وَ لَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ کا صحیح مفہوم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ﴿وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ﴾ تو ان کے لیے علم غیب ماننا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب کا علم رکھتے ہیں، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ میں غیب نہیں جانتا، جیسا کہ بعض قرآنی آیات میں واضح طور پر مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنی ذات سے علم غیب کی نفی فرمائی اور فرمایا کہ میں غیب نہیں جانتا۔ قرآنِ پاک میں ہے: ﴿قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ﴾ (سورۃ الانعام، آیت 50) ﴿وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ﴾ (الاعراف، 188) اگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو غیب معلوم ہوتا، تو آپ یہ کیوں فرماتے؟ برائے مہربانی جواب ارشاد فرمائیں کہ کیا اہلسنت کا عقیدہ ان آیات کے خلاف ہے؟
جواب
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و مقرب بندوں، بالخصوص انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام کو بے شمار غیوب کا علم عطا فرمایا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ حصہ سب سے افضل ہستی، جناب خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا گیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسے بے شمار علوم عطا فرمائے گئے، جن کی حقیقی وسعت کو صرف آپ کا رب عزوجل ہی جانتا ہے۔
انبیائے کرام علیہم السلام، بالخصوص حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علمِ غیب کے ثبوت پر قرآنِ مجید میں متعدد صریح و واضح آیاتِ مبارکہ موجود ہیں، جن کا انکار کوئی مسلمان نہیں کرسکتا۔ تاہم اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی باتوں کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے، جن سے بہت سے اشکالات خود بخود دور ہوجاتے ہیں:
(1) انبیائے کرام علیہم السلام کا علم، خواہ دیگر انبیاء کا ہو یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا، سب کا سب عطائی (اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ) اور غیر محیط ہے۔ اپنی وسعت کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر نہیں ہوسکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی، محیط اور قدیم ہے۔
(2) حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی علوم یکبارگی نہیں بلکہ بتدریج عطا ہوئے اور نزولِ قرآن کے ساتھ ساتھ آپ کے علم میں اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ نزولِ قرآن کی تکمیل کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے علم ماکان و ما یکون کی بھی تکمیل ہوگئی، البتہ یہ یاد رکھیں کہ جو تھوڑا تھوڑا کرکے علم عطا کیا گیا وہ ایک ایک مرتبہ کا تھوڑا تھوڑا علم بھی ہماری عقل و فہم سے وراء ہے۔
(3) سیرتِ نبویہ سے واضح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں کمال درجے کی عاجزی و انکسار کے پیکر تھے۔ مقربینِ بارگاہِ الٰہی تواضع اور بندگی کے اظہار کے لیے بعض اوقات اپنی ذات سے بعض اوصاف کی نفی فرماتے ہیں۔ لہٰذا ایسی عبارات کو ان کے ظاہری معنی پر لے کر کسی فاسد نظریے کی دلیل بنانا درست نہیں، کیونکہ تواضع کے طور پر کیے گئے کلام میں حقیقی معنیٰ کی نفی مقصود نہیں ہوتی۔
(4) بعض آیات میں در حقیقت دعوئ علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے، نہ کہ علمِ غیب کی۔ لیکن بعض لوگ کم فہمی کی وجہ سے دعویٰ کی نفی کو علم کی نفی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ دعویٰ کی نفی، علم کی نفی کو لازم نہیں۔ یعنی یہ کہا گیا ہوتا ہے کہ میں علم غیب کے دعوے نہیں کرتا، یہ مراد نہیں کہ مجھے علم غیب ہی حاصل نہیں۔
(5) قرآنِ مجید کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کفار و مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر بلاوجہ اور محض ہٹ دھرمی پر مبنی سوالات کیا کرتے تھے۔ ایسے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ذات سے علمِ غیب کی نفی فرمانا دراصل ایک حکیمانہ اسلوب تھا، جس کا ایک اہم مقصد سدِّ باب کرنا بھی تھا، تاکہ ان کے بے جا اور لاحاصل سوالات کا سلسلہ رک جائے۔ لہٰذا اس نفی سے حقیقی طور پر علمِ غیب کی نفی مقصود نہیں ، بلکہ یہ ایک اسلوبِ تعلیم و تربیت اور مصلحتِ دعوت کے تحت اختیار فرمایا گیا طرزِ بیان ہے۔
اس تمہیدی گفتگو کے بعد اصل مسئلہ کی طرف آتے ہیں:
بلاشبہ قرآنِ مجید میں جہاں ایک طرف حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے علمِ غیب عطائی کے ثبوت میں واضح دلائل موجود ہیں، وہیں بعض مقامات پر آپ علیہ و الصلوٰۃ و السلام کی طرف سے اپنی ذات سے علمِ غیب کی نفی بھی مذکور ہے، جیسا کہ سوال میں بیان کردہ آیات۔
بعض لوگ ان آیات کو بنیاد بنا کر اولیاء و انبیاء کے علمِ غیب پر اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ اگر ان آیات کو محض ظاہری معنی پر رکھا جائے، تو اس سے ایک بڑی اصولی خرابی پیدا ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ علم غیب عطائی کے ثبوت سے متعلق قرآنِ مجید کی دیگر آیات کے ساتھ شدید تعارض محسوس ہوتا ہے ،جبکہ یہ ایک مسلم اصول ہے کہ قرآنِ مجید میں حقیقی تضاد ممکن نہیں، لہٰذا ایسی تاویل، باطل اور ناقابلِ قبول ہوگی۔ پھر ظاہری معنی مراد لینے کی صورت میں یہ آیات بالکلیہ علمِ غیب کی نفی پر دلالت کرتی ہیں، جبکہ خود منکرین بھی بعض امورِ غیبیہ کا علم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح یہ آیات ان کے اپنے مؤقف کے بھی خلاف ہوجاتی ہیں۔
لہٰذا ذکر کردہ تمہیدی کلام کی روشنی میں ان آیات کی درست توجیہات درج ذیل ہیں:
(1) ان آیات میں علمِ غیب ذاتی کی نفی مراد ہے۔
(2) لامتناہی علم کی نفی مراد ہے۔
(3) فی الحال علم نہ ہونے کی نفی ہے، آئندہ کے لیے نفی لازم نہیں۔
(4) یہ کلام عاجزی و انکسار یا کفار کے اعتراضات کے سدِّ باب کے طور پر ہے۔
(5) ان آیات میں خطاب کفار سے تھا، جو ان حقائق کے اہل نہ تھے، اس لیے وہاں صرف دعویٰ کی نفی فرمائی گئی۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آیاتِ نفی کو ان کے سیاق و سباق اور اصولی قواعد کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ انہیں علمِ غیب عطائی کی نفی پر محمول کرنا درست نہیں، بلکہ ایسا کرنے سے قرآنی آیات میں تعارض لازم آتا ہے، جو کہ محال ہے۔
انبیائے کرام بالخصوص نبی کریم علیہ و علیہم الصلوٰۃ والسلام کے علم غیب عطائی کے ثبوت میں آیات طیبہ:
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور (اے عام لوگو!)اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اللہ اپنے رسولوں کو مُنتخب فرمالیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے۔ (سورۃ آل عمران، آیت179)
ایک اور مقام پر ہے: ﴿عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًا (26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو اطلاع نہیں دیتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (سورۃ الجن، آیت 26، 27)
سورہ یوسف میں ارشاد ہے: ﴿ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔ (سورۃ یوسف، آیت 102)
سورہ ہود میں یوں ہے ﴿تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔ (سورۃ ھود، آیت 49)
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ- وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ (سورۃ النساء، آیت 113) سورۃ التکویر میں ارشاد ہے: ﴿وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ﴾ ترجمہ ٔکنز العرفان: اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (سورۃ التکویر، آیت: 24)
سورۃ الرحمٰن میں ہے: ﴿اَلرَّحْمٰنُۙ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ (2) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ (3) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(4)﴾ ترجمہ ٔکنز العرفان: ”رحمٰن نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا، اسے بیان سکھایا۔“ (سورۃ الرحمٰن، آیت 1 تا 4)
صراط الجنان میں خازن و مدارک کے حوالے سے ہے: ایک قول یہ ہے کہ یہاں انسان سے مراد دو عالَم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں اور بیان سے ’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘ یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہوگا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَوّلین و آخرین اور قیامت کے دن کی خبریں دیتے تھے۔ (صراط الجنان، ج 09، ص 627، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
توجیہات کے دلائل و جزئیات:
توجیہ اول کے متعلق، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت، مولانا شاہ احمد رضا خان متوفی 1340ھ علم غیب سے متعلق اپنی عظیم کتاب انباء الحی میں لکھتے ہیں: منھا: نفی علم الغیب بنفسہ بدون اعلام اللہ تعالیٰ. قال العلامۃ النیسابوری: أی قل لا اعلم الغیب فیکون فیہ دلالۃ علی أن الغیب بالاستقلال لا یعلمہ الا اللہ تعالیٰ و ھو معنی قول البیضاوی: لا اعلم الغیب ما لم یوح الی و لم ینصب علیہ دلیل و فی اللباب: المعنی:لا اعلم الغیب الا أن یطلعنی اللہ تعالی علیہ و مثلہ فی الفتوحات الالھیۃ“ ترجمہ: ان توجیہات میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں اللہ کے بغیر بتائے خود غیب جاننے کی نفی مراد ہے۔ علامہ نیشاپوری نے فرمایا: یعنی آپ کہہ دیجئے کہ میں غیب نہیں جانتا، تو اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ غیب کو مستقل طور پر (اپنی ذات سے) اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہی امام بیضاوی کے قول کا معنی ہے: میں غیب نہیں جانتا، جب تک کہ میری طرف وحی نہ کی جائے اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل قائم کی جائے۔ اور لباب التأویل میں ہے: معنی یہ ہے کہ میں غیب نہیں جانتا، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس پر مطلع فرما دے اور اسی کے مثل الفتوحات الالہیہ میں بھی مذکور ہے۔ (انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیئ، ج 02، ص 20، مطبوعہ داراہل سنت کراچی)
صراط الجنان میں ہے: اس آیت سے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم عطائی کی نفی کسی طرح مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ اس صورت میں آیتوں میں تعارض کا قائل ہونا پڑے گا اور وہ بالکل باطل ہے۔ (صراط الجنان، ج 03، ص 112، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی مصری متوفی 1069ھ نسیم الریاض شرح شفا للقاضی عیاض میں لکھتے ہیں: قولہ و لو کنت أعلم الغیب لاستکثرت من الخیر فان المنفی علمہ من غیرواسطۃ و أمّا اطلاعہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ و سلم علیہ با علام اللہ تعالٰی لہ فأمرمتحقق بقولہ تعالٰی فلایظھر علٰی غیبہ احداً الّا من ارتضٰی من رسول“ ترجمہ: نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کویہ کہنے کا حکم ہوا کہ میں غیب جانتا تو اپنے لیے بہت خیر جمع کرلیتا، تو اس میں نفی اس علم کی ہے جو بغیر خدا کے بتائے ہو اور اللہ تعالیٰ کے بتائے سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو علم غیب ملنا تو قرآن عظیم سے ثابت ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: اللہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوا اپنے پسندیدہ رسول کے۔ (نسیم الریاض، ج 04، ص 149، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
توجیہ ثانی کے متعلق، امام المفسرین سیدنا فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606ھ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں: و قوله: و لا أعلم الغيب يدل على اعترافه بأنه غير عالم بكل المعلومات“ ترجمہ: اور یہ فرمان کہ میں غیب نہیں جانتا، اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ تمام معلومات (ہر چیز) کے جاننے والے نہیں ہیں۔ (التفسیر الکبیر، ج 02، ص 436، دار إحياء التراث العربي – بيروت)
علامہ سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی 816ھ شرح مواقف میں لکھتے ہیں: الاطلاع علی جمیع المغیبات لا یجب للنبی اتفاقا و لھذا قال سید الانبیاء و لو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر و ما مسنی السوء“ ترجمہ: تمام غیب کی چیزوں پر مطلع ہونا نبی کے لیے بالاتفاق واجب نہیں ہے، اسی لیے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ (شرح المواقف، ج 08، ص 243، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
توجیہ ثالث کے متعلق، امام برہان الدین ابراہیم بن شیخ محمد باجوری متوفی 1276ھ تحفۃ المرید علی جوھرۃ التوحید میں لکھتے ہیں: لم یخرج النبی من الدنیا حتی أطلعہ اللہ تعالیٰ علی جمیع ما أبھمہ عنہ من الروح و غیرہ مما یمکن علم البشر بہ و ما خالف ذالک نحو و لا اعلم الغیب محمول علی أنہ کان قبل أن یکشف لہ عن ذالک“ ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت تک تشریف نہیں لے گئے جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر اس چیز پر مطلع نہ فرما دیا جو آپ سے مخفی رکھی گئی تھی، جیسے روح وغیرہ کے وہ امور جن کا علم انسان کے لیے ممکن ہے۔ اور اس کے خلاف جو (ارشاد) ہے، جیسے میں غیب نہیں جانتا، اسے اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ یہ اس وقت کا فرمان ہے جب ابھی ان امور کا انکشاف آپ پر نہیں کیا گیا تھا۔ (تحفۃ المرید علی جوھرۃ التوحید، ص 268، دار السلام)
صراط الجنان میں ہے: اس آیت ﴿وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ﴾ میں فی الحال غیب جاننے کی نفی ہے مستقبل میں نہ جاننے پر دلیل نہیں ہے۔ (صراط الجنان، ج 03، ص 493، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
توجیہ رابع کے متعلق انباء الحی میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: منھا ماقال الخازن فی لباب التاویل انما نفی عن نفسہ الشریفۃ ھذہ الاشیاء تواضعا للہ تعالیٰ و اعترافا لہ بالعبودیۃ و أن لا یقترحوا علیہ بالآیات العظام اه قلت أی سدا لھذا الباب“ ترجمہ: ان میں سے ایک توجیہ وہ ہے جو علامہ خازن نے لباب التأویل میں کہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور کی نفی اپنی ذاتِ شریفہ سے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتے ہوئے، اپنی بندگی کا اعتراف کرتے ہوئے کی، اور اس لیے بھی کہ لوگ آپ سے بڑے بڑے معجزات کا مطالبہ نہ کریں۔میں کہتا ہوں: یعنی اس دروازے کو بند کرنے کے لیے۔ (انباء الحی، ج 02، ص 23، ص مطبوعہ دار اہل سنت کراچی)
توجیہ خامس کے متعلق، صدر الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی متوفی 1367ھ الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ میں لکھتے ہیں: آیت میں علم غیب کی نفی ہی کب ہے؟ نفی ہے تو قول و دعوی کی۔ یہی تو فرمایا کہ اے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرمادیجئے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا اور دعوی نہیں کرتا کہ میرے پاس خزائن الٰہیہ ہیں اور میں غیب کا عالم ہوں۔ دعوے کی نفی علم کی نفی کو کب مستلزم ہے ؟میں دعوی نہیں کرتا کہ میں غیب کا عالم ہوں، اس کے معنی یہ کس طرح ہوسکتے ہیں کہ مجھے غیب کا علم نہیں، بلکہ مطلقا دعوے کی نفی بھی نہیں ہے جس کی طرف لکم مشیر ہے۔ خطاب کفار و مشرکین سے ہے تو مطلب آیت کا یہ ہوا کہ فرمادیجئے اے حبیب مکرم علیہ الصلوۃ و السلام ان کفار و مشرکین سے کہ میں تم سے یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرے پاس خزائن الٰہیہ ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور فی الواقع یہ کفار و مشرکین ناا ہل کب اس قابل ہیں کہ ان کے سامنے ایسے دعوے کئے جائیں۔ ۔ عدم دعوے سے عدم علم پر استدلال کرنا انتہائی جہالت ہے۔ (الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ، ص 151 تا 154،و الضحیٰ پبلی کیشنز)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0738
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1447ھ / 13 اپریل 2026ء