logo logo
AI Search

کفار کو بھی رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سے نفع ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کفار کو بھی حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی شفاعت سے نفع پہنچے گا: مقام محمود کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کفار کی شفاعت بھی فرمائیں گے؟ اس بارے میں صحیح سے تفصیل بتا دیجیے۔ کیونکہ اس بار ربیع الاول میں ہم بیان کر رہے ہیں، اس میں لکھا ہے کہ: "حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، کافروں کی بھی شفاعت کریں گے، اسی کو مقامِ محمود کہتے ہیں۔"

جواب

مقام محمود، مقام شفاعت ہی کا نام ہے، قیامت کے دن جب تمام مخلوق حساب و کتاب کے سخت انتظار میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ وہ تمنا کریں گے، کہ کاش جہنم میں پھینک دئیےجائیں، اور اس انتظار سے نجات پائیں؛ اس وقت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے حساب، کتاب کا دروازہ کھلے گا، اور کفار سمیت تمام مخلوق اس انتظار سے نجا ت پائے گی؛ اس وقت تمام اولین و آخرین، کافرین و مؤمنین، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی حمد کریں گے، اسی کو مقام محمود کہا جاتا ہے۔ اور یہ شفاعت، شفاعت کبرٰی کہلاتی ہے، یعنی حساب شروع کرانے کے لیے کی گئی شفاعت، اس کا فائدہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کفار کو بھی پہنچے گا، کہ وہ بھی حساب، کتاب کے انتظار سے نجات پائیں گے، لیکن کفار کی شفاعت اس معنی میں نہیں ہوگی کہ انہیں اللہ تعالی کے عذاب سے نجات مل جائے؛ کیونکہ اس شفاعت کے لیے ایمان شرط ہے، قرآن پاک میں کفار کے لیے جس شفاعت کی نفی کی گئی ہے، اس سے یہی شفاعت مرادہے۔

مقام محمود، مقام شفاعت کا نام ہے۔ قرآن کریم میں ہے: ﴿عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو ایسے مقام پر فائز فرمائے گا کہ جہاں سب تمہاری حمد کریں۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت : 79)

تفسير جلالین میں ہے " {مقاما محمودا} يحمدك فيه الأولون والآخرون وهو مقام الشفاعة" ترجمہ: مقام محمود کہ جس میں تمام اگلے پچھلے آپ کی تعریف کریں گے، اور یہی مقام شفاعت ہے۔ (تفسير جلالین، صفحہ 375، مطبوعہ: قاہرہ)

مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ’’آیت میں مقامِ محمود کا ذکر ہے اور مقامِ محمود مقامِ شفاعت ہے کہ اس میں اوّلین و آخرین حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حمد کریں گے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی گئی :مقامِ محمود کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا ’’وہ شفاعت ہے۔‘‘ (صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 498، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ’’عرصاتِ محشر میں وہ طویل دن ہوگا کہ کاٹے نہ کٹے اور سروں پر آفتاب اور دوزخ نزدیک، اُس دن سورج میں دس برس کامل کی گرمی جمع کریں گے اور سروں سے کچھ ہی فاصلہ پر لارکھیں گے، پیاس کی وہ شدت کہ خدا نہ دکھائے، گرمی وہ قیامت کہ بچائے، بانسوں پسینہ زمین میں جذب ہو کر اوپر چڑھے گا، یہاں تك کہ گلے گلے سے بھی اونچے ہوگا، جہاز چھوڑیں تو بہنے لگیں، لوگ اس میں غوطے کھائیں گے، گھبرا گھبرا کر دل حلق تك آجائیں گے۔ لوگ ان عظیم آفتوں میں جان سے تنگ آ کر شفیع کی تلاش میں جا بجا پھریں گے، آدم و نوح، خلیل و کلیم و مسیح علیہم الصلوۃ والتسلیم کے پاس حاضر ہو کر جواب صاف سنیں گے، سب انبیاء فرمائیں گے ہمارا یہ مرتبہ نہیں ہم اس لائق نہیں ہم سے یہ کام نہ نکلے گا، نفسی نفسی، تم اور کسی کے پاس جاؤ، یہاں تك کہ سب کے بعد حضور پُر نور خاتم النبیین، سیدّ الاولین والآخرین، شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین صلی ا تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ حضور اقدس صلی تعالٰی علیہ وسلم "اَنالَھا انالھَا" فرمائیں گے یعنی میں ہوں شفاعت کے لیے، میں ہوں شفاعت کے لیے۔ پھر اپنے رب کریم جلالہ، کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سجدہ کریں گے ان کا رب تبارك و تعالٰی ارشاد فرمائے گا: یا محمد ارفع رأسَك وقل تُسمع وسل تعطہ واشفع تشفع (اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو کہ تمہیں عطا ہوگا اور شفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہے۔) یہی مقامِ محمود ہوگا جہاں تمام اولین و آخرین میں حضور کی تعریف و حمد و ثنا کا غُل پڑ جائے گا اور موافق و مخالف سب پر کھل جائے گا۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 574، 575، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ’’قیامت کے دن مرتبۂ شفاعتِ کبریٰ حضور (صلی تعالیٰ علیہ وسلم) کے خصائص سے ہے کہ جب تک حضور (صلی تعالیٰ علیہ وسلم) فتحِ بابِ شفاعت نہ فرمائیں گے کسی کو مجالِ شفاعت نہ ہو گی، بلکہ حقیقۃً جتنے شفاعت کرنے والے ہیں حضور (صلی تعالیٰ علیہ وسلم) کے دربار میں شفاعت لائیں گے اور عزوجل کے حضور مخلوقات میں صرف حضور (صلی تعالیٰ علیہ وسلم) شفیع ہیں اور یہ شفاعتِ کُبریٰ مومن، کافر، مطیع، عاصی سب کے لیے ہے کہ وہ انتظارِ حساب جو سخت جانگزا ہوگا، جس کے لیے لوگ تمنّائیں کریں گے کہ کاش جہنم میں پھینک دیے جاتے اور اس انتظار سے نجات پاتے، اِس بلا سے چھٹکارا کفّار کو بھی حضور (صلی ا تعالیٰ علیہ وسلم) کی بدولت ملے گا۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 70، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مراۃ المناجیح میں ہے ’’شفاعت کبری صرف حضور کریں گے اس شفاعت کا فائدہ ساری خلقت حتی کہ کفار کو بھی پہنچے گا کہ اس شفاعت کی برکت سے حساب کتاب شروع ہو جائے گا اور قیامت کے میدان سے نجات ملے گی ۔‘‘ (مراۃ المناجیح، ج 7، ص 404، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

کفار کے حق میں شفاعت بایں معنی کہ ان کی بخشش ہو جائے محال ہے :

قرآن کریم میں ہے: ﴿وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی اور نہ کافر کے لئے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت : 48)

مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ’’یعنی اے بنی اسرائیل! قیامت کے اس دن سے ڈرو جس دن کوئی بھی شخص کسی کافر کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کافر کے بارے میں کسی کی کوئی سفارش مانی جائے گی اور نہ اس کافر سے جہنم کے عذاب سے نجات کے بدلے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان کفار سے اللہ تعالیٰ کا عذاب دور کر کے ان کی مددکی جائے گی۔‘‘ (صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 133، مکتبۃ المدینہ، کراچی )

قیامت کے دن کفار کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی کہ انہیں عذاب الٰہی سے چھٹکارا مل جائے کیونکہ انہیں ہمیشہ عذاب میں رہنا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ﴿فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: تو انھیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی۔ (سورۃ المدثر، آیت: 48)

مذکورہ آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے "أي: من كان متصفا بمثل هذه الصفات فإنه لا تنفعه يوم القيامة شفاعة شافع فيه؛ لأن الشفاعة إنما تنجع إذا كان المحل قابلا فأما من وافى اللہ كافرا يوم القيامة فإنه له النار لا محالة، خالدا فيها" ترجمہ: یعنی جو شخص ان صفات سے متصف ہو، قیامت کے دن کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت بھی اسے فائدہ نہیں دے گی؛ کیونکہ شفاعت اسی وقت نفع مند ہوتی ہے جب وہ شخص کہ جس کے حق میں شفاعت کی جا رہی ہو، اس میں اس نفع کا اثر قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ جبکہ جو شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور کفر کی حالت میں حاضر ہوگا، اس کے لیے بالیقین جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (اس لیے کافر کے حق میں شفاعت نفع مند نہیں )۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 282، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5341

تاریخ اجراء: 13 ربیع الاول 1448ھ/27 اگست 2026ء