logo logo
AI Search

دادی کا دودھ پینے کے بعد ان کی نواسی یا پوتی سے نکاح

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دادی کا دودھ پینے سے دادی کی نواسیاں اور پوتیاں حرام ہوجاتی ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر زید اپنی دادی کا دودھ پی لے تو کیا وہ اپنی پھوپیوں کی لڑکیوں اور چچا کی لڑکیوں سے نکاح کرسکتا ہے ؟

جواب

اگر زید نے اپنی دادی کا دودھ مدتِ رضاعت میں (یعنی چاند کی تاریخ کے اعتبار سے اڑھائی سال کے اندر اندر) پیا ہے، تو ایسی صورت میں زید کا اپنی پھوپھو کی بیٹیوں اور چچا کی بیٹیوں سے نکاح کرنا، ناجائز و حرام ہے۔ اس میں تفصیل یہ ہے کہ:
 جب زیدنے مدتِ رضاعت میں اپنی دادی کا دودھ پیا ہے، تو دودھ پینے والے (زید) کی پھوپھو زید کی رضاعی بہن بھی بن گئی، اور پھوپھو کی بیٹیاں زید کی رضاعی بھانجیاں بن گئیں، یونہی دودھ پینے والے(زید) کا چچا زید کا رضاعی بھائی بھی بن گیا، اور چچا کی بیٹیاں زید کی رضاعی بھتیجیاں ہوئیں، اور جس طرح سگی بھتیجیوں، بھانجیوں سے نکاح کرنا، ناجائز وحرام ہے، اسی طرح رضاعی بھتیجیوں، بھانجیوں سے بھی نکاح کرنا، ناجائز و حرام ہے، کیونکہ رضاعت کی وجہ سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
نوٹ: شرعی طور پر اسلامی اعتبار سے دو سال کے بعد بچے کو دودھ پلانا جائز نہیں ہے، لیکن اگر کسی نے بچے کی عمر اڑھائی سال ہونے سے پہلے پہلے دودھ پلا دیا، تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔
جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے، ان کو بیان کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (بھی حرام کی گئی ہیں)۔ (پارہ 04، سورۃ النسآء، آیت نمبر 23)
تنویر الابصار میں علامہ تمرتاشی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رضاعت کی تعریف ومدت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”الرضاع هو مص من ثدي آدمية في وقت مخصوص حولان ونصف عنده وحولان عندهما وهو الأصح“ ترجمہ: مخصوص مدت میں  عورت کا پستان چوسنا رضاعت ہے، (وہ  مدت) امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک اڑھائی سال ہے، جبکہ صاحبین رحمۃ اللہ تعالی علیہما کےنزدیک دو سال ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 4، صفحہ 386، مطبوعہ: کوئٹہ)
اگرچہ دوسال کےبعد دودھ پلانا جائز نہیں، لیکن اڑھائی سال تک دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جائے گی، جیسا کہ کنز الدقائق میں ہے ”وحرم به وإن قل في ثلاثين شهرا ما حرم بالنسب“ ترجمہ: اڑھائی سال کے اندر اندر دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہو جائیں گے، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں، اگرچہ تھوڑا سا دودھ پیا ہو۔ (کنز الدقائق، صفحہ 111، مکتبہ امام احمد رضا، راولپنڈی) 
امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”فالأحوط أن يعمل بقولهما في الفطام وبقوله في التحريم عملا بالاحتياط في الموضعين“ ترجمہ: پس زیادہ احتیاط یہی ہے کہ دودھ چھڑانے میں امام ابو یوسف و امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کے قول پر عمل کیا جائے، اور تحریم (حرمت رضاعت ثابت ہونے) کے مسئلے میں امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول پر عمل کیا جائے؛ تاکہ دونوں مواقع میں احتیاط پر عمل ہو جائے۔ (جد الممتار علی رد المحتار، کتاب النکاح، باب الرضاع، ج 4، ص 657، مکتبة المدینه، کراچی)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے لیے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلا دے گی، حرمت نکاح ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا تو حرمت نکاح نہیں، اگرچہ پلانا جائز نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 36، مکتبة المدینہ، کراچی)
جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ حرمت رضاعت ثابت ہونے کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب“ ترجمہ: جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں، وہ رضاعت (دودھ کے رشتے کی وجہ) سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الشہادات، صفحہ 480، رقم الحدیث 2645، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
تبیین الحقائق، جوہرہ نیرہ اور بدائع الصنائع میں ہے (واللفظ للآخر): ”وكذا بنات بناتها وبنات أبنائها وإن سفلن لأنهن بنات أخ المرضع وأخته من الرضاعة وهن يحرمن من النسب كذا من الرضاعة“ ترجمہ: اور اسی طرح (حرام ہیں) اس (دودھ پلانے والی) کی بیٹیوں کی بیٹیاں اور اس (دودھ پلانے والی) کے بیٹوں کی بیٹیاں اگرچہ نیچے والے طبقے میں ہوں، کیونکہ وہ اس دودھ پینے والے کے رضاعی بھائی، بہن کی بیٹیاں ہیں، اور یہ نسب سے بھی حرام ہوتی ہیں، تو اسی طرح رضاعت سے بھی حرام ہیں۔ (بدا ئع الصنائع، جلد 3، صفحہ 396، مطبوعہ :کوئٹہ)
فتاوٰی رضویہ میں ہے ”بھانجا بھانجی، بھتیجا بھتیجی نسب سے حرام ہیں یا نہیں؟ ضرور ہیں، تو دودھ سے بھی قطعا حرام ہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ ،جلد 11، صفحہ 491، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی اعظم ہند، قبلہ مصطفی رضا خان صاحب علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر احمد بخش کے جوف میں اس کی نانی کا دودھ پینے سے ایک بار بھی پہنچ گیا تو حرمتِ رضاعت کے لیے کافی ہے۔ احمد بخش، احمد علی کی لڑکی شافیہ (یعنی نانی کی پوتی) کا چچا ہوا۔ وہ اس کی بھتیجی۔ چچا بھتیجی کا نکاح حرام ۔ “ (فتاوی مصطفویہ، صفحہ 342، شبّیر برادرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5374
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1448ھ/03 ستمبر 2026ء