logo logo
AI Search

کفریہ کلمہ بے دھیانی میں نکلنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کفریہ کلمہ بے دھیانی میں منہ سے نکل گیا، تو کیا حکم ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی کو پتہ ہو کہ یہ کفریہ کلمہ ہے اور بے دھیانی میں منہ سے نکل جائے، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ اور کسی ڈرامے میں کفریہ کلمہ سننے سے بھی کافر ہوجاتے ہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کی زبان سے واقعی غلطی سے کلمۂ کفر نکل جائے یعنی کہنا کچھ چاہتا تھا لیکن زبان سے ایسی بات یا لفظ نکل گیا جو کفر ہے اور وہ اس کلام سے نفرت و بیزاری کا اظہار بھی کرے کہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے تو ایسا شخص کافر تو نہیں ہوگا لیکن اسے اس سے توبہ و استغفار کرنے کا حکم دیا جائے گا اور اسے چاہیےکہ آئندہ زبان کی حفاظت کرے۔

باقی رہا فلموں، ڈراموں میں بولے جانے والے کفریہ الفاظ، جملوں کا حکم، تو برضا و رغبت اس کے بولنے، سننے والے پر توبہ و تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح کرنا شرعاً لازم ہوگا، نیز فلمیں، ڈارمے دیکھنے سے بھی سچی توبہ کرنا اور آئندہ اس کو دیکھنے، سننے سے بچنا بہرحال ہر ایک پر لازم ہے چاہے اس میں کفریہ الفاظ، جملے بولے جاتے ہوں یا نہیں، کہ مروجہ ڈرامے دیکھنا، ناجائز و گناہ ہے کیونکہ عموماً یہ ڈرامے کئی گناہوں مثلاً نامحرم عورتوں کا بے پردہ ہونا، میوزک، اجنبی مردو عورت کا اختلاط، فحاشی و عریانی وغیرہ گناہوں سے بھرپور مناظر اور غیر محرم مردو عورت کی محبت وعشق کے واہیات قصوں جیسے موذی ومہلک مواد وغیرہ کا مجموعہ ہوتے ہیں۔

میوزک شرعاً ناجائز وَ حرام اور سخت گناہ کا کام ہے۔ چنانچہ سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’لیکونن فی امتی اقوام یستحلون الحر و الحریر و الخمر و المعازف‘‘ یعنی ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو عورتوں کی شرمگاہ (زنا) اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور ڈھول باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے۔ (العیاذ باللہ) (صحیح بخاری، الحدیث: 5590، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اجنبی عورتوں کو دیکھنا، ناجائز اور سخت گناہ ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے: ”ان اللہ کتب علی ابن آدم حظہ من الزنا، فزنا العین النظر و الزنا اللسان المنطق . . . . الخ“ ترجمہ: بیشک اللہ پاک نے انسانوں پر زنا سے بچنا لازم کردیا ہے، پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے . . .، الخ۔ ( ملخصاً) ( سننِ ابی داود، الحدیث: 2152، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)

شعب الایمان میں ہے: ”عن ابن مسعود: ۔ ۔ ۔ زنا العين النظر، و زنا الشفتين التقبيل، و زنا اليدين البطش، و زنا الرجلين المشی“ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےکہ آنکھ کا زنا بدنگاہی ہے اور ہونٹوں کا زنا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا (گناہ کی طرف) چلناہے۔ (ملخصاً) (شعب الایمان، رقم الاثر 6659)

غلطی سے کلمہ ٔکفر زبان سے نکل جانے کے متعلق رد المحتار میں ہے: ”و ما كان خطأ من الألفاظ و لا يوجب الكفر فقائله يقر على حاله، و لا يؤمر بتجديد النكاح و لكن يؤمر بالاستغفار و الرجوع عن ذلك“ یعنی وہ الفاظ کفر جو غلطی سے نکلیں وہ موجب کفر نہیں تو ان کا قائل اپنے حال پر برقرار رہےگا اور تجدید نکاح کا حکم نہیں دیا جائےگا البتہ استغفار اور اس سے رجوع کا حکم ضرور دیا جائےگا۔ (رد المحتار، ج 04، ص 247، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ”کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کوبھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پچ کی تو اب کا فر ہو گیا کہ کفر کی تائید کر تا ہے۔“ (بہار شریعت، ج 02، حصہ 09، ص 426، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2439
تاریخ اجراء: 02 ربیع الاول 1447ھ / 27 اگست 2025ء