بزرگ کی سواری یا حاضری کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بزرگان دین کے وصال کے بعد کسی انسان پر ان کی سواری یا حاضری ہوتی ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں بعض مردیا عورتیں دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان پر بزرگوں کی "سُواری" آتی ہے یا بزرگان دین کی روحیں ان پر "حاضر" ہوتی ہیں، وہ حالتِ حاضری میں لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ نیز لوگ ان پر اندھا اعتماد بھی کرتے ہیں۔ آپ سے اس تناظر میں چند سوالات ہیں:
( 1 ) کیا بزرگان دین کے وصال کے بعد ان کی روحیں کسی مرد یا عورت پرحاضر یا سوار ہوتی ہیں ؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
(2) اگر اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں تو ان لوگوں کے اس دعوے کی حقیقت کیا ہوتی ہے؟
(3) جن لوگوں پر اس قسم کی ”حاضری“ آتی ہے ایسے لوگوں سے غیب یا مستقبل کی باتیں معلوم کرنا کیسا ہے ؟ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
(1) بزرگان دین کے وصال کے بعد ان کی روحوں کا کسی انسان کے جسم میں داخل ہوکر اس پر غلبہ حاصل کرلینا اور اس کے اعضاء کے ذریعے کلام کرنا۔۔ جسےعوام میں " سواری آنا " یا " حاضری ہونا " کہا جاتا ہے ۔۔ شرعاً بے اصل، غیر ثابت اور باطل عقیدہ ہے۔ شریعت مطہرہ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کسی ولی یا بزرگ کی روح کسی مرد یا عورت کے جسم میں حلول کرے یا اس پر سوار ہو۔ خصوصاً عورتوں پر سواری آنے کا تصور اور بھی بعید از عقل ہے، کیونکہ بزرگانِ دین جو اپنی حیات ظاہری میں غیر محرموں سے سخت احتیاط، نگاہوں کی حفاظت اور شرعی حدود کی کامل پاسداری فرماتے رہے، ان کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وصال کے بعد ان کی روحیں غیر محرم عورتوں کے جسموں میں حلول کریں، یہ عقل و نقل دونوں کے خلاف، اور خود ان اولیاء کی شان کے منافی ہے۔ لہذا ایسے دعوے صرف جاہلانہ، غیر شرعی اور خود ساختہ نظریات و خیالات پر مبنی ہیں، جن پر یقین کرنا، ہرگز جائز نہیں ۔
چنانچہ فتاوی شارح بخاری میں ایک عورت " شریفن " کے بارےمیں سوال ہوا، جو اَن پڑھ، گنوار اور بے نمازی عورت تھی، اور یہ دعویٰ کرتی تھی کہ میرے اوپر تمام اولیاء اللہ حاضر ہوتے ہیں ، اور عورتیں اس کے پاس جاتیں تو وہ عورتوں کو ان کے دل کا حال بتادیتی یہاں تک بتاتی کہ تم کب اور کیسے مروگی۔ اس پر شارح بخاری مفتی شریف الحق علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا: ”یہ عورت شریفن نام کی جھوٹی اورمکار ہے۔ حضرات اولیائے کرام کسی پر آئیں اس کی کوئی اصل نہیں خصوصاً ایسی عورت پر جو نماز نہیں پڑھتی اور نیم عریاں لباس پہنتی ہے۔ جو لوگ اس کی باتوں کو سچ جانتے ہیں وہ اپنے ایمان کی خیر منائیں۔“ (فتاویٰ شارح بخاری، جلد دوم، ص 194، مکتبہ برکات المدینۃ)
(2) جن لوگوں کایہ دعویٰ ہے کہ ان پر بزرگوں کی "حاضری" آتی ہے ، ان کے ایسے باطل دعوؤں کی عموماً دو صورتیں پائی جاتی ہیں:
(الف) بعض لوگ خود ساختہ عجیب و غریب حالتیں اختیار کرکے نادان عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے، بھیڑ جمانے اور پیسہ کمانے کے لئے ڈھونگ اور فریب کرتے ہیں ۔
(ب) اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شریر جنات ان کی عقل اور زبان پر غلبہ پاکر ان پر اپنا تصرف کر رہے ہوتے ہیں پھر جھوٹ موٹ یہ کہلواتے ہیں کہ ”میں فلاں فلاں بزرگ ہوں، فلاں جگہ میرا مزار ہے“ وغیرہ۔ اس طرح یہ جنات، بزرگوں کا نام استعمال کرکے عوام کواس شخص کا عقیدت مند بنارہے ہوتے ہیں، اور لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ " بہت پہنچی ہوئی ہستی " ہے۔ نیز یہ جنات، لوگوں کو مختلف قسم کی جھوٹی خبریں دے کر گھروں میں لڑائی بھی کروارہے ہوتے ہیں۔ یہ سب ان جنات کی فریب کاری ہوتی ہے جس میں بعض اوقات اس مخبوط الحواس شخص کا کوئی عمل دخل بھی نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ شریر جنات، شیطان کے چیلے ہوتے ہیں، اور شیطان کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا، پریشان کرنا، تکلیف پہنچانا ہوتا ہے اور شیطان کی یہ شریر جماعت مختلف انداز سے یہ کام کر رہی ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک طریقہ کسی جسم میں چاہے وہ انسان کا ہو یا بے جان چیز کا، اس پر مسلط ہوکر گمراہی پھیلانا یا انسانوں کو تکلیف پہنچانا ہوتا ہے۔
بعض اوقات جنّ، کسی انسانی جسم میں داخل ہوکر اسے تکلیف دیتا ہے جیسا کہ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، ”باب فضل من یصرع من الریح“ یعنی مرگی کے مریض کی فضیلت کے بیان میں ، جنات کے اثر اور انسانی بدن میں اس کے حلول سے متعلق علماء کے اقوال کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ بدرالدین عینی نےارشاد فرمایا: ’’وأنكر طائفة من المعتزلة كالجبائي وأبي بكر الرازي ومحمد بن زكرياء الطبيب وآخرون دخول الجن في بدن المصروع وأحالوا وجود روحين في جسد مع إقرارهم بوجود الجن وهذا خطأ وذكر أبو الحسن الأشعري في (مقالات أهل السنة والجماعة) أنهم يقولون إن الجن يدخل في بدن المصروع كما قال اللہ عز و جل: ﴿اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ﴾ (البقرة 275) وقال عبد اللہ بن أحمد بن حنبل قلت لأبي إن قوما يقولون إن الجن لا تدخل في بدن الإنس فقال يا بني يكذبون هو ذا يتكلم على لسانه وفي حديث أم أبان الذي رواه أبو داود وغيره قول رسول اللہ أخرج عدو اللہ وكذا في حديث أسامة بن زيد أخرج يا عدو اللہ فإني رسول اللہ وقال القاضي عبد الجبار أجسامهم كالهواء فلا يمتنع دخولهم في أبدان الإنس كما يدخل الريح‘‘ یعنی معتزلہ کےایک گروہ مثلاً جبائی، ابوبکر رازی، محمد بن زکریا اور دیگر حضرات نے جنّات کے، مرگی کے مریض کے جسم میں داخل ہونے کا انکار کیا اور ایک جسم میں دو روحوں کے وجود کو محال قرار دیا حالانکہ وہ جنّات کے وجود کا اقرار کرتے ہیں۔ لیکن نظریہ غلط ہے۔ ابو الحسن امام اشعری علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب " مقالات اہل السنۃ والجماعۃ " میں ذکر کیا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ جنات مرگی والے کے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں جیسا کہ اللہ عزوجل نے سورۃ بقرۃ کی آیت نمبر275 میں ارشاد فرمایا (ترجمۂ کنز الایمان: ”وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مَخبوط بنادیا“) اور عبد اللہ بن احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد احمد بن حنبل سے پوچھا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنّ، انسان کے بدن میں داخل نہیں ہوتا ۔ اس پر میرے والد نے ارشاد فرمایا اے میرے بیٹے وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جن انسان کی زبان پر کلام کرتا ہے اور امام ابان کی وہ حدیث جسے ابو داؤد وغیرہ نے روایت کیا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے: اے اللہ عزوجل کے دشمن نکل جا۔ اسی طرح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی ہے: ’نکل جا اے اللہ کے دشمن! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور قاضی عبد الجبار نے فرمایا: جنات کے جسم ہوا کی طرح ہیں، لہذا ان کا انسانی بدن میں داخل ہونا محال نہیں جیسا کہ ہوا، انسانی بدن کے اندر داخل ہوجاتی ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 14صفحہ 646، دار الفکر بیروت)
شارح بخاری فقیہ اعظم ہند، علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ ” نزہۃ القاری “ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’صرع کے معنی بے ہوش ہوکر گر پڑنے کے ہیں، یہ کبھی اخلاط کے فساد کے سبب ہوتا ہے جسے مرگی کہتے ہیں اور کبھی جن یا خبیث ہمزاد کے اثر سے ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ﴿یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ﴾ جسے چھو کر شیطان نے مخبوط بنادیا ہو۔ متعدد حدیثوں میں وارد ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مصروع کے سینے پر ہاتھ رکھ کر مارکر فرمایا ’’اخرج یا عدو اللہ، فانی رسول اللہ‘‘ (یعنی اے دشمنِ خدا! نکل جا کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔) تو اسے قئی آئی جس میں کوئی کالی چیز گری اور وہ شفا یاب ہوگیا۔“ (نزھۃ القاری، ج 5، ص 489، مطبوعہ فرید بک اسٹال، لاہور)
بعض اوقات جنّ، کسی بے جان چیز میں داخل ہوکر لوگوں کو گمراہ بھی کرتا ہے ، جیسا کہ جامع المعجزات میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں ایک ولید نامی بُت پرست تھا۔ اس نے مسلسل تین دن اپنے گھر میں رکھے ہوئے بُتوں کی پوجا کی اور پھر بُتوں سے کہنے لگا کہ میری بےلوث عبادت کا واسطہ مجھے بتاؤ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں یا نہیں ؟ ” فدخل الشیطان فی فم الصنم وتحرک الصنم وتکلم ، فقال ان محمدا لیس نبیا فلا تصدقوہ، ففرح الولید و خرج و أخبر الکفار عن مقالۃ الصنم“ یعنی شیطانی جنّ بت کے منہ میں داخل ہوا ، اور بُت حرکت میں آیا اور کلام کرنے لگا، چنانچہ اس نے بولا کہ محمد، نبی نہیں ہیں لہذا ان کی تصدیق مت کرنا۔ اس پر ولید بڑا خوش ہوا اور جاکر کفار مکہ کو بُت کی اس بات کے بارے میں خبردی۔ الخ پھر آخر کار ایک جنّ جو حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں مسلمان ہوا تھا اس نے اس کافر جنّ کو قتل کردیا۔ پھر اس قتل کی خبر اس جنّ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ اس پر خوش ہوئے۔ پھر اس مسلمان جن ّنے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کیا: ” أتاذن لی أ ن أشتم الکفار من جوف أصنامھم کما شتمک مسفر، فقال النبی علیہ السلام افعل“ یعنی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے اجازت دیں کہ میں کفار کے بُتوں کے منہ میں داخل ہوکر کفار کو بُرا بھلا کہوں جیسا کہ مسفر نامی جنّ نے آپ کو نازیبا کلمات بکے، حضور علیہ السلام نے اس کو اجازت عطا فرمادی۔۔۔۔ چنانچہ وہ کافروں کے بُت میں داخل ہوا اور کافروں کو برا بھلا کہا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان بیان کی۔ (تفصیلی واقعہ کے لئے جامع المعجزات، صفحہ 7-6، کا مطالعہ کریں)
امام اہلسنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃسے سوال ہوا کہ آسیب، چڑیل وغیرہ شہید وغیرہ جو مشہور ہیں صحیح ہے یاغلط؟
آپ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”ہاں جنّ اور ناپاک روحیں مرد و عورت احادیث سے ثابت ہیں ۔۔۔۔ وہ سخت جھوٹے کذاب ہوتے ہیں اپنا نام کبھی شہید بتاتے ہیں اور کبھی کچھ، اس وجہ سے جاہلان بےخرد (بےعقل جاہلوں) میں ”شہیدوں کا سر پر آنا“ مشہور ہوگیا، ورنہ شہداء کرام (اور اولیائے عظام) ایسی خبیث حرکات سے منزہ و مبرا ہیں۔“ (ملتقطا از فتاوی رضویہ، ج 21، ص 218-216، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ ایک سوال کے جواب میں لکھتےہیں: ”یہ سب مکر و فریب ہے۔ کوئی بزرگ کسی پر نہیں آتا، اس پر اعتماد کرنا، جائز نہیں۔ ہاں خبیث ہمزاد اور جنات آتے ہیں۔ “ (فتاویٰ شارح بخاری، جلد دوم، ص 148، مکتبہ برکات المدینۃ)
فتاوی بحر العلوم میں ہے: ”وفات یافتہ بزرگانِ دین اور اولیائے صالحین کا کسی آدمی پر سوار ہونا اور اس سے طرح طرح کی ناشائستہ حرکات کرانا شرعاً صحیح نہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خبیث جنّ اس طرح انسانوں کو قابو میں لے کرکے ان پر تصرف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم فلاں بزرگ ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود عورت ہی ایسا سوانگ (تماشا) رچاتی ہو۔ “ (فتاوی بحر العلوم، ج 05، ص 284، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)
(3) ایسے افراد جن پر "سواری" یا "حاضری" آنے کا دعویٰ کیا جاتا ہو، ان سے غیب کی باتیں اور مستقبل کا حال معلوم کرنے کی مختلف صورتیں ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
٭ اگر اس اعتقاد کے ساتھ پوچھا جائے کہ جو کچھ یہ بتائیں گے وہی حق اور یقینی طور پر درست ہے، تو یہ کفر ہے۔
٭ اگر اس پر کامل یقین تو نہ ہو، لیکن رغبت و میلان کے ساتھ پوچھاجائے، تو یہ حرام و گناہِ کبیرہ ہے۔ اور اس پر سخت وعید آئی ہے کہ ایسے شخص کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی۔
٭ اگر نہ یقین ہو نہ رغبت، بلکہ محض ہنسی مذاق یا استہزا کے طور پر سوال کیا جائے، تو بھی مکروہ عمل ہے ۔
٭ اگر بقصدِ تعجیز یعنی اس جھوٹے مدعی کو عاجز کرنا مقصود ہے تو پھر پوچھنا جائز ہے، لیکن یہ جواز صرف اسی شخص کے لئے ہے جس کا یقین حکم شریعت پر کامل طور پر مضبوط ہو، ورنہ اندیشہ ہے کہ اس کی کوئی بات اتفاقاً درست نکل آئے اور خود اس کا عقیدہ متزلزل ہوجائے۔
فتاوی افریقہ میں ہے: ”اور اگر غیب کی بات ان سے دریافت کرنی ہو جیسے بہت لوگ حاضرات کر کے موکلاں جن سے پوچھتے ہیں: فلاں مقدمہ میں کیا ہوگا؟ فلاں کام کا انجام کیا ہوگا؟ یہ حرام ہے اور کہانت کا شعبہ بلکہ اس سے بدتر۔۔۔۔۔۔ جن غیب سے نِرے (یعنی مکمل طورپر) جاہل ہیں، ان سے آئندہ کی بات پوچھنی عقلاً حماقت اور شرعاً حرام اور ان کی غیب دانی کا اعتقاد ہو تو کفر۔“ (ملتقطا از فتاوی افریقہ، ص 160، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”کاہنوں اور جوتشیوں (نجومیوں) سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا برا دریافت کرنا اگر بطور اعتقاد ہو یعنی جویہ بتائیں حق ہے تو کفر خالص ہے۔ اسی کو حدیث میں فرمایا: ”فقد کفر بما نزل علی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم“ (بے شک اس سے انکار کیا جو کچھ حضور علیہ الصلوٰ والسلام پر اتار اگیا) اور اگر بطور اعتقاد و تیقن نہ ہو مگر میل و رغبت کے ساتھ ہو تو گناہ کبیرہ ہے۔ اسی کو حدیث میں فرمایا: " لم یقبل ﷲ لہ صلٰوۃ اربعین صباحا " (اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ فرمائیگا)۔ اور اگر ہزل واستہزاء ہو تو عبث ومکروہ حماقت ہے ۔ ہاں اگر بقصد تعجیز ہو تو حرج نہیں ۔“ (فتاوی رضویہ، ج 21، ص 156-155، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وقار الفتاویٰ میں علامہ مفتی وقار الدین قادری رضوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”کسی مرد یا عورت پر کسی بزرگ کی سواری نہیں آتی، یہ دعویٰ، فریب ہے۔ صرف جنات کا اثر ہوتا ہے وہ بھی کسی کسی پر۔ مگر ان جنات سے سوال کرنا یا آئندہ کا حال معلوم کرنا، ناجائز ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ﴿فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ ﴾ ترجمہ: پھر جب سلیمان زمین پر آیا جنّوں کی حقیقت کُھل گئی اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے۔" ان سے سوال کرنا جو خود نہیں جانتے، عقل کے خلاف اور اس وعید میں داخل ہے جو حدیث میں بیان کی گئی کہ: ”عن بعض ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم من أتى عرافا فسأله عن شيء لم تقبل له صلاة أربعين ليلة“ (وقار الفتاویٰ، ج 01، ص 177، بزم وقار الدین، کراچی)
الغرض مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے نام نہاد عاملوں، پیروں اور " سواری " کا دعویٰ کرنے والوں کے پاس ہرگز نہ جائیں اور نہ ہی ان کی کسی بات کا اعتبار کریں کہ یہ دین و دنیا کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔
تنبیہ اول: یاد رہے کہ جنات کی تسخیر (یعنی ان کو اپنے قابو میں کرنا) اگر سفلی عمل (کالے جادو) سے ہو یا شیاطین سے استعانت (مدد طلب کرنا ہو) تو یہ بلاشبہ حرام ہے بلکہ کفریہ قول یا فعل پر مشتمل ہو تو کفر ہے۔ اگر عمل علوی (یعنی قرآن و حدیث کے کلمات وغیرہ) سے ہو اور کسی جائز مقصد کے لئے ہو تو جائز ہے۔ اگر یہ تسخیرِ جنات، عمل علوی سے ہو مگر کوئی ناپسندیدہ غرض ہو، مثلاً صرف ان سے رابطہ بڑھانے کے لئے ہو تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان ہو جاتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص جنّ کو قابو کر بھی لے تو کم سے کم اس کا نقصان یہ ہے کہ عامل، متکبر ہو جاتا ہے۔ پھر کافر شیطان کی صحبت سے انسان کے احوال میں تغیر ہو جاتا ہے یعنی عبادت میں خشوع و خضوع کم اور گناہوں کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے اور دل پر ظلمت اور اندھیرا چھا جاتا ہے۔
فتاوی افریقہ میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ”اقوال یونہی حاضرات اگر عمل علوی سے غرض جائز کیلئے ہو اور اس میں شیاطین سے استعانت نہ ہو جائز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں اگر سفلی عمل ہو یا شیاطین سے استعانت تو ضرور حرام ہے بلکہ قول یا فعل کفر پر مشتمل ہو تو کفر۔۔۔۔۔ اور غرض نامحمود یہ کہ مثلاً صرف ان سے ربط بڑھانے کے لیے ہو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔“ (ملتقطا از فتاوی افریقہ، ص 160-157، شبیربرادرز، لاھور)
جنات کی تسخیر کے بارے میں فتاویٰ رضویہ میں ہے: ”اس کی تسخیر (یعنی ہمزاد کو قابو میں کرنے کا عمل) جو سفلیات (جادو) سے ہو وہ تو حرام قطعی بلکہ اکثر صورتوں میں کفر ہے کہ بے اُن کے خوشامد اور مدائح و مرضیات کے نہیں ہوتی، اور جو علویات (قرآن و حدیث کے کلمات وغیرہ) سے ہو وہ اگر چہ بصولت (رعب، دبدبہ) وسطوت ہے مگر اُس کا ثمرہ غالباً اپنے کاموں میں شیطان سے ایک نوع استعانت سے خالی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ اور بالفرض نہ بھی ہو تو کافر شیطان کی مخالطت ضرور مورث تغیر احوال و حدوث ظلمت ، حضرت سیدنا شیخ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کم از کم وہ ضرر کہ صحبتِ جن سے ہوتا ہے یہ کہ آدمی متکبر ہوجاتا ہے والعیاذ باللہ تعالیٰ، تو راہِ سلامت اُس سے بُعد ومجانبت ہی میں ہے، رب عزوجل تو اس دعا کا حکم دے کہ ﴿اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ﴾ (”اے میرے پرودگار! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس حاضر ہوں“) اور یہاں یہ رٹ لگائی جائے کہ حاضر شو حاضر شو والعیا ذ باللہ تعالیٰ۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ (حاضر ہوجا، حاضر ہوجا، اور اللہ تعالیٰ کی پناہ، اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا عالم ہے ۔)“ (فتاوی رضویہ، ج 21، ص218-217، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں دوسرے مقام پر ہے: ”جنوں سے مکالمہ کی خواہش اور مصاحبت کی تمناّ اصلاً خیر نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 21، ص 606، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
تنبیہ دوم: البتہ اس باطل عقیدے کی نفی کے ساتھ یہ بات بھی واضح رہے کہ اہلسنت و جماعت کا یہ مسلم عقیدہ ہے کہ اللہ عزوجل نے انبیائے کرام اور اولیائے عظام کو عالم میں تصرف کرنے کی قدرت و طاقت عطا فرمائی ہے۔ اور یہ عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ نیز وہ وصال کے بعد بھی خواب میں یا بیداری میں، اللہ عزوجل کی دی ہوئی طاقت اور اذن سے روحانی طور پر مدد کرتے ہیں۔ مرد حضرات کی بھی مدد کرتے ہیں اور خواتین کی بھی۔ بغیر اس کے کہ وہ کسی جسم میں حلول کریں یا کسی پر سوار ہوں۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے معصیت سے بچنے کے معاملے میں اپنے شہزادے یوسف علیہ السلام کی مدد فرمائی۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ عزوجل نے یوسف علیہ السلام اور زلیخا کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖۚ-وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ﴾ ترجمہ: ”اور بےشک عورت نے یوسف کا ارادہ کیا اور اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا تو وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا۔“ (القرآن، سورۃ یوسف، پ 12، الآیۃ 24)
تفسیر خازن میں " برھان " کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”وأما تفسير البرهان على ما ذكره المفسرون في قوله تعالى ﴿لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ﴾ فقال قتادة وأكثر المفسرين: إن يوسف رأى صورة يعقوب عليه السلام وهو يقول له يا يوسف أتعمل عمل السفهاء وأنت مكتوب من الأنبياء۔ وقال الحسن وسعيد بن جبير ومجاهد وعكرمة والضحاك: انفرج له سقف البيت فرأى يعقوب عاضا على إصبعه“ یعنی اور رہا لفظ ”برہان“ کی تفسیر، جیسا کہ مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ﴾ کے تحت بیان کیا ہے، تو حضرت قتادہ اور اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی صورت دیکھی، جو ان سے فرما رہے تھے: اے یوسف! کیا تم نادانوں والا کام کرتے ہو، حالانکہ تمہارا نام اللہ تعالیٰ نے انبیاء میں لکھا ہوا ہے۔ اور حضرت حسن، سعید بن جبیر، مجاہد، عکرمہ اور ضحاک رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس گھر کی چھت کھل گئی، تو حضرت یوسف علیہ السلام نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھا، جو اپنی انگشتِ مبارک، دندانِ اقدس کے نیچے دبائے ہوئے تھے (اور برائی سے اجتناب کا اشارہ فرما رہے تھے)۔ (تفسیر الخازن، سورۃ یوسف، ج 02، ص 522، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
شرح العقائدالنسفیۃ میں ہے: ”(فتظهر الكرامة على طريق نقض العادة للوليّ من قطع المسافة البعيدة في المدّة القليلة) كإتيان صاحب سليمان عليه السلام وهو آصف بن برخيا على الأشهر بعرش بلقيس قبل ارتداد الطرف مع بعد المسافة۔۔۔۔۔ (واندفاع المتوجّه من البلاء و كفاية المهمّ عن الأعداء وغير ذلك من الأشياء) مثل رؤية عمر رضي اللہ عنہ وهو على المنبر في المدينة، جيشه بـ"نهاوند" حتى قال لأمير جيشه: "يا سارية الجبل الجبل" تحذيراً له من وراء الجبل لمكر العدوّ هناك، وسماع سارية كلامه مع بعد المسافة“
ترجمہ: پس ولی کے لیے خرقِ عادت کے طور پر کرامت ظاہر ہوتی ہے، جیسے بہت طویل فاصلے کو بہت کم مدت میں طے کرلینا، جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے درباری، جن کا نام مشہور قول کے مطابق آصف بن برخیا ہے، انہوں نے بلقیس کا تخت پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کردیا، حالانکہ فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ اور اسی طرح کسی آنے والی مصیبت کا ٹل جانا، دشمنوں کے مقابلے میں اَہم اور ضروری کاموں کے لئے کافی ہوجانا، اور اس کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں (کرامت کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں)۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ میں منبر پر جلوہ افروز ہونے کی حالت میں (دور دراز مقام) نہاوند میں اپنے لشکر کو دیکھنا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے لشکر کے امیر سے کہا: یا ساریۃُ الجبل الجبل (اے ساریہ! پہاڑ کی طرف ہو جاؤ)، دشمن کی اس چال سے خبردار کرتے ہوئے جو پہاڑ کے پیچھے تھی، اور ساریہ نے اتنی دوری کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سن لی۔ (ملتقطا از شرح العقائد النسفیۃ، ص320-318، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
تفسیر کبیر میں سورہ کہف کی تفسیر میں امام فخر الدین رازی علیہ رحمۃ اللہ الہادی لکھتے ہیں: ”كذلك العبد إذا واظب على الطاعات بلغ إلى المقام الذي يقول اللہ كنت له سمعا وبصرا فإذا صار نور جلال اللہ سمعا له سمع القريب والبعيد وإذا صار ذلك النور بصرا له رأى القريب والبعيد وإذا صار ذلك النور يدا له قدر على التصرف في الصعب والسهل والبعيد والقريب “ یعنی ایسے ہی جب کوئی بندہ نیکیوں پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے تو اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا " میں اس کے سمع و بصر ہو گیا " ، پس جب اللہ کے جلال کا نور بندے کے لیے سمع ہو جاتا ہے تو وہ نزدیک کی آواز بھی سن لیتا ہے اور دور کی بھی۔ اور جب یہی نور اس کی بصر ہو گیا تو وہ دور و نزدیک کی چیزوں کو دیکھ لیتا ہے۔ اور جب یہی نورِ جلال اس کا ہاتھ ہو گیا تو مشکل اور آسان چیزوں، نیز دور اور قریب بھی تصرف کرنے پر قادر ہو جاتا ہے۔ (التفسیر الکبیر، سورۃالکھف، ج 07، ص 436، مطبوعہ، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے: ” اولیاء کی کرامتیں اولیاء کے تصرف بعد وصال بھی بدستور ہیں۔ قول (۸۴) امام نووی نے اقسام زیارت میں فرمایا: ایک زیارت بغرض حصول برکت ہوتی ہے، یہ مزارات اولیاء کے لیے سنت ہے اور ان کے لیے برزخ میں تصرفات و برکات بے شمار ہیں ۔۔۔۔ قول (۸۵ و ۸۶): اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرمایا: تفسیر کردہ است بیضاوی آیہ کریمہ والنازعات غرقاً الآیۃ رابصفات نفوس فاضلہ درحال مفارقت از بدن کہ کشیدہ می شوند از ابدان و نشاط میکنند بسوئے عالم ملکوت و سیاحت میکنند دران پس سبقت میکنند بحظائر قدس پس می گردند بشرف و قوت از مد برا ترجمہ: (قاضی بیضاوی نے آیۃ کریمہ والنازعات غرقاً الخ کی تفسیر میں بتایا ہے کہ یہاں بدن سے جدائی کے وقت ارواح طیبہ کی جو صفات ہوتی ہیں ان کا بیان ہے کہ وہ بدنوں سے نکالی جاتی ہیں اور عالم ملکوت کی طرف تیزی سے جاتی اور وہاں سیر کرتی ہیں پھر مقامات مقدس کی طرف سبقت کرتی ہیں اور قوت وشرف کے باعث مدبرات امر یعنی نظام عالم کی تدبیر کرنیوالوں سے ہوجاتی ہیں۔) قول (۸۷): علامہ نابلسی قدس سرہ، نے حدیقہ ندیہ میں فر مایا: کرامات الاولیاء باقیۃ بعد موتھم ایضا ومن زعم خلاف ذلک فھو جاھل متعصب ولنا رسالۃ فی خصوص اثبات الکرامۃ بعد موت الولی ملخصاً۔ (اولیاء کی کرامتیں بعدِ ا نتقال بھی باقی ہیں جو اس کے خلاف زعم کرے وہ جاہل ہٹ دھرم ہے ہم نے ایک رسالہ خاص اسی امر کے ثبوت میں لکھا ہے اھ ملخصاً) قول (۸۸ و ۸۹): شیخ مشائخنا رئیس المدرسین بالبلد الامین مولٰنا جمال بن عبد اللہ بن عمر مکی رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں: قال العلامۃ الغنیمی وھو خاتمۃ محققی الحنفیۃ اذا کان مرجع الکرامات الٰی قدرۃ ﷲ تعالٰی کما تقرر فلا فرق بین حیاتھم ومماتھم (الٰی ان قال) قد اتفقت کلمات علماء الاسلام قاطبۃً علٰی ان معجزات نبینا صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تحصر لان منھا ما اجرہ ﷲ تعالٰی ویجریہ لاولیائہ من الکرامات احیاءً وامواتاً الٰی یوم القیٰمۃ (علاّمہ غنیمی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہ محققین حنفیہ کے خاتم ہیں، فرمایا: جب ثابت ہوچکا کہ مرجع کرامات قدرت الہٰی کی طرف ہے، تو اولیاء کی حیات و وفات میں کچھ فرق نہیں، تمام علمائے اسلام ایک زبان فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزے محدود نہیں کہ حضور ہی کے معجزات سے ہیں وہ سب کرامتیں جو اللہ تعالیٰ نے اولیائے کرام سے ان کی حیات اور بعد وصال جاری کیں اور قیامت تک ان سے جاری فرمائے گا) قول (۹۰): اس میں امام شیخ الاسلام شہاب رملی سے منقول ہوا: معجزات الانبیاء وکرامات الاولیاء لاتنقطع بموتھم ) ابنیاء کے معجزے اور اولیاء کی کرامتیں ان کے انتقال سے منقطع نہیں ہوتیں۔ (قول (۹۱و ۹۲): امام ابن الحاج مدخل میں، امام ابو عبداللہ بن نعمان کی کتاب مستطاب سفینۃ النجاء لاہل الالتجاء فی کرامات الشیخ ابی النجاء سے ناقل: تحقق لذ وی البصائر والاعتبار ان زیارۃ قبور الصالحین محبوبۃ لاجل التبرک مع الاعتبار فان برکۃ الصالحین جاریۃ بعد مماتھم کما کانت فی حیاتھم ) اہل بصیرت و اعتبار کے نزدیک محقق ہوچکا ہے کہ قبور صالحین کی زیارت بغرض تحصیل برکت و عبرت محبوب ہے کہ ان کی برکتیں جیسے زندگی میں جاری تھیں بعد وصال بھی جاری ہیں۔ (قول (۹۳): جامع البرکات میں ارشاد فرمایا: ”اولیاء را کرامات و تصرفات در اکوان حاصل است و آن نیست مگر ارواحِ ایشاں راچون ارواح باقی است بعد از ممات نیزیاشد“ ترجمہ: (اولیاء کو کائنات میں کرامات و تصرفات کی قوت حاصل ہے اور یہ قوت ان کی روحوں کو ہی ملتی ہے تو روحیں جب بعد وفات بھی باقی رہتی ہیں تو یہ قوت بھی باقی رہتی ہے۔) قول (۹۴): کشف الغطاء میں ہے: ارواح کمل کہ درحینِ حیات ایشاں بہ سبب قرب مکانت و منزلت از رب العزت کرامات وتصرفات وامداد داشتند بعد از ممات چوں بہماں قرب باقیند نیز تصرفات دارند چنانچہ درحین تعلق بجسد داشتند یا بیشتر ازاں (کاملین کی روحیں ان کی زندگی میں رب العزت سے قرب مرتبت کے باعث کرامات و تصرفات اور حاجتمنددوں کی امداد فرمایا کرتی تھیں بعد وفات جب وہ ارواح شریفہ اسی قرب و اعزاز کے ساتھ باقی ہیں تو اب بھی ان کے تصرفات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے جسم سے دنیاوی تعلق کے تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ “ (فتاویٰ رضویہ، ج 09، ص768-766، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو عادل محمد بلال عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتوی نمبر: FMD-3234
تاریخ اجراء: 28 جمادی الاخریٰ 1447ھ/20 دسمبر 2025ء