logo logo
AI Search

مسلمان کیلئے کفر پر خاتمے کی بددعا کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کسی کے لیے کفر پر مرنے کی بد دعا کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

کسی بھی مسلمان کے لئے کفر پر خاتمے کی بد دعا کرنا، جائز نہیں کہ ایسا کرنا مسلمان کے ساتھ بدترین بدخواہی ہے اور مسلمان کا برا چاہنا حرام ہے۔ اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو بلاوجہِ شرعی اذیت دیتا ہے تو ایسا شخص گناہ گار اور عذابِ نار کا حقدار ہے، اس کے لئے دعائے ہدایت کرنی چاہیے۔

مسلمان کی ایذارسانی سے تنگ آکر اس طرح دعا کرنا ”یا اللہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو“ اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے ظلم کی سزادے تو ایسی دعا کفر تو نہیں، مگر سخت حرام ہے کہ مسلمان کی بدترین بد خواہی ہے اور اگر معاذ اللہ عزوجل کفر کو اچھا یا اسلام کو برا جان کر ہو تو کفر ہے، البتہ بعض فقہاء کے نزدیک ایسا کرنا مطلقا کفر ہے، لہٰذا اس اختلافی کفر کی بنا پر ایسے بد دعا کرنے والے کو تجدید ایمان کرنا بھی ضروری ہے۔

فتاوی بزازیہ میں کسی دوسرے مسلمان کے کفر پر مرنے کی بدعا کرنے کے متعلق ہے: ”اختلفوا قال الفضلي لايكون كافرا و قيل يكفر۔ و فی السیر مسألة تدل علي أن الرضا بكفر غيره ليس بكفر و هي ما اذا أخذ المسلمون أسير او خافوا أن يسلم فكمعوا، أي سدوا فمه، حتی لا یاتی بکلمۃ الاسلام فقد أساؤوا فیہ ولم یقل کفروا، دل ان الرضا بکفر غیرہ لیس بکفر۔ قال السرخسي: و لا دلالة فيه علي ما قالوا لأنهم انما فعلوا ذلك لعلمهم أنه يظهر الاسلام و لا يسلم حقيقة فلا يكون هذا رضا بكفر الغير أجيب عنه بأنا مكلفون باتباع الظاهر۔ قال اللہ تعالیٰ:﴿وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ (النساء :94)و قال علیہ السلام لمن أنكر كونه آتیا بكلمة الخلاص بقلبه: هلا شققت عن قلبه؟ فالكعم ظاهر في منع الايمان الظاهري و أنه هو ايمان معتبر في الشرع فيكون الرضا بترك الايمان متحققا و مع ذلك لم نجعله كفرا وقد قال الله تعالي حاكيا عن كليمه عليه السلام: ﴿وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ﴾ (یونس: الآیۃ 88) و معلوم أن الايمان بعد معاينة العذاب لا يقبل، و قد قصه اللہ تعالي علينا من غير انكار فهل هذا الا دعاء بالكفر الي الموت و الانسان انما يدعو بما يحب و يطلب و يرضي بوقوعه دل أن الرضا بكفر غيره اذا كان مستقبحا لكفر لايكون كفرا و طلب الموت الظالم علي الكفر من قبيل استقباح الكفر۔ و قد نص بكر رحمه اللہ أنه اذا دعا علي ظالم و قال: أماتك اللہ علي الكفر، لا يكفر لأنه يطلب سلب الايمان منه حتي ينتقم اللہ منه علي ظلمه و ايذاءه الخلق۔ و أما الرضا بكفر نفسه أو الرضا بكفر غيره مستجيزا أو مستحسنا للكفر كفر و يجوز أن يكون كلام المشائخ الرضا بالكفر محمولا علي هذا

 ترجمہ: علماء کا اس میں اختلاف ہے، علامہ فضلی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: کافر نہیں ہوگا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کافر ہوجائے گا۔ سیر میں ایک مسئلہ ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ غیر کے کفر پر راضی ہونا کفر نہیں اور وہ مسئلہ یہ ہے: مسلمانوں نے ایک کافر کوقیدی بنایا، انہیں خوف ہوا کہ کہیں یہ اسلام نہ لے آئے تو انہوں نے اس کا منہ بند کر دیا تاکہ کلمہ نہ پڑھ سکے، تو انہوں نے برا کیا۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ نہیں فرمایا کہ انہوں نے کفر کیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ غیر کے کفر پر راضی ہونا کفر نہیں۔ علامہ سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: اس مسئلے میں ان علماء کے لئے (جو دوسرے کے کفر پر راضی ہونے کو کفر قرار نہیں دیتے) کوئی دلیل نہیں، کیونکہ مسلمانوں نے اس کا منہ اس لئے باندھا تھا کیونکہ انہیں علم تھا کہ اسلام ظاہر کرے گا اور حقیقت میں مسلمان نہیں ہوگاتو یہ دوسرے کے کفر پر راضی ہونا نہیں ہوا۔ تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ مسلمانوں کو ظاہر کی اتباع کا حکم ہے ،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ (النساء: 94) (ترجمہ کنز الایمان: اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں)، اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے جنہوں نے کلمہ پڑھنے والے کے اخلاص سے پڑھنے کا انکار کیا، فرمایا: کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ تو منہ باندھنا ظاہری طور پر ایمان لانے سے روکنا ہے، اور شریعت میں ظاہری ایمان معتبر ہے تو ایمان نہ لانے پر راضی ہونا ثابت ہو جائے گا، اس کے باوجود ہم نے اسے کفر قرار نہیں دیا۔ بے شک اللہ تعالی نے اپنے کلیم علیہ السلام کے قول کو حکایت کرتےہوئے فرمایا: ﴿وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ﴾ (یونس: الآیۃ 88) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے دل سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔) اور یہ بات واضح ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد کا ایمان معتبر نہیں، اور اللہ تعالیٰ نے مذکورہ واقعہ کو ہمارے لئے بغیر انکار کے بیان فرمایا، اور یہ کفر پر مرنے کی دعا ہی ہے، اور انسان اسی چیز کی دعا کرتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے، طلب کرتا ہے اور جس کے وقوع سے راضی ہوتا ہے ،یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دوسرے کے کفر پر راضی ہونا اگر کفر کو برا جان کر ہو تو کفر نہیں اور ظالم کی کفر پر موت مانگنا کفر کو براجاننے کے قبیل سے ہے، اور علامہ بکر علیہ الرحمۃ نے بیان کیا، اگر کسی نے ظالم پر بد دعا کی اور کہا: اللہ تعالیٰ تجھےکفر پر موت دے تو کافر نہیں، کیونکہ وہ اس کے ایمان چھن جانے کو اس لئے چاہتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس ظالم سے اس کے ظلم اور لوگوں کو ستانےکا انتقام لے، البتہ اپنے یا دوسرے کے کفر پر راضی ہو کر اس کو جائز یا اچھا سمجھتے ہوئے کہا ہو، تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔ یہ ممکن ہے کہ مشائخ کرام کا رضا بالکفر والاکلام اسی معنی پر محمول ہو۔ (فتاوی بزازیہ، جلد 2، صفحہ 449، مطبوعہ کراچی)

الطریقۃ المحمدیۃ و السيرة الاحمدية اور اس کی شرح الحدیقۃ الندیۃ میں ہے: ”(الدعاء بالموت علی الكفر) في حق أحد من الناس (فأنه كفر عند بعض الناس) من العلماء (مطلقا) ان استحسن الكفر أو لم يستحسنه لأنه رضي بالكفر لغيره، و الرضا بالكفر كفر و (عند) بعض (آخرين) من العلماء (و ان كان) الدعاء بالموت علي الكفر (لاستحسان الكفر) أي رويته حسنا فهو كفر و ان كان يري قبيحا و ما دعا به علي غيره الا لقبيحه فليس ذلك كفر۔ و فی الشرح الجامع الصغير للمناوي قال الماتريدي: انما يكون الرضاء بالكفر كفرا اذا رضي بكفر نفسه لا بكفر غيره

 ترجمہ: انسانوں میں سے کسی کے کفر پر مرنےکی بد دعا کرنا بعض علماء کے نزدیک مطلقا کفر ہے، کفر کو اچھا سمجھتے ہوئے ہو یا اچھا نہ سمجھتے ہوئے ہو کیونکہ یہ شخص غیر کے کفر پر راضی ہوا، اور کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ جبکہ دوسرے بعض علماء کے نزدیک دوسرے کے کفر پر مرنے کی بددعا کرنا کفر کو اچھا جان کر ہو تو کفر ہے اور اگر کفر کو برا سمجھ کر ہو اور دوسرے کے لئے بددعا کفر کو برا سمجھ کر کی ہو تو یہ کفر نہیں۔ علامہ مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شرحِ جامع صغیر میں ہے: امام ماتریدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: کفر پر راضی ہونا کفر اس وقت ہے جب اپنے کفر سے راضی ہو، دوسرے کے کفر پر راضی ہونا کفر نہیں۔ (الحدیقۃ الندیۃمع الطریقۃ المحمدیۃ و السيرة الاحمدية، جلد 4، صفحہ 227، مبطوعہ بیروت)

رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”کسی مسلمان کو یہ بد دعا نہ کرے کہ تو کافر ہو جائے، کہ بعض علماء کے نزدیک کفر ہے اور تحقیق یہ ہے کہ اگر کفر کو اچھا یا اسلام کو بُرا جان کر کہے، بِلارَیب (یعنی بلا شک وشبہ)کفر ہے ورنہ بڑا گناہ ہے کہ مسلمان کی بدخواہی (مسلمان کا بُرا چاہنا) حرام ہے، خصوصاً یہ بد خواہی کہ سب بد خواہیوں سے بد تر ہے۔ (فضائلِ دعا، صفحہ 188، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

مسلمان ظلم کرے تب بھی اس کے لئے ہدایت کی دعا کرنی چاہئے کہ ظلم چھوڑ دے، سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: ”سنی مسلمان اگر کسی پر ظالم نہیں تو اس کے لئے بددعا نہ چاہئے بلکہ دعائے ہدایت کی جائے کہ جو گناہ کرتا ہے چھوڑ دے، اور اگر ظالم ہے اور مسلمانوں کو اس سے ایذا ہے تو اس پر بد دعا میں حرج نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 182، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اختلافی کفر میں فقہائے کرام تجدید ایمان کا حکم دیتے ہیں، فتاوی امجدیہ میں ہے: ”اگر قسم کھائی کہ فلاں کام کرے گا تو کافر ہوگا پھر اس نے وہ کام کیا اس کے کفر میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک کافر ہوگااور بعض کے نزدیک نہیں اور بعض فرماتے ہیں اگر وہ جانتا ہے کہ اس فعل کے کرنے سے کافر ہوجائےگا تو ہوجائے گاورنہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ بالجملہ اس کا کفر اختلافی ہے اگرچہ کفر کا حکم نہ دیں گے کہ یہی احتیاط ہے پھر بھی تجدید اسلام و تجدید نکاح کا حکم ہوگا کہ کفر اختلافی میں یہ ضرور ہے۔“ ( فتاوی امجدیہ جلد 4، صفحہ 418، 419 مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد طارق عطاری مدنی 
مصدق: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری
فتوی نمبر: Faj-8271
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1446ھ / 13 جولائی 2024ء