسقي القاضي بالناس، و بکي الناس عند القبر و تشفعوا بصاحبه. فأرسل  اللہ تعالي السماء بماء عظيم غزير، أقام الناس من أجله بخرتنک سبعة أيام أو نحوها لا يستطيع أحد الوصول إلي سمرقند من کثرة المطر وغزارته، و بين خرتنک وسمرقند نحو ثلاثة أميال“ مفہوم گزر چکا۔ (سير أعلام النبلاء، جلد 12، صفحہ 469، مؤسسۃ الرسالۃ)

(7) حضرت حسن بن ابراہیم حنبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں كہ جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی تو میں امام موسیٰ بن جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتا، تو میری مشکلات آسان ہو جاتی تھیں، چنانچہ تاریخ بغداد میں ہے: ”ما همني أمر فقصدت قبر مُوسَى بْن جعفر فتوسلت به إلا سهل اللہ تعالى لي ما أحب“ مفہوم گزر چکا۔ (تاریخ بغداد، مقدمۃ المصنف، جلد 1، صفحہ 133، مطبوعہ بیروت)

(8) ایک عورت نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے مزار کی زیارت کی ، لیکن قریب میں موجود حضرت ابو بکر شہرزوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی قبر کی زیارت نہ کی ، تو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں تشریف لا کر فرمایا کہ تم نے ان کے مزار کی زیارت کیوں نہ کی؟، لہٰذا وہ مدینہ منورہ سے سفر کر کے دوبارہ ان بزرگوں کے مزار پر حاضری کے لیے گئی ، چنانچہ امام ابن عساکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ”سمعت والدي أبا محمد الحسن بن هبة اﷲ يحکي أنه خرج ذات يوم لزيارة قبر بلال رضي اللہ عنه فوجد امرأة أعجمية و هي تبکي عند قبره، فقال البعض: من يحسن بالفارسية، سلها عن سبب بکائها، فقالت: قبر من هذا الذي إلي جنب قبر بلال؟ فقلت : هذا قبر أبي بکر الشهر زوري، و هذا قبر أبيه أبي إسحاق، أحدهما بين يديه و الآخر خلفه، فقالت: کيف قد زرت قبر بلال مرة ثم خرجت إلي رسول اللہ صلي اللہ عليه و آله و سلم و جاورت بها فرأيت النبي صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم في النوم، و هو يقول لي: زرت قبر بلال و ما زرت جاره؟ فرجعت من المدينة لزيارته أو کما قال“ مفہوم گزر چکا۔ (تاريخ مدينة دمشق، جلد 54، صفحہ 226، مطبوعہ دار الفکر)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ والوں کی قبروں کی زیارت ایک بابرکت عمل اور محبوبِ خدا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو بھی محبوب ہے اور جو عمل حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کومحبوب ہو، وہ رب العالمین کی بارگاہ میں بھی محبوب ہوتا ہے۔ قبورِ صالحین کی زیارت کا عمل نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ہاں اس قدر پسندیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے زائرہ خاتون کو زیارت ترک کرنے پر تنبیہ فرمائی۔

حرفِ آخر: ہم نے اختصار کے پیشِ نظر چند واقعات بطورِ نمونہ ذکر کیے ہیں، اگر کتبِ سیر، تواریخ اور اسماء الرجال کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے، تو بیسیوں ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن میں ائمۂ دین کا معمول بتایا گیا ہے کہ وہ اکابر صالحین کی قبور کی زیارت کے لئے جاتے اور وہاں جا کر دعائیں کیا کرتے تھے، یہ تمام حضرات دنیا بھر میں توحیدکا پیغام عام کرنے والے اور ہم سے کہیں زیادہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو سمجھنے والے تھے، لیکن کسی نے بھی اس عمل کو خلافِ شرع قرار نہیں دیا اور نہ ہی یہ کہا کہ جب اللہ ہر جگہ سے سنتا ہے، تو اتنا سفر کر کے مزار پر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لہٰذا اس عمل کو ناجائز، ممنوع یا توحید کے منافی قرار دینا، دین سے ناواقفیت اور اسلاف دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اللہ کریم ہمیں حق سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10122
تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر 1448ھ / 28 جولائی 2026ء