کیا نبی کریم ﷺ ہماری طرح بشر ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم ہماری طرح بشر ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾ یعنی: آپ فرما دیجیے کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں سوال یہ ہے کہ جب قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس اعلان کا حکم دیا ہے،تو پھر ہم ان کو اپنے جیسا بشر کیوں نہیں کہہ سکتے؟ تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: عبد اللہ (فیصل آباد)
جواب
اوّلاً یہ سمجھ لیجیے کہ اپنے ظاہری و جود و صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا شبہ بشر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت کا مطلقاً انکار کرنا، کفر ہے کہ آپ کی بشریت قرآنِ مجید کی نصِ قطعی سے ثابت ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: جو مطلقاً حضور سے بشریت کی نفی کرے ، وہ کافر ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 14، صفحہ 358، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مگر سرکارِدو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جیسا بشر کہنا جائز نہیں، کیونکہ یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر بھی ہیں، لیکن آپ کی بشریت عام انسانوں کی طرح نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بے مثل، خیر البشر، سید البشر اور افضل البشر ہیں، ہمیشہ سے پوری امت کا یہی موقف رہا ہے، لہٰذا آپ کی بشریت کو عام انسانوں کی طرح قرار دینا ایمان والوں کا شیوہ نہیں، قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر اسے کافروں کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے نبی کو اپنے جیسا بشر سمجھتے تھے۔(تفصیل ذیل میں بیان کی جائے گی)۔
جہاں تک قرآنِ کریم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت کے تذکرے کا معاملہ ہے، تو قرآنِ کریم کی کل انیس (19) آیات ہیں،جن میں انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی بشریت کا بیان ہوا، ان میں سے پندرہ (15) آیات وہ ہیں جن میں کفار ومشرکین نے انبیائے کرام علیہم السلام کو اپنے جیسا بشر کہا ہے اور قرآن پاک نے ان کے اقوال کو محض حکایت کے طور پر بیان کیا ہے، جبکہ چار (4) آیات میں انبیائے کرام علیہم السلام کے خود اپنے آپ کو بشر کہنے کو بیان کیا گیا ہے، اولاً پندرہ آیات بالترتیب ملاحظہ کیجیے:
(1): ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ﴾ (سورۃ الأنعام:91)
:(2) ﴿فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِۚ- وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ﴾ (سورۃ هود: 27)
:(3) ﴿قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ﴾ (سورۃ إبراهيم: 10)
(4): ﴿قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصٰلٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ﴾ (یہاں شیطان کا قول حکایت کیا گیا ہے۔) (سورۃ الحجر: 33)
:(5) ﴿وَ اَسَرُّوا النَّجْوَىﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاﳓ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۚ-﴾ (سورۃ الأنبياء: 3)
(6): ﴿فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ- یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْؕ-﴾ (سورۃ المؤمنون: 24)
(7،8): ﴿وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۙ- مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ- یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَﭪ (33) وَ لَىٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ﴾ (سورۃ المؤمنون: 33، 34)
:(9) ﴿فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا﴾ ( سورۃ المؤمنون: 47)
(10): ﴿قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ (185) وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴾ (سورۃ الشعراء: 153، 154)
:(11) ﴿وَمَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ﴾ (سورۃ الشعراء: 186)
(12): ﴿قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَکْذِبُوْنَ﴾ (سورۃ يس: 15)
(13): ﴿کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ﴾ (سورۃ القمر: 23، 24)
:(14) ﴿فَقَالُوْۤا اَ بَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا﴾ (سورۃ التغابن: 6)
:(15) ﴿فَقَالَ اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُ اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ﴾ (سورۃ المدثر: 24، 25)
ان آیات سے یہ بات واضح ہوئی کہ انبیائے کرام علیہم السلام کو اپنے جیسا بشرِ سمجھنا اور کہنا کفار و مشرکین کی عادت تھی کہ وہ انبیائے کرام علیہم السلام کو کسی امتیازی وصف کے بغیر محض اپنے جیسا بشر کہتے تھے، نیز آیات کے سیاق وسباق سے صاف ظاہر ہے کہ بار بار بشر، بشر کی تکرار سے کفار کا مقصود نبی کی تحقیر یا ان کا عجز بیان کرنا ہوتا تھا، جیسا کہ ﴿اَبَشَرٌ یَّہْدُوْنَنَا﴾ کیا یہ بشر ہمیں ہدایت دے گا ؟، ﴿اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ﴾ کیا ہم اس بشر کی پیروی کریں؟ وغیرہ کلمات سے ظاہر ہے، بلکہ کوئی وصف یا قید لگا کر امتیاز بیان کرنا، تو دور کی بات ہے، وہ مثلیت یعنی اپنے جیسا ہونے کا دعوی کیا کرتے تھے اور یہی عادتِ بد ہمارے دور کے بھی کچھ کلمہ گو لوگوں میں نظر آتی ہے کہ وہ مسلمان کہلانے کے باوجودنبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات، فضائل اور امتیازی خصوصیات کا پرچار کرنے کی بجائے رات، دن آپ کو اپنے جیسا بشر ثابت کرنے پر تلے ہیں، العیاذ باللّٰہ۔
اب وہ چار آیات ملاحظہ کیجیے جن میں انبیائے کرام علیہم السلام نے خود اپنی بشریت کو بیان کیا، یہاں کفار کی روش کے برخلاف قرآنِ کریم کا اسلوب دیکھئے اور فرق سمجھیے کہ کفار کے اپنے جیسا بشر کہنے اور انبیائے کرام علیہم السلام کے خود اپنی بشریت بیان کرنے میں کتنا فرق ہے، چنانچہ وہ آیات درج ذیل ہیں:
(1): ﴿قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ﴾ (سورۃ إبراهيم:11)
:(2) ﴿قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا﴾ (سورۃ الاسراء: 93)
:(3) ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ﴾ (سورۃ الكهف: 110)
(4): ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ﴾ (سورۃ فصلت: 6)
پہلی آیت میں رسلِ عظام نے ﴿بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ سے اپنی بشریت بیان کرنے کے فوراً بعد کلمہ ﴿وَ لٰکِنَّ﴾ سے اس وہم کا استدراک کیا ہے جو اس زمانے کےبیمار دلوں میں رچ بس گیا تھا کہ انبیاء تو فقط ہماری طرح بشر ہیں، وبس۔ رسلِ عظام نے اس وہم کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ خلقت کے لحاظ سے بشر تو ہیں ، لیکن اللہ کریم نے ہمیں اپنے خاص بندوں میں داخل فرما کر امتیازی شانیں عطا فرمائی ہیں۔
دوسری آیت میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ﴿بَشَرٌ﴾ کے فوراً بعد ﴿رَّسُوْلًا﴾ کے اضافے سے گمراہ گروں کا رستہ بند کر دیا کہ میں بشر تو ہوں ،لیکن تمہاری طرح محض بشرنہیں، بلکہ اللہ کا خاص رسول بھی ہوں۔
تیسری اور چوتھی آیت میں ﴿یُوْحٰۤى اِلَیَّ﴾ کے وصفِ خاص اور قید سے اپنی طرح بشر ہونے کا دعوی کرنے والوں کو آئینہ دکھا کر قیامت تک کے لئے نبی اور غیرِ نبی کی بشریت کا فرق واضح کر دیا گیا۔
مذکورہ قرآنی اسلوب سے واضح ہوا کہ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام نے جہاں از خود اپنی بشریت بیان فرمائی، وہاں محض بشر نہیں کہا، بلکہ کسی امتیازی وصف کا بھی ذکر فرمایا اور قرآنِ کریم نے بھی اسی امتیازی وصف ( وصفِ رسالت اور وحیِ الٰہی) کے ساتھ اس کو حکایت کیا، لیکن جہاں کسی امتیازی وصف کے بغیر محض بشر کہا گیا، تو وہ کفار کے رویے کو حکایت کیا گیا ہے، معلوم ہوا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جیسا بشر کہنا اہل ایمان کا طریقہ نہیں، کفار کاطریقہ ہے، لہٰذا جو انبیائے کرام علیہم السلام کی بشریت بیان کرے، اس پر لازم ہے کہ کسی ایسے وصف یا قید کا اضافہ کرے جس سے بشریتِ محضہ کاوہم ختم ہو اور کفار کے طریقہ سے اجتناب ہو، مثلاً یہ الفاظ استعمال کرے: افضل البشر، سید البشر، خیر البشر، وغیرہ۔
٭... ہمیشہ سے پوری اُمت کا یہی موقف رہا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہماری طرح بشر نہیں، بلکہ بے مثل بشر ہیں، چنانچہ جن آیات میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرمایا گیا کہ آپ کہیےکہ میں تمہاری مثل بشر ہوں، ان میں مماثلت سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت مفسرینِ امت اور علمائے دین کے اقوال کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے:
چنانچہ عبدالكريم قشیری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 465ھ) لکھتے ہیں: ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ (الكهف: 110): أخبر أنّك لهم من حيث الصورة والجنسية مشاكل، والفرق بينك وبينهم تخصيص اللہ سبحانه إياك بالرسالة، وتركه إياهم في الجهالة“ ترجمہ: اے نبی! لوگوں کو خبر دو کہ تم صورت وجنس کے اعتبار سے تو لوگوں کی طرح ہو، جبکہ آپ اور ان کے درمیان فرق ہے کہ اللہ نے آپ کو رسالت کے ساتھ خاص فرمایا اور انہیں جہالت میں چھوڑ دیا۔ ( تفسیر قشیری، ج 2، ص 417، مطبوعہ مصر)
امام محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 505ھ) لکھتےہیں: النبي إذا شارك الناس في البشرية والانسانية في الصورة فقد باينهم من حيث المعنى؛ إذ بشريته فوق بشرية الناس لاستعداد بشريته لقبول الوحي. ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ أشار إلى طرف من المشابهة من حيث الصورة ﴿یُوْحٰۤى اِلَیَّ﴾ أشار إلى طرف المباينة من حيث المعنى“ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بشریت وانسانیت میں تو صورتاً لوگوں سے مشارکت رکھتے ہیں، لیکن معنًا ان سے مختلف ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بشریت لوگوں کی بشریت پر فوقیت رکھتی ہے، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت میں قبولِ وحی کی استعداد اورصلاحیت ہے۔ ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾ سے صورتاً مشابہت کی طرف اشارہ فرمایا اور ﴿یُوْحٰۤى اِلَیَّ﴾ سے من حیث المعنی فرق ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔ (معارج القدس، ص 132، مطبوعہ دارالآفاق، بیروت)
اسی طرح علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے أنوار القرآن وأسرار الفرقان میں، علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تفسیر مظہری میں، علامہ محمود آلوسی بغدادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تفسیرروح المعانی میں، علامہ ابنِ حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فتح الباری میں اور قاضی عیاض مالکی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افضل البشر اور بے مثل ہونے پر بڑی نفیس اور عمدہ گفتگو فرمائی ہے۔
بغور دیکھئے کہ علمائے امت نے کس طرح صورت وجنس میں ظاہراً مماثلت کو بیان کرنے کے بعد عام لوگوں اور نبی کے درمیان فرق کو بھی واضح فرما یا۔ اور کس قدر اچھوتے انداز میں جہتِ مماثلت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ جہتِ امتیاز بھی بیان فرمائی۔ بس یہی وہ انداز ہے جو بے ادبوں میں مفقود اور پاک طینت علمائے کرام میں موجود ہے۔
٭...قرآنِ مجید میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ فرما دیجیے میں تمہاری مثل بشر ہوں۔ وہاں کفار کو جواب دینے کے لیے فرمایا کہ کفار سے فرمائیے کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں، یعنی خدا یا فرشتہ نہیں ہوں۔ ایمان والوں کو اس طرح کہنے کا حکم نہیں دیا۔
چنانچہ آیتِ مبارکہ ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ﴾ کے تحت تفسیرِ طبری میں ہے: قل يا محمد لهؤلاء المعرضين عن آيات اللہ من قومك: أيها القوم، ما أنا إلا بشر من بني آدم مثلكم في الجنس والصورة والهيئة لست بمَلك ﴿یُوْحٰۤى اِلَیَّ﴾ يوحي اللہ إلى“ ترجمہ: یعنی اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی آیات سے منہ موڑنے والی اپنی قوم سے فرمائیے کہ اے قوم !میں بھی جنس اور شکل و صورت میں تمہاری طرح آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں ہوں، ہاں مجھے اللہ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔ (تفسیر طبری، ج 21، ص 429، مطبوعہ دار التربیۃ)
مسلمانوں کے متعلق کیا تعلیم فرمائی؟ تو قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلند پایامقام و مرتبہ اور انفرادی و امتیازی شان بیان کر کے آداب بجا لانے کا حکم دیا اور واضح فرما دیا کہ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو اپنے جیسا سمجھ کر بات کرتے ہو، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق وہ الفاظ اور لب و لہجہ بھی کبھی استعمال نہ کرنا، چنانچہ آدابِ مصطفیٰ کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو ،جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔ (سورۃ النور، آیت 63)
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی مسلمانوں سے کبھی نہیں فرمایا کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں، بلکہ انہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی میرے جیسا نہیں ہو سکتا، چنانچہ صومِ وصال سے منع کرتے ہوئے فرمایا: أيكم مثلي، إني أبيت يطعمني ربي و يسقين“ یعنی: تم میں سے میرے جیسا کون ہے؟ میں اپنے رب کے ہاں رات بسر کرتا ہوں، وہ مجھے کھلاتا بھی ہے، پلاتا بھی ہے۔ (صحیح بخاری، ج 8، ص 174، طبع دمشق)
دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: إني لست كأحدكم، إني أبيت يطعمني ربي ويسقيني“ یعنی: میں تم جیسا نہیں ہوں۔ ۔ الخ۔ (مسند احمد، ج 12، ص 166، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)
بلاعذر بیٹھ کر نفل پڑھنے کا ثواب آدھا بیان کرنے کے بعد فرمایا: لكني لست كأحد منكم“ یعنی: لیکن میں تمہاری مثل نہیں ہوں ( یعنی مجھے مکمل ثواب ہی ملتا ہے)۔ (صحیح مسلم، ج 2، ص 165، مطبوعہ ترکیا)
معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو ہرگز یہ روا نہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جیسا بشر سمجھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بلند و بالا شانوں کو پسِ پشت ڈال کر ظاہری بشریت کو بنیاد بنا کر آپ کو اپنے جیسا بشر کہنا شروع کر دیں۔
٭...مزید یہ کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو حکم دیا گیا کہ آپ فرمائیے کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں، یہ چند حکمتوں کے پیشِ نظر تھا، مثلاً:
(1) چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سراپا معجزہ ہستی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے اُمور کا صدور ہوتا رہتا تھا جو عام انسان سے عادتاً محال ہوتے ہیں، تو ممکن تھا کہ لوگ احساسِ اجنبیت کی بنا پر آپ سے اس طرح مانوس نہ ہوتے اور کما حقہ اکتسابِ فیض نہ کر پاتے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! آپ اپنی بشریت کا اعلان کیجیے تاکہ مخلوقِ خدا آپ کو اپنی جنس یعنی انسان سمجھتے ہوئے آپ سے مانوس ہو اور آپ سے اکتسابِ فیض کر سکے۔
(2) سابقہ ادیان میں لوگوں نے اپنے نبی علیہ السلام کے معجزات دیکھ کر انہیں خدا یا خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا تھا، جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کو ان کی امت نے مُردے زندہ کرتے اور بیماروں کو شفا دیتے دیکھا، تو انہیں خدا اور خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا، حضرت عزیر علیہ السلام سو سال آرام فرمانے کے بعد جب اپنی قوم میں تشریف لائے، تو یہود نے انہیں خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا۔ تو خوف تھا کہ کہیں لوگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چاند کے ٹکڑے کرنا، سورج کو واپس بلانا، انگلیوں سے چشمے جاری کرنا، بیماروں کو شفا دینا وغیرہ بے شمار معجزات دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدا یا خدا کا بیٹا کہنا شروع نہ کر دیں، اس لیے سدِّ باب کے طور پرتعلیم فرمائی گئی کہ اے حبیب! اعلان کیجیے کہ میں بھی تم جیسا بشر ہوں، خدا یا خدا کا بیٹا نہیں ہوں۔
(3) ایک حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عاجزی کی تعلیم ارشاد فرمائی، جیساکہ مذکورہ آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں سید المفسرین حضرت عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو تواضع کی تعلیم ارشاد فرمائی کہ آپ فرمائیں کہ جیسے تم انسان ہو اسی طرح میں بھی انسان ہوں، البتہ مجھے تم لوگوں پر یہ خصوصیت حاصل ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے۔
چنانچہ تفسیرِ بسیط، بغوی، قرطبی، خازن وغیرہا میں ہے: قال ابن عباس: علم اللہ رسوله التواضع لئلا يزهو على خلقه. و هذا أمر من اللہ لرسوله بأن يقر على نفسه بأنه آدمي كغيره، إلا أنه أكرم بالوحي“ مفہوم بیان ہو چکا۔ (التفسیر البسیط، ج 14، ص 175، مطبوعہ عمادۃ البحث العلمی)
اور محبوبانِ بارگاہِ الٰہی اور اصحابِ فضل وکمال اپنے لیے جو کلمات بطورِ عاجزی استعمال کرتے ہیں، دوسروں کے لئے ہرگز ہرگز روا نہیں ہوتا کہ وہ بھی ان کے لیے وہی کلمات استعمال کریں۔ لہٰذا اگرچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری اور تواضع کےطور پر یا دیگر حکمتوں کے پیشِ نظر اپنے آپ کو عام انسانوں کی طرح بشر فرمایا ہے، لیکن ہم امتیوں کے لیے کسی صورت جائز نہیں کہ ہم بھی وہی الفاظ استعمال کرتے ہوئے مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جیسا بشر کہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا کہ زیدکہتا ہے جب قرآن میں (قل انما انا بشر مثلکم) ہے، تو ہم بھی آپ کو اپنے جیسا بشر کہہ سکتے ہیں، جبکہ عمرو کہتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے جیسا بشر کہنا ہر گز جائز نہیں۔ کس کی بات درست ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے فرمایا: (کافر) انبیاء علیہم السلام کو اپنا سا بشر مانتے تھے ۔ ۔ ۔ لیکن اِن سے زیادہ دل کے اندھے وہ (ہیں جو) کہ وحی ونبوت کا اقرار کریں اور پھر انہیں ( یعنی انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو) اپنا ہی سا بشر جانیں، زید کو ’’قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ‘‘ سوجھا اور ’’یُوْحٰۤى اِلَیَّ‘‘ نہ سوجھا جو غیر متناہی (لامحدود) فرق ظاہر کرتا ہے، زید نے اتناہی ٹکڑا لیا جوکافر لیتے تھے، انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کی بشریت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی ملکیت سے اعلیٰ ہے، وہ ظاہری صورت میں ظاہر بینوں کی آنکھوں میں بشریت رکھتے ہیں، جس سے مقصود خلق کا اِن سے اُنس حاصل کرنا اور ان سے فیض پانا (ہے) ولہٰذا ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ﴾(انعام: ۹) اور اگرہم فرشتے کو رسول کرکے بھیجتے تو ضرور اسے مرد ہی کی شکل میں بھیجتے اور ضرور انہیں اسی شبہ میں رکھتے جس دھوکے میں اب ہیں۔ (اس سے) ظاہر ہوا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کی ظاہری صورت دیکھ کر انھیں اوروں کی مثل سمجھنا ان کی بشریت کو اپنا سا جاننا، ظاہر بینوں (اور) کور باطنوں کا دھوکا ہے (اور) یہ شیطان کے دھوکے میں پڑے ہیں۔ ان کا کھانا پینا سونا یہ افعالِ بشری اس لئے نہیں کہ وہ ان کےمحتاج ہیں، حاشا (یعنی ہر گز نہیں، آپ تو ارشاد فرماتے ہیں) لست کاحدکم انی ابیت عندربی یطمعنی ویسقینی‘‘ میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات بسرکرتاہوں وہ مجھے کھلاتابھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ (بلکہ) ان کے یہ افعال بھی اقامتِ سنت و تعلیمِ امت کے لئے تھے کہ ہر بات میں طریقۂ محمودہ لوگوں کو عملی طور سے دکھائیں۔ ۔ ۔ عمرو نے سچ کہا کہ یہ قول ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی طرف سے نہ فرمایا، بلکہ اس کے فرمانے پر مامور ہوئے، جس کی حکمت تعلیمِ تواضع، و تانیسِ اُمت، و سدِ غلو نصرانیت (یعنی عاجزی کی تعلیم،امت کے لئے اُنسیت کا حصول اور عیسائیوں کی طرح حد سے بڑھنے سے روکنا) ہے، اول، دوم ظاہر، اور سوم یہ کہ مسیح علیہ السلام کو ان کی امت نے ان کے فضائل پر خدا اور خدا کا بیٹا کہا، پھر فضائل محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ و السلام کی عظمت شان کا اندازہ کون کرسکتا ہے، یہاں اس غلو کے سدِباب کے لئے تعلیم فرمائی گئی کہ کہومیں تم جیسا بشرہوں خدا یا خدا کابیٹا نہیں، ہاں ”یُوْحٰۤى اِلَیَّ“ رسول ہوں، دفعِ اِفراطِ نصرانیت کے لئے پہلا کلمہ تھا اور دفعِ تفریط ابلیسیَّت کے لئے دوسرا کلمہ، اسی کی نظیر ہے جو دوسری جگہ ارشادہوا: ﴿قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا﴾ تم فرمادو پاکی ہے میرے رب کومیں خدا نہیں، میں تو انسان رسول ہوں۔ اِنہیں دونوں کے دفع کو کلمہ ٔ شہادت میں دونوں لفظِ کریم جمع فرمائے گئے ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہْ‘‘ میں اعلان کرتا ہوں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ بندے ہیں خدا نہیں، رسول ہیں خدا سے جدا نہیں، شیطنت اس کی کہ دوسرا کلمہ امتیازِ اعلیٰ چھوڑ کرپہلے کلمہ تواضع پر اِقتصار کرے۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 662 تا 665، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10061
تاریخ اجراء: 08 محرم الحرام 1448ھ / 24 جون 2026ء